
نگہت پروین
عبداللہ گھر سے باہر اپنےننھےدوستوں کے ساتھ پارک میں کھیل رہا تھاکچھ دیرپہلے ہی اس کی ماما اسے کھیلنےکےلیےگھرکےسامنے پارک
میں چھوڑکرآئی تھی کہ دشمن اسرائیل نےان کے گھرسمیت بلڈنگ پر بم برسا دیے اورتمام عمارتیں لمحوں میں زمیں بوس ہو گئیں اور اس میں رہنے والے بھی اسی مٹی تلے دب گئے۔
بم کی آواز اور دھواں دیکھ کر بچےاپنےاپنےگھربھاگے۔عبداللہ بھی روتا ہواماما ،ماما ،ماما کہتا ہوا بھاگ رہا تھا مگر انسانیت کے دشمن ،سفاک قاتل اسرائیل کی اس بمباری نے عبداللہ کی گرم گود اس کی انکھوں کی ٹھنڈک اس کی ماں چھین لی مگرغزہ کی ماؤں نے اپنے بچوں کو القدس کی آزادی تک شہادت کا سبق ازبر کروایا ہے، آج کا یہ چھوٹا بچہ کل غزہ کا بہادر اور جانثار مجاہد بنے گا ۔
اسی خوف سے لرزاں یہ اسرائیلی عورتوں اور خصوصا ًبچوں کو اپنے بموں کا نشانہ بناتے ہیں مگروہ یہ آواز کہ ہماری زندگی کا مقصد القدس کی آزادی ہے ،دبا نہیں سکیں گے ۔ ان شااللہ




































