
(سو سال بعد کا وقت)
عصمت اسامہ
" شمس ،اٹھ جاؤ، شمس اٹھ جاؤ،شمس اٹھ جاؤ"شمس کے کمرےمیں نصب آٹومیٹک سسٹم اسےجگا رہا تھا لیکن وہ اتنی گہری نیند میں تھا کہ اسے کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ بدستور ساکت پڑا رہا تو کچھ منٹ کے لئے کمرے میں خاموشی چھاگئی۔ آٹو میٹک سسٹم خاموشی سے جائزہ لے رہا تھا کہ کیا اسے اگلا مرحلہ شروع کردینا چاہیے؟ ٹھیک پانچ منٹ کے بعد اس کا بیڈ وائبریٹ ہونا شروع ہوگیا ،اب اس کی حرکت میں تیزی آرہی تھی۔
" کیا مصیبت ہے یار؟" شمس کی غنودہ سی آواز ابھری اور پھر وہ اٹھ کے بیٹھ گیا۔
" میں آپ کا یار نہیں ہوں ،اس کمرے کا آٹو میٹک سسٹم ہوں ،اگر آپ تین سیکنڈ تک بستر سےنیچے نہ اترے تو آپ کی چھت سے بستر پر بارش برسنا شروع ہو جائے گی لہذا فورا" واش روم چلے جائیں" ۔
سسٹم نے شمس کی آواز سن کے کہا۔
" اوکے ، میں جارہا ہوں" شمس نے جھنجھلائے ہوۓ لہجے میں کہا۔
" اگر آپ اٹھ چکے ہیں تو ناشتے کا مینیو آرڈر کرنے کا بٹن دبائیں یہ ناشتہ پانچ منٹ میں آجاۓ گا لیکن اگر آپ پانچ منٹ تک واش روم سے باہر نہ آۓ تو ناشتہ واپس چلا جاۓ گا" سسٹم نے وارننگ دی۔
" اچھا ،بس کر ،میرے باپ! " شمس جلدی سے بیڈ کے کنارے لگا ہوا بٹن دباتےہوئے واش روم چلا گیا ۔
" میں آپ کا باپ نہیں ہوں شمس، آپ کے والد تین سال پہلے وفات پاچکے ہیں جب ایٹمی جنگ ہوئی تھی ،آپ اس وقت چھ سال کے بچے تھے".اسے واش روم میں بھی سسٹم کی آواز سنائی دی تو اس نے بے اختیار کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں۔
شمس باہر آیا تو ایک ٹیبل پر اس کا ناشتہ ٹرے میں رکھا ہوا تھا ،وہ ناشتہ کرنے لگا، اس کے کمرے کی کھڑکیوں کے پردے خود بخود سائیڈ پر ہوچکے تھے ۔ اس نے ہاتھ کا اشارہ کیا ،ہولوگرام ٹیکنالوجی سے اس کے بڑے بھائی کی شبیہ فضا میں نظر آنے لگی۔
" بھائی ،کدھر ہوتم ؟ میں اکیلا بور ہورہا ہوں ،آجاؤ کچھ دیر کے لئے" شمس نے اپنے بڑے بھائی سے مخاطب ہوکر کہا ۔
" میں دوسرے سیارے پر بیٹھا ہوں بیٹا ،ابھی کچھ دیر میں بزنس میٹنگ شروع ہونے والی ہے ،میں کل آسکوں گا" بڑے بھائی نے مختصر جواب دے کر رابطہ منقطع کردیا۔ اب شمس تھا اور اس کی تنہائی تھی۔ کمرے میں جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہر نعمت میسر تھی مگر انسان میسر نہیں تھا۔ کرہء ارض ایٹمی جنگ کی بدولت تباہ ہوچکا تھا اور وہ دنیا کے چند امیر و کبیر گھرانوں کے ساتھ سیارہ ء مریخ کا رہائشی تھا ،جہاں سب کچھ تھا لیکن قدرتی ماحول، مٹی کی خوشبو ،درخت،پھول اور انسانوں کی صحبت موجود نہ تھی۔





































