
عصمت اسامہ
چند روزکی ہی بات ہےکہ پاکستان نے بھارت سےجنگ جیت کے دنیا بھرمیں نیک نامی حاصل کی،امت کا اعتماد بحال کیا ،دوست ممالک
پاکستان سے جنگی مہارت حاصل کرنے کے خواہاں ہوئےاورسرمایہ کاری کےنئےمرحلےکاآغازہوگیا تھا لیکن یہ کامیابی کفار کو ایک آنکھ نہیں بھائی۔ بلوچستان میں فتنہ الخوارج نے بدامنی وانتشار برپا کردیا،جعفر ایکسپریس پر دوسری بار حملہ ہوا اور کچھ دنوں سے آزاد کشمیر میں ملک دشمن عناصرعوام اوراداروں کو آپس میں لڑوانےکےلئےسڑکوں پہ نکل آئے ہیں ۔
یاد رکھنا چاہیے کہ سیاسی نظریات مختلف ہوسکتے ہیں لیکن ریاست پاکستان سےاختلاف جائزنہیں ہےجولوگ آزاد کشمیر کو پاکستان سے الگ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی افواج کو وہاں سے چلے جانے کا کہہ رہے ہیں وہ کبھی پاکستان کے دوست نہیں ہوسکتے۔ مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کی جو صورت حال ہے،کیا وہ چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں سول نافرمانی کرواکے دشمن کے حملہ آور ہونے کے لئےاسی طرح میدان کھلا چھوڑ دیا جائے؟
سب محب وطن عناصرکووطن عزیز کےمفاد کےتحفظ کی خاطراحساس کرنے،اہنی صفوں میں اتحاد پیداکرنےکی ضرورت ہے۔احادیث کی کتب کے مطابق آنے والے وقت میں " ملحمۃ الکبریٰ" اور "غزوہء ہند"لڑنے کےلئےتیاری کی ضرورت ہے۔ رنگ ،نسل ،علاقے کے تعصبات سے بالاتر ہوکر قدرمشترک یعنی کلمہء طیبہ پر اکٹھے ہونے کا وقت ہے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ "ڈیوائیڈ اینڈ رول "صدیوں سےکفارکی پالیسی رہا ہے۔یہ مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ابھی تو آپ نے اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے ساتھ کشمیر و فلسطین کی خاطر جہاد بھی کرنا ہے
بقول علامہ محمد اقبال
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابخاک کاشغر





































