
عصمت اسامہ
یہ نوجوان صحافی ہروقت غزہ کےواقعات کی کوریج کرکےاپنےفرائض منصبی کو نبھانے میں لگا رہتا مگر اس کی ایک خاص خوبی یہ بھی تھی
کہ کٹھن حالات میں بھی ایک مسکراہٹ چہرےپرموجود رہتی،حوصلہ بلنداوردوسروں کوبھی اس کی امید افزاءرپورٹنگ سےمورال ہائی رکھنے میں کمک ملتی۔ اس کے بھائی کا نام ان قیدیوں میں تھا جنھیں کل از راہیلی قید سے نجات ملنا تھی۔ یہ بہت خوش تھا کہ اپنے بھائی سے ملاقات کرے گا لیکن اسے چند لوگوں نے اغوا کرلیا اورپھر اس کی شہادت کی خبر آگئی۔ کہا جاتا ہے کہ لوگ اسے حماس کا بندہ کہتے تھے اور یہ صیہونیوں کی ہٹ لسٹ پر تھا۔
صالح تو چلا گیا مگراس کےافکارباقی رہیں گے،اس کی موٹیویشنل ویڈیوزمیدان میں موجود قلم کاروں کے لئےنشان منزل بنیں گی،اس کے بلند آہنگ نشید اس کےقلب جری کی گواہی دیتے رہیں گے!
اور ہاں ، ہم نے تو سنا تھا کہ غزہ میں جنگ بند ہوگئی ہے ؟؟
مگر نہیں صیہونی فوج کےآلہء کار اب بھی وہاں موجود ہیں۔
صالح کی مظلومانہ شہادت سےاس جنگ بندی کا راز بھی کھل گیا
~ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے ،اس جاں کی توکوئی بات نہیں!
رب کریم میدان میں موجود دیوانوں کی نصرت و حفاظت فرمائے آمین ۔
صالح الجعفراوي شہید کے جنگ بندی کےاعلان کے بعد آخری پیغامات :
"تمہیں ایک ملین سال لگیں گے تب بھی فلسطینی عوام کی ارادہ کو توڑ نہیں پاؤ گے، اور نہ ہی اسے توڑ سکو گے۔"
"بہت سے لوگ موجودہ حالات اور زبردست تباہی پر، اور سینکڑوں شہداء اور ان کے اہل خانہ پر غمگین ہیں، لیکن ہم ایک ایسی قوم ہیں جو زندگی سے محبت کرتے ہیں اور اس کے مستحق ہیں لوگ رسمی تعمیر سے پہلے ہی دوبارہ تعمیر شروع کر چکے ہیں۔"
" ہر شخص، ہر ادارے اور ہر قوم کا شکریہ خاص طور پر وہ جو جنگ کے دوران ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔





































