
( چند غور طلب پہلو)
عصمت اسامہ
کوئی بھی اجتماعی نوعیت کا کام ایک منظم اور مؤثر تنظیم کا متقاضی ہوتا ہے۔ تنظیم میں ایک نظم وضبط تو ہوتا ہی ہے مگر اس کے ساتھ ایک قوت_جاذبہ کا
ہونا بھی ضروری ہے تاکہ سب حصے باہم وابستہ ہوکر بہتر انداز سے کام کرسکیں اور کسی قسم کا ابہام یا خلا بھی پیدا نہ ہو۔
~جذب_باہم جو نہیں محفلِ انجم بھی نہیں!
مستقبل کی لیڈرشپ کی تیاری
ایک بہترین تنظیم میں بنیادی اہمیت قیادت کی تیاری و تربیت کی ہوتی ہے جس نے سارے نظام کو چلانا ہوتا ہے۔ ایک بہترین تنظیم کارکن سازی پر توجہ تو دیتی ہی ہے لیکن اس کا بڑا ھدف "مستقبل کے قائدین' کی تیاری ہوتا ہے جو کہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔ قیادت ایسی ہو جو قابلیت و صلاحیت کے ساتھ روحانی بصیرت سے بھی بہرہ مند ہو ، زمینی حقائق کو ہرکھ سکے ،انسانی نفسیات سے بھی واقف ہو (کیوں کہ انسان اور روبوٹ میں فرق ہوتا ہے۔ انسان سے کوئی کام لینے کے لیے صرف حکم دے دینا کافی نہیں ہوتا) ضروری ہے کہ یہ کام تقدیر پر نہ چھوڑا جاۓ کہ خود بخود ہی کوئی راہنما ابھر کر سامنے آجاۓ گا بلکہ لیڈرشپ تیار کرنے کا جامع منصوبہ اور نظام بنایا جاۓ۔ حال ہی میں طوفان الاقصیٰ کے دوران ہم نے دیکھا کہ صیہونیوں نے ایک منظم سازش کے تحت حماس کی لیڈرشپ کو تاک تاک کے نشانہ بنایا اور انھیں شہید کردیا۔اس سے قبل مقبوضہ کشمیر میں یہی بہیمانہ کام بھارت نے کیا۔ مذید برآں ،انفارمیشن ٹیکنالوجی کے دور میں قیادت کے بارے میں شکوک پیدا کرنا،افواہیں اڑانا، قیادت پر ظاہری و باطنی حملے کرنا دشمن کے نفسیاتی حربے ہیں جن کا توڑ سوچنا چاہئیے۔ ایک اور خطرہ قیادت کے گرد جی حضوری چمچوں کے ہجوم کا ہونا ہے جو قیادت تک اصل مسائل کو پہنچنے ہی نہیں دیتے۔آغاز آفرینش ہی سے ابلیس کا وطیرہ رہا ہے کہ اپنے سے بلند درجہ پر فائز انسان کی بڑائی کو تسلیم نہیں کرتا،اس لئے حضرت آدم علیہ السلام کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا۔ مرکزی قیادت ان خطرات سے باخبر رہے۔
~ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا!
واضح ، مخصوص اور بروقت اہداف
جس مقصد کے حصول کی خاطر تنظیم بنائی جاتی ہے ،اسے اولین ترجیح دی جاۓ۔ بنیادی اور ذیلی اھداف مقرر کئے جائیں اور وقت و حالات کے چیلنجوں کا خاطر خواہ ادراک بھی ہو تاکہ درست وقت پر صحیح قدم اٹھایا جاسکے۔کسی ھدف کو آگے پیچھے کرنا پڑے تو کیا جاسکے ۔لکیر کے فقیر نہ بنے رہیں۔ بعض اوقات ہمارا ھدف بیس سال پہلے کا طے شدہ ہوتا ہے مگر زمانہ اس سے آگے بڑھ چکا ہوتا ہے ۔ مؤثر اور فعال تنظیم وہی ہوسکتی ہے جو اتنی لچک دار بھی ہو کہ جدید وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو بھی بدلنے کی تخلیقی صلاحیت رکھتی ہو۔
جدید ٹیکنالوجی اور ٹولز کا مؤثر استعمال:
جدید تنظیم سوشل میڈیا ،ڈیجیٹل ٹولز، مصنوعی ذہانت (اے آئی)، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، اور ڈیٹا اینالیٹکس کو بروئے کار لاتی ہے تاکہ بہتر انداز سے نتائج کا تجزیہ کیا جاسکے اور آئندہ کی منصوبہ بندی میں بھی ممد و معاون ثابت ہو تاہم اعدادوشمار کے ساتھ کیفیت جاننا بھی ناگزیر ہوتا ہے۔کچھ استثنائی معاملات بھی ہوتے ہیں جہاں وقت کو رعایت دینا پڑتی ہے۔
اختراعی سوچ اورتخلیقیت پسندی
کسی بھی سمارٹ تنظیم میں تخلیقیت اور اختراعیت کو فروغ دیا جاتا ہے۔کام کو انجام دینے کے نئے طریقے اور راہیں سوچی جائیں۔ اگر پروفیشنل لوگ ہائر بھی کرنے پڑیں تو کئے جائیں۔ ہم عصر تنظیموں سے بھی سیکھا جاۓ۔
آئین_نو سے ڈرنا ،طرز_ کہن پہ اڑنا
منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں
- کارکنان سے حسنِ سلوک اور حوصلہ افزائی
کارکنان کی پیشہ ورانہ تربیت ترقی و نشونما کا بھرپور خیال رکھا جاۓ۔کام کرنے کا خوش گوار ماحول پیدا کیا جاۓ جہاں ہر کوئی اپنے فرائض کو بحسن و خوبی ادا کرسکے۔ نیز ذمہ داریوں کا واضح تعین ہو تاکہ کوئی کسی دوسرے کے کام میں رکاوٹ نہ ڈال سکے۔اگر کوئی اپنی زمہ داری کو احسن انداز سے سر انجام دیتا ہے یا کچھ زائد امور بھی آگے بڑھ کے کرتا ہے تو یہ نیکیوں میں سبقت لے جانے والی بات ہے۔ اس کی توہین نہ کی جاۓ کہ ہم نے یہ کام نہیں کہے تھے،آپ نے اپنی مرضی سے کیے ہیں۔( جو کہ ایک عمومی رویہ ہے).
حق پرستی بھی اک کار_ محبت ہے جہاں
ایک قدم حد سے گزر جاؤ تو باطل ہوجاؤ ؟
قیادت کی جانب سے انسانوں کو خوش خبری سنانا ، اسناد و انعامات یا صرف زبانی حوصلہ افزائی بھی تنظیم میں جان ڈال دیتی ہے۔ آخر رب العالمین نے بھی تو نیک اعمال کی خاطر محنت کرنے والوں کو جنت کی بشارت دی ہے تو ہم دنیاوی اھداف کے حصول کی خاطر مادی انعامات کیوں نہیں رکھ سکتے؟ بہترین پرفارمینس پر کوئی تقریب منعقد کرکے ان کارکنان کو شاباش کیوں نہیں دے سکتے جو مستقل مزاجی سے کئی برس سے ہمارے ساتھ ہیں؟.
موثر ابلاغ ،افہام اور مشورہ کی اہمیت
تنظیم کو متحرک رکھنےکےلئے جہاں اچھی قوت_فیصلہ کا ہونا ضروری ہے ،وہیں ٹیم ورک اور اوپن کمیونیکیشن کو ترجیح دی جانی چاہئیے۔آج تک ہم سمجھتے رہے کہ مؤثر ابلاغ کی کمی ہے لیکن موجودہ حالات سے پتہ چلا کہ ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت کی بھی شدید کمی ہے۔ ایک دوسرے کو اسپیس دینا بھی نہیں آتی . اگر کوئی دوسروں سے مختلف راۓ پیش کرتا ہے مگر پالیسی پر کار بند ہے تو اسے مخالف یا دشمن نہیں سمجھنا چاہئے ۔زاویہء نظر کا فرق ہوسکتا ہے۔ ہم نے تاریخ کی کتب میں پڑھا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی نرم مزاجی اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سخت گیری کے باوجود دونوں اپنے دور کے بہترین امیر المومنین تھے۔ اسی طرح ہر عہدہ اور مقام کے ذمہ داران کو بھی اسپیس دینی چاہئیے۔
- ماحول سے ہم آہنگی سماجی ذمہ داری:
ماحول دوست پالیسیوں کو اپنایا جاۓ۔اچھی تنظیم وہ ہوتی ہے جو اپنے ماحول سے مطابقت رکھتی ہو۔ جس کی پہچان سماجی فلاح و بہبود اور کمیونٹی کے لیے مثبت کردار ادا کرنا ہو ۔ جو حکمت و تدبر سے اپنے کام کی خاطر راستے نکالے۔مشترکہ مفاد کی خاطر ،دوسروں سے تعاون لے سکے اور کہیں کہیں انھیں تعاون دے بھی سکے۔ جس کے دوسری تنظیموں سے بھی اچھے تعلقات ہوں۔جس پر معاشرہ اعتماد کرتا ہو ۔جو ہر وقت تصادم وانتشار پیدا نہ کرتی ہو۔ کبھی کبھار انقلاب کے نعروں سے زیادہ صبر وتحمل سے ارتقاء کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔قوموں کی تقدیریں صدیوں کی محنت سے بدلا کرتی ہیں۔
وہ کوتاہی جو تنظیم کوکمزور کرتی ہے
* لیڈرشپ اور ورکرز میں فاصلہ
کسی تنظیم یا ٹیم میں قیادت اور کارکنان کے درمیان فاصلہ کام کو خراب کرتا ہے۔ یہ مختلف وجوہات کی بنا پر پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ فاصلے اگر وقت پر دور نہ کیے جائیں تو ٹیم کی کارکردگی اور کامیابی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔ درج ذیل وجوہات عام طور پر اس فاصلے کاسبب ہیں
ادھورا اور یک طرفہ ابلاغ
یاد رکھنا چاہیے کہ ابلاغ دو طرفہ بات چیت کو کہتے ہیں، ہر ادارے میں کچھ مڈل مین ایسے ہوتے ہیں جو بادشاہ کے دربان کی طرح عوام کو اس تک پہنچنے نہیں دیتے اور نہ لوگوں کے مسائل کو خود آگے پہنچاتے ہیں۔قیادت اور کارکنوں کے درمیان واضح اور مؤثر رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے غلط فہمیاں جنم لیتی ہیں۔اگر لیڈر صرف حکم دے اور کارکنوں کی رائے نہ سنے، فیڈ بیک نہ لے، ان کے مسائل سے بے خبر ہو ،حالات اور زمینی حقائق کو نہ جانتا ہو تو وہاں نہ صحیح منصوبہ بندی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کام نتیجہ خیز ہوسکتا ہے ۔لیڈرشپ اور ورکرز کے درمیان مضبوط تعلقات کے لئے وقتا" فوقتاً میٹنگز ،اجتماعی کھانے ،آن لائن ،آف لائن کسی پروگرام کا ہونا ضروری ہے۔ لیڈرشپ قوت محرکہ ہوتی ہے جس سے تنظیم قوت پکڑتی ہے ،متحرک ہوتی ہے۔
لیڈرشپ صرف اسٹیج یا اسکرین تک محدود ہوجاۓ ،کارکنان کے بیچ آنے سے کتراۓ۔ اسٹیٹس کانشییس ہوجائےتو پھر نہ صرف باہمی تعلقات کمزور ہو جاتے ہیں بلکہ ٹیم ورک بھی متاثر ہوتا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے دورِ حکومت میں دور دراز علاقوں اور سرحدوں کے امراء و ذمہ داران سے بھی براہ راست رابطہ رکھتے تھے۔ اپنے گورنروں اور سپہ سالاروں سے خط و کتابت کیا کرتے تھے۔کسی مڈل مین کی رپورٹ یا سنی سنائی بات پر فیصلہ نہیں کرتے تھے۔حقائق کا خود جائزہ لیتے تھے۔عوام کی حالت جاننے کے لئے رات کو گلیوں میں گشت کیا کرتے تھے۔
اقربا پروری ،غیر مساوی سلوک
مؤثر تنظیم میں فیصلے کارکردگی اور میرٹ پر ہونے ضروری ہیں۔ خرابی تب پیدا ہوتی ہے جب خاندانی روابط،اقربا پروری یا کسی مخصوص لابی کی سفارش پر فیصلے کئے جائیں۔ اگر لیڈر کسی کی کارکردگی دیکھنے کی بجاۓ کچھ لوگوں کو زیادہ ترجیح دے اور باقیوں کو نظر انداز کردے تو تنظیم میں بداعتمادی اور حسد جنم لیتا ہے۔لوگ بد دل ہوکر خود ہی پیچھے ہوجاتے ہیں۔اقربا پروری اور جانبداری فاصلہ بڑھا دیتی ہے۔
قیادت کا رویہ
سخت گیر، آمرانہ یا بے حس قیادت کارکنوں کو دُور کر دیتی ہے,اگر لیڈر تنہا ہی فیصلے کرے اور متعلقہ ذمہ داران کو شامل نہ کرے، تو لوگ خود کو غیر اہم محسوس کرتے ہیں جس سے تنظیم کمزور ہوتی ہے۔بعض اوقات کسی کی بات سنے بغیر ہی اس کے خلاف فیصلہ دے دیا جاتا ہے جو عدل کے اصولوں کے خلاف ہے۔
ناقص ورک کلچر
اگر تنظیم میں چند طاقت ور گروپس فیصلہ سازی پر حاوی ہو جائیں۔ بےجا دباؤ ، خوف، یا سیاست کا ماحول ہو، ہر جگہ ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچ کے گرانے کا رویہ ہو تو اس سے تنظیم کمزور ہوجاتی ہے۔ عام کارکن اپنی قیادت سے بات کرنے سے کتراتے ہیں۔
دوستانہ اور حوصلہ افزا ماحول کی کمی قیادت اور کارکنوں میں دوری پیدا کرتی ہے۔
غیرحقیقت پسندانہ توقعات
ذمہ دار لیڈر اپنے انسانی وسائل کی حقیقی کیفیت سے باخبر ہوتا ہے۔ اہداف کے لئے افراد کی تیاری بھی اہم ہے۔مسئلہ تب پیدا ہوتا ہےجب قیادت حد سے زیادہ دباؤ ڈالے اور غیر حقیقت پسندانہ اہداف مقرر کرے جن تک پہنچنا ممکن نہ ہو،ایک کام مکمل ہونے سے پہلے دوسرا اور تیسرا کام شروع کردیا جاۓ تو کارکن پریشان ہو جاتے ہیں۔
زیادہ بوجھ یا غیر منصفانہ توقعات سے کارکنوں کو لگتا ہے کہ ان کے مسائل کو نہیں سمجھا جا رہا ،ان کی قوت کم ہے اور کام زیادہ ہے یا بعض جگہوں پر کچھ رکاوٹیں حائل ہیں جن کا حل لیڈرشپ کی جانب سے نہیں دیا جارہا۔ ایک اچھا لیڈر وہی ہوتا ہے جو ہمدردی اور غور سے سننے کی صلاحیت رکھتا ہو ،مسائل کا حل فراہم کرسکے۔ کاموں کو مختصر اور جامع انداز میں کرنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے ۔چھوٹے اہداف رکھے جائیں تاکہ کام زیادہ دیر تک لٹکتا نہ رہے۔
حاصل کلام
مثالی قیادت وہ ہوتی ہے جو کارکنوں کے ساتھ گھل مل کر کام کرے اور ان کے مسائل سمجھے۔انسانوں کو امانت سمجھے ،آقا اور غلام جیسا طرز عمل اختیار کرنے سے گریز کرے۔اچھی تنظیموں میں لیڈرشپ کی جانب سےمسلسل فیڈبیک اور مثبت ردِ عمل دیا جاتا ہے۔
قیادت اور کارکنوں کے درمیان فاصلہ کم کرنے کے لیے مؤثر اور دو طرفہ ابلاغ، باہمی اعتماد، حوصلہ افزائی، علاقائی یا خاندانی تعصبات سے بالاتر ہونا اور مثبت ورک کلچر ضروری ہے۔ ایک اچھا لیڈر وہی ہوتا ہے جو سب کو ساتھ لے کر چلے،جس کا رویہ لچک دار ہو، اپنی تنظیم کو سنے، کارکنان کی ترقی اور ان کی نشوونما میں مدد کرے، مستقبل کی قیادت کو تیار کرے اور انہیں ایک مضبوط فیملی کی طرح محسوس کروائے۔اندرونی اور بیرونی خطرات سے باخبر ہو اور ان کا مداوا کرسکے۔
یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن
لوگ کردار نبھاتے ہوئے مر جاتے ہیں
ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش
جو کناروں کو ملاتے ہوۓ مر جاتے ہیں





































