
عصمت اسامہ
ریاست فلسطین پر قابض قوت اسرائیــل کی پارلیمنٹ( کنیسٹ) نے پیر کے روز 30 مارچ کو فلسطـینی قیدیوں کے لئے "سزائے موت" کا قانون منظور کر لیا ہے۔
اس متعصبانہ ،اندھے اور غیر انسانی قانون کا سب سے بڑا تضاد یہ ہے کہ یہ صرف فلسطینئ قیدیوں اور یرغمالیوں پر لاگو ہوگا جو پہلے ہی صہیونی قید میں تشدد اور جبر کا شکار ہیں جبکہ وہ اسرائیلـی آبادکار جو فلسطینـیوں کے قاتل ہیں یہ قانون ان پر لاگو نہیں ہوگا۔ بل کے مطابق سزائے موت لازمی ہوگی اور کسی قسم کی معافی یا صواب دید کی گنجائش نہیں ہوگی۔
سزا 90 دن کے اندر نافذ کی جائے گی اور عدالتیں صرف سادہ اکثریت سے فیصلے کریں گی، یعنی تمام ججوں کی رضامندی ضروری نہیں ہوگی۔ ایک محدود اندازے کے مطابق اسرائیل کی جیلوں میں قید شہریوں اور اغوا شدہ فلسطینـیوں کی تعداد بیس ہزار نفوس سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں خواتین ،بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں۔ انہیں جبر و تشدد، بھوک پیاس ، جسمانی و نفسیاتی اذیتوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ان مظلوموں کا جرم اس کے سوا اور کیا ہے کہ یہ اپنی زمین، آزادی اور ایمان کی جنگ لڑ رہے ہیں،یہ اپنے بنیادی انسانی حقوق کا دفاع کر رہے ہیں۔ان میں معصوم بچے بھی شامل ہیں جنہیں پیشہ ور صہیونی فوج نشانہء مشق _ ستم بنارہی ہے۔ ٹینکوں کے سامنے پتھر لے کر کھڑے ہونے والے مجرم قرار دے دئیے گئے ہیں اور عالمی ضمیر خاموش ہے۔ان میں ڈاکٹر حسام ابو صفیہ جیسے عظیم مسیحا بھی پابند_سلاسل ہیں۔
ممتاز چائلڈ اسپیشلسٹ جنہیں شمالی غـزہ کے کمال عـدوان ہاسپٹل کے اندر سے گرفتار کیا گیا۔ڈاکٹر تو بلا امتیاز رنگ ،نسل اور مذہب ہر مریض کا علاج کرتا ہے ۔کیا یہ اس کا جرم ہے کہ وہ اپنے فرائض منصبی کو چھوڑنے پر تیار نہیں تھا؟
اسرائیــلی فوج نے اُن سے کم از کم چار بار تفتیش کی اور کئی بار ہسپتال چھوڑنے کا مطالبہ کیا لیکن ڈاکٹر حـسام نے زخمیوں کو چھوڑنے سے انکار کر دیا۔انہیں 2024 میں بغیر کسی الزام کے،اس حالت میں گرفتار کیا گیا جب ہاسپٹل میں کوئی مریض نہیں بچا تھا۔ دکھی انسانیت کے زخموں کا مرہم بننے والا یہ ڈاکٹر تنہا جاکے اسرائیلی ٹینک کے سامنے کھڑا ہوگیا اور اسرائیلی فوجی کو بتایا کہ ہسپتال میں اب تمام انسان زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔وہ نومولود بچے بھی جو نرسری میں رکھے گئے تھے۔
ڈاکٹر حسام کو زیرِ زمین ایک بند کوٹھڑی میں رکھا گیا جہاں سردیوں میں بھی کوئی بستر یا گدا فراہم نہیں کیا گیا۔ان کی صحت انتہائی تشویشناک حالت میں ہے۔انہیں جان بوجھ کر بھوکا پیاسا رکھا جارہا ہے جس کی وجہ سے ان کا 40 کلو سے زیادہ وزن گر چکا ہے۔بے پناہ تشدد کے سبب ان کی چار پسلیاں بھی ٹوٹ چکی ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بندہ خدا کے بارے میں حکم دیا گیا کہ اسے قبر میں سو کوڑے لگائے جائیں، وہ (تخفیف کا) سوال کرتا اور دعا کرتا رہا، یہاں تک کہ ایک کوڑا رہ گیا (باقی معاف کر دیے گئے)، جب یہ کوڑا اسے لگایا گیا تو اس کی قبر آگ سے بھر گئی۔ جب اس (سزا کا اثر) زائل ہوا اور اسے افاقہ ہوا تو اس نے پوچھا کہ (فرشتو!) تم نے کس بنا پر مجھے کوڑا لگایا؟ انہوں نے کہا کہ تو نے ایک نماز بغیر وضو کے پڑھی تھی اور تو ایک مظلوم کے پاس سے گزرا تھا اور اس کی مدد نہیں کی تھی!۔“ [سلسله احاديث صحيحه/الاذان و الصلاة/حدیث: 724]
سلسلہ احادیث صحیحہ ترقیم البانی: 2588۔
دین اسلام کا ایک اہم حکم جسے موجودہ دور میں تقریباً بھلا ہی دیا گیا ہے وہ " قیدیوں کی رہائی" ہے۔
قرآن مجید میں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے قیدیوں کو آزاد کرانے (فَكُّ رَقَبَةٍ) کو نیکی کے اعلیٰ اعمال میں شمار کیا ہے:
" فَكُّ رَقَبَةٍ"
"گردن چھڑانا (قیدی کو آزاد کرانا)"(سورۃ البلد: 13)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جس نے کسی قیدی کو آزاد کیا، اللہ تعالیٰ ہر عضو کے بدلے اس کے آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔"
(صحیح بخاری و مسلم)۔
اسرائیل کی قابض قوت ،امریکی پشت پناہی کے ساتھ گزشتہ کئی برس سے ہزاروں فلسطینیوں پر بمباری کرکے انھیں موت کے گھاٹ اتار رہی ہے مگر عالمی برادری نے اس نسل کشی کو روکنے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔
کہاں ہیں انسانی حقوق کے علمبردار ؟
کہاں ہیں جنگی قوانین کے اصول؟
کہاں ہے عالمی برادری؟
ڈاکٹرز کی تنظیمیں آواز کیوں نہیں اٹھاتیں ؟
چائلڈ لیبر کا مسئلہ اٹھانے والوں کو فلسطینی بچے کیوں دکھائی نہیں دیتے ؟
اگر لکھاری اس وقت قلم نہیں اٹھائیں گے۔۔۔۔ آپ اور میں اس وقت فلسطین کاز کی خاطر سوشل میڈیا استعمال نہیں کریں گے تو پھر کب کریں گے؟؟۔
حسابِ شام باقی رہ گیا ہے
ابھی کُچھ کام باقی رہ گیا ہے
بنا تاخیر کے ہم پر لگا دے
جو اک الزام باقی رہ گیا ہے
اجل کے بازوؤں میں سو رہیں گے
بڑا آرام باقی رہ گیا ہے
سبھی یادیں فنا کا رزق ٹھہریں
تُمہارا نام باقی رہ گیا ہے!
خیابانِ وفا آباد ہو گا
درِ خُدّام باقی رہ گیا ہے!
جسے شُہرت ملی تھی اِنتہا کی
وہ اب گُمنام باقی رہ گیا ہے
صحیفے کھوجتے پھرتے ھیں سائے
کوئی ھنگام باقی رہ گیا ہے
میرے انجام پہ خُوش ہونے والے
تیرا انجام باقی رہ گیا ہے
ذرا نظرِ کرم اُس پر بھی ساقی
جو تشنہ کام باقی رہ گیا ہے





































