
لطیف النساء
بچوں کی کیا بات ہے؟کتنے معصوم، کتنےدلکش موہ لینےوالاہرعمرکا بچہ اپنا بھولا پن اور شریر نگاہیں ہر کسی کا دل موہ لینے والے ہی تو
ہوتے ہیں۔ کچھ نہ بول کر بھی اپنی حرکتوں، مسکراہٹوں اور اداؤں سے کتنوں کو لبھاتے ہیں،نظروں کو پہچانتے ہیں۔ خوشی غصے کو پہچانتے ہیں۔ لاکھ شرارتیں کریں مگر پھر بھی قابل معافی اور دلوں کا سکون آنکھوں کی ٹھنڈک اور فلسطینی بچے! اللہ اکبر کبیرا! کتنے معصوم اور کتنے مغموم!کوئی ان کی بے بسی اور بے کسی دیکھے!کیا دنیا کہ یہ درندے ظالم ،جابر، حیوان ان کے حسن سے جل گئے جو انہیں یوں غارت کر دیا۔پھولوں کو مسلنا سنا تھا یہ تو جلا دیئے گئے۔دھول بنا کر اڑا دیئے گئے۔بموں کا مقابلہ لمحوں میں سینکڑوں بچوں کا قتل عام،ماؤں کا قتل عام، بچ جانے والے بچوں کے کٹے پھٹے اعضاء اور خون رستی بے یار و مددگار ہستیاں! ان کے بھوکے پیاسے ڈرے سہمے چہرے!کو ئی بھلا سکتا ہے۔
دلوں کا سخت ہو جانا سب سے بڑی سزا ہے ،لگتا ہے یہ سزا تمام حکمرانوں کو لگی ہوئی ہےجن پر ان معصوم بچوں کی آہ و بکا بھی کچھ اثر نہیں کر رہی،وہ چلا رہے ہیں۔ خاموش نگاہوں سے شکوہ کر رہے ہیں۔مدد کو پکار رہے ہیں اور قیامت کے دن تمام مسلم حکمرانوں اور بے ضمیر انسانوں کا گلا پکڑیں گے کہ انہوں نے ہمیں سفاک ہتھیاروں سے،سفاک ظالموں سے نہیں بچایا۔ صرف زبانی بیانی کام کرتے رہے ،عملی طور پر کچھ نہیں کیا۔ کیا ان کے بچے نہیں؟اپنے بچوں سے تو سب کو پیار ہوتا ہے۔ بچے اور مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔یہ باپ نہیں پاپ ہیں جو ہمیں اجڑنے سے نہیں روک رہے۔دودھ پیتے بچوں کا خون چوسنے والے درندے ہرگز نہ بچ پائیں گے! اللہ کا وعدہ ہے وہ ظالموں کو ڈھیل ضرور دیتا ہے مگر اس کی گرفت بڑی شدید ہے! سفاکی بے رحمی سے دودھ پیتے بچوں کا لہو چوسنے والے، انہیں قیمہ بنانے والے، ان کے پرخچے اڑانے والے،پھر مزید ہاتھ پاؤں اور دیگر اعضا ء سے محروم اور مزید زخمی جو نہ زندوں میں ہیں نہ مردوں میں، انہیں بھوکا پیاسا ماؤں کو ترسا ترسا کر تڑپا ترپا کر خوش ہونے والے کیا بچ جائیں گے؟ ہرگز نہیں! یہ نسل کشی کرنےوالے قاتل اور ان کی حمایتی یہ پتھر دل حیوانی بلکہ درندے، وہ بھی انسانی خون کے درندے کبھی بھی کہیں بھی بچ نہ پائیں گے۔
ان میں انسانیت کہاں ہوگی، انسانیت کا درد کہاں ہو گا ،جن کا ضمیر مر گیا ہو۔ احساس سے عاری اور ان کا ساتھ دینے والے مسلم مالک کے تمام حکمران دہرے جرم کا شکار! کیوں؟ کیونکہ انہوں نے خود اپنی عوام کی بھی نہ مانی۔ صرف ریلیاں، احتجاج،بیان بازیاں کرتے کرتے سال گزار دیا،ہزاروں کو زندگیوں سے گزار دیا۔ یہ تو جہاد تھا۔ یہ تو فرض عین تھا۔کھلی نسل کشی تھی۔ہمارے سب کے مقاما ت مقدسہ سے بھی زیادہ اہم انسانیت کا خون تھا جس کا بدلہ لینا ضروری تھا مگر کیا کچھ نہیں۔تمام اسلامی ممالک کے سربراہان ان غیر مسلم غداروں، کو اسرائیلیوں کو اور ان کے حمایتیوں کو گردن سے پکڑیں،اپنی قوم کے لوگوں کی یعنی اپنی عوام کی دلی خواہش اور رائے کا احترام کرتے ہوئے ان معصوموں کے خون کا بدلہ لینے کے لیے ٹھوس عملی اقدامات کریں۔امن کمیٹیوں اور اقوام متحدہ کے اداروں کی جڑیں ہلائیں، انہیں ختم کریں اور خود عملی طور پر میدان میں اتریں!یاد رکھیں جب ایمان اور زندگی کا مقابلہ درپیش ہو توزندگیاں دے کر ایمان بچاؤ۔ زندگیوں نے تو جانا ہی ہے، ختم ہی ہونا ہے۔ کیا آپ نہیں چاہتے کہ وہ ایک اعلیٰ مقصد کے لیے ہو؟ کیونکہ اللہ تعالی عادل ہیں اور ہمیں بھی دنیا کو فساد سے بچانے، عدل قائم کرنے اورامن قائم کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ تماشہ دیکھنے،کھا لے پی لے اور جی لینے کے لیے نہیں بھیجا۔ فطرت کو سمجھیں اللہ کے غضب کو دعوت نہ دیں۔اب بھی ہوش کے ناخن لیں اور کر گزریں تاکہ تاریخ دہرائی جائے اور قیام امن کو ممکن بنانے میں شہادت پائیں۔یہ بچے ہی تو ہیں جو آپ کے دین اور دنیا ہیں،بچوں کی خاطر ماں باپ توکیا جانور بھی تمام عمر سر کھپاتے ہیں۔ان کی خوشی کی خاطر زندگی بھر رُلتے ہیں۔اپنے ہی مسلم بھائیوں کے بچوں کو یوں بلکتے چھوڑنا گویا بے حس ہونے کی سز ے اور ہم سزا یافتہ مجرم ہیں ۔ کیا آپ ایسا نہیں سوچتے؟سوچیں گے کیا؟ اب تو عمل کا وقت ہے۔
اے مرد مجاہد جاگ ذرا
پھر وقت شہادت ہے آیا





































