
لطیف النساء
ہربندہ مصروف ہے،اس مشینی دور میں، مصروفیت ہےکہ ختم ہی نہیں ہوتی! کسی کے پاس کسی کے لیے وقت نہیں۔اگر ہم واقعی دیکھنا چاہیں کہ اللہ کے
نزدیک ہمارامقام اور مرتبہ کیا ہےتویقینا ہمیں سوچنا ہوگا،غور کرنا ہوگا کہ اللہ نےتمہیں کس کام میں مشغول رکھا ہوا ہے۔ ہم ذکر میں مشغول رہتے ہیں تو شکر کامقام ہے کہ اس ذات نے ہمیں اپنی یاد میں مشغول رکھا ہے۔ مطلب دنیاوی کاموں کے ساتھ ساتھ ہم ذکر میں بھی مشغول ہوں یعنی ہر دم اسے یاد رکھیں!اگر ہم قرآن میں مصروف ہیں تو بھی سبحان اللہ! سمجھ لیں کہ وہ ہمیں اپنے سے ہمکلام کئے ہوئے ہے۔
اسی طرح اگرہم نیک اعمال میں مصروف رہتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ ہمیں اپنے قریب کرنا چاہتا ہےاس کے برعکس اگر ہم معاملات میں الجھے ہوئے ہیں توجان لیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں دور کرنا چاہتا ہےجبکہ اگر ہم دعا میں مشغول رہتے ہیں تو یہ اس کی عطا ہے۔ دراصل وہی ہم سےکام لے رہا ہے، اپنے مرتبے اورمقام کے لحاظ سے یعنی دنیاوی معاملات میں الجھےرہیں تو سمجھیں وہ اپنے سےدور کرنا چاہ رہا ہے جبکہ دعا میں مصروف ہوں تو وہ ہمیں نوازنا چاہتا ہے کیونکہ کوئی دعا کبھی رد نہیں کی جاتی۔
ہم فائدہ مند علم حاصل کرنے میں مصروف ہوں تو اس کا مطلب ہےکہ رب چاہتا ہےکہ ہمیں اس کی معرفت ملتی رہے۔سبحان اللہ! اسی طرح اگر اللہ تعالی ہمیں لوگوں کے معاملات میں مصروف رکھے،مطلب ہم ہمیشہ لوگوں کے معاملات میں الجھے رہیں تو یہ جان جائیں کہ وہ رب ہمیں بے وقعت کرنا چاہتا ہے۔ مطلب بلاوجہ دوسروں کے معاملات میں ٹانگ اڑاتے رہنا بہت ہی بری بات ہے۔ ایسے میں بندہ بے وقعت ہی ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر وہ تمہیں جہاد فی سبیل اللہ میں لگائے،تو گویا وہ تمہیں اپنے لیے چننا چاہتا ہے۔ فلسطین تصور نہیں حقیقت ہے۔ کتنی ایمانی قوت،کیسی جرأت، کیسی بے بسی اور بے کسی مگرکیسا حوصلہ؟ سبحان اللہ گویا یہ تو چنیدہ بندےہوئےنا۔اسی لیے تو دعائیں بھی سکھائی جاتی ہیں پھراگررب تعالی ہمیں خدمت خلق اور بھلائی کےکاموں میں مشغول کردے تو گویا اس نےہمیں اپنی محبت والے کاموں میں لگا رکھا ہے۔
اللہ کوایسے لوگ ہی پسند ہیں جبکہ اگر وہ تمہیں غیرضروری کاموں میں مشغول کر دے تو گویا وہ ہمیں اپنی محبت سے نکال رہا ہے۔استغفر اللہ!لہٰذا ساتھیوں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود ہی اپنا جائزہ لیں،غور کریں کہ ہم کس طرح کے کاموں میں وقت لگاتے ہیں ، کیا کرتے ہیں؟ کہاں مشغول رہ کر اپنا قیمتی وقت یعنی زندگی گزارتے ہیں کیونکہ تمہارامقام وہی ہے جہاں اللہ نے تمہیں مصروف رکھا ہے۔کتنی زبردست بات ہے اپنے آپ کوپہچاننے کیلئے اوراپنے مقام کو جانچنے کیلئے۔اللہ سے یہی دعا کرتے ہیں کہ اللہ پاک ہمیں اپنے چنیدہ یعنی پسندیدہ بندوں میں شامل کرلے تو ہمیں اس کے پسندیدہ کام کرنےہوں گے۔ غصہ نہیں کرنا ہوگا،خرافات سے دوررہنا ہوگا۔ قرآن سے جڑنا ہوگا،سنت کو اپنانا ہوگا،شریعت کے لیے نفاذ کی مرتےدم تک کوشش کرنی ہوگی ،جس کی ابتداہی اپنی ذات سےہوگی۔اللہ توفیق دے (آمین)





































