
لطیف النساء
کئی مہینوں بعد خبریں دیکھنے کی غرض سےمیں نے ٹی وی کھولا گھڑی میں نو بجے تھے مگر وہ پانچ منٹ پیچھےتھی لہٰذا اشتہارات آنےلگے۔ جوں ہی
وہ اشتہار دیکھا لہراتی بل کھاتی گلابی میکسی میں کٹی آستین والی محترمہ ہائے گرل مجھےدیکھو "یور اسکن فیل اٹ سو اسموتھ" باقاعدہ اپنا آپ دکھاتی لجاتی، کیفیت طاری کرواتی، دھڑلے سے پامولوکی اسرائیلی مصنوعات کی تشہیرکررہی ہےاورپھربار بار دہرایا جارہا ہے۔ مجھے دو سال یا شاید ایک سال پہلے اسی اشتہارپر بلاگ لکھنے پرانعام بھی ملا تھا مگر مجھے تو آگ لگ گئی اور لگنی بھی چاہیےنا، اس وقت بھی یہ اشتہار تسلسل سے آتا تھا پھر پیمرا کو بھی فون کر کے توجہ دلائی تھوڑا کم ہو گیااوراب جبکہ اسرائیلی مصنوعات کی توتشہیرہی نہیں ہونی چاہیے ،اتنی خرافاتی بات! کہ ایک خاتون اپنا آپ بیچ رہی ہے۔ نوکریاں نہیں ، کمائیاں نہیں ہیں، لوگ دین سے دور کتنے دور نکل گئےہیں؟اچھائی برائی کا احساس ہی ختم ہو گیا ہے۔
مجھے ایوارڈ کی نہیں عمل کی ضرورت ہے۔ ساری دنیا کوہی عمل کی ضرورت ہے۔ اچھا عمل نیک عمل مگریہ سب کیا ہیں؟ معاشرے کو ہی آگ لگ گئی ۔میڈیا کےعذاب سے!فلسطین کی تباہی پربھی آنکھیں نہیں کھلیں؟ وہ خرافاتی ادائیں، فحش اور بے حیائی کی باتیں،کھلے اشتہارات ۔۔۔۔ لباس کہاں اندازاورفیشن کہاں؟ کیا کچھ دکھا رہے ہیں آپ؟میڈیا کو کوئی لگام ڈالنے والا نہیں ہے؟
کتنے برے حالات ہمارے معاشرے کے ہوتےجا رہے ہیں۔ کون کون سےاشتہارات بناتےہیں؟کتنے لوگوں کےہاتھوں آگے بڑھتےہیں؟ کیسے روزانہ 24 گھنٹوں میں کتنی مرتبہ یہ اپنا آپ بیچ کرمستورات کی یوں بے حرمتی کر کے یہ کیسی کمائی کررہے ہیں؟ ان مستورات کو، چھپی ہوئی چیزوں کو آپ کھول کھول کرپیش کر رہے ہیں۔ لمحے لمحے کا حساب کیسے دو گے؟ اس طرح کےخرافاتی اشتہارات بےحیائی، فحاشی، ہیجان انگیز اشتہارات، کریمیں ہوں، صابن، شیمپو یا کھانے پینے کی اشیاء اللہ کی پناہ! کیا کچھ اور کیسے تھرک تھرک کر دکھائےجا رہے ہیں؟
اسلامی معاشرے میں مسلمان ہی اس طرح کے برے کام کر رہے ہیں! مقاصد ِحیات سےغافل کوئی کیسےہو سکتا ہے؟ میڈیا کوتعمیراتی اورمثبت کاموں میں، اصلاحی کاموں میں کیوں نہیں استعمال کیاجا رہا ہے؟ آئے دن للچانے والےکھانے پینے کے اشتہارات، کھیل تماشے مزاح کے نام پر بدتمیزی بدتہذیبی کےپروگرامز! کوئی سنجیدگی نہیں، کوئی مقصد نہیں!زندگی کیا یوں ضائع کرنے کیلئے ملی ہے؟کم ازکم مقاصدِ زندگی، قرآن پر ایمان لا کر قرآن کو پڑھو،سمجھو، تدبر،تفکرکرو، عمل کرو اور آگے بڑھاؤ۔ کیا یہ بھی نہیں سمجھتے؟آئے دن ہونےوالے واقعات ان ہی میڈیا کے خرافاتی پروگرامزسے نمو پاتے ہیں۔ برائیاں سر اٹھاتی ہیں۔
کوئی بچہ،بچی،لڑکی توکیا لڑکےمحفوظ نہیں۔قوم لوط کی بیماری،پان گٹکے،چھالیہ، ٹیڑھےمنہ، محبتوں کایہ براحال اورحلیے ،کیاانداز کیا، بیان ہرچیز سے تہذیب کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ مزاح کے نام پر لوفرحرکتیں اللہ کی پناہ!کیا ہم میں تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں جو اس برائی سےروکے۔ گھروں میں بے روزگار لڑکے چھوٹے بڑے ہرعمر کےمرد کیا دیکھتے ہیں۔ کیا سیکھتے ہیں، کتنی بدامنی،کتنی بد چلنی،غیر اخلاقی اورغیر منظم حرکات ہرطرف نظر آرہی ہیں!مانا کہ برائیوں کی تشہیر کر کے ہم کبھی اصلاح نہیں کر سکتے،مگر ان کو روک تو سکتے ہیں۔
برائی کو جڑسےتو ختم کر سکتے ہیں "کربھلا ہو بھلا "کب کروگے؟آپ کے ہاتھوں میں آج کےدورکا عظیم ہتھیار ہے۔ اللہ کے واسطے اس کامثبت استعمال کریں۔ پہلے تو میں پیمرا کو فون کر کے فوری توجہ دلاتی تھی ،وہ بھی سن کرجی باجی کہہ دیتے تھے۔ اب تو فون ہی نہیں اٹھاتے۔
صبح سے ڈیڑھ دو گھنٹوں کی تلاوت یا دیگر دینی پروگرامز کے بعد جیسے چھٹی مل گئی چلو جی!اب میں اور میری مرضی والی کیفیت! آپ فیملی کے ساتھ بیٹھ کر کچھ دیکھ نہیں سکتے! خبروں میں بھی نیوز کاسٹر کے حلیے غیرمہذب اور ناشائستہ، خدا کے لیے لگام دیں۔ان خرافاتی، شیطانی،لوفراشتہارات کو،پروگرامز کو جو صرف وقت ضائع کر رہے ہیں بلکہ زندگی اوراس سے جڑی تمام سرگرمیوں کو بری طرح کھا رہے ہیں۔ موبائل انٹرنیٹ سونےپہ سہاگہ انسان جانور ہےکیا؟ اتنی مہنگائی، لوگوں کے پاس کھانے پینے کے پیسے نہیں! اورآپ ہیں کہ ہروقت کھانے پینے کے ہی اشتہارات جلتی پر تیل کا کام کررہے ہیں۔ میڈیا کا خراب ہونا گویا میرےنزدیک ایک ماں کے بگڑنے کے مترادف ہے۔اللہ کے واسطے،اللہ سے جڑ جاؤ۔اس قسم کے اشتہارات دکھاکر اپنی ماؤں، بہنوں،بیٹیوں اوربیویوں کو یوں رسوا نہ کرو۔ان کے تقدس کا احترام کرو،مہلت زندگی سے فائدہ اٹھائیں اور مستورات بھی سنبھل جائیں۔ حد میں رہیں۔ اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور معاشرے کے سدھار کے لیے اپنا معیاری کام کریں ، ورنہ آپ کبھی کہیں فلاح نہ پائیں گے۔ ہمیں جب اللہ جو کہ رحیم ہے،کریم ہے،قادر ہے، قدیر ہے ہمیں ہزارہانعمتیں دے رہا ہے،اُس سے حیا نہیں آتی!اس لیے ہم سب کر گزرتے ہیں۔خواتین سن لیں کہ حیا مجھے سکھاتی ہےاچھا لگنے کی حدود مگر اپنا عمل دیکھیں اگرنامحرموں کو میں اچھی لگوں یہ براہے بلکہ بہت برا ہے۔





































