
لطیف النساء
سبحان اللہ ماہ رمضان اور ماہ قرآن سے متعلق مجھےایک کہانی ہمیشہ یاد رہے گی اورجوسنیں انہیں بھی کہانی نہیں بلکہ اس کا نکلا ہوا نتیجہ گویا اپنا
احتساب اور جائزہ یاد رکھنا ہوگا۔ مختصراً کہانی کچھ یوں تھی کہ گاؤں میں جو چند سو افراد پر مشتمل تھا ایک ہی مسجد تھی اور لوگ اس مسجد کے امام کی بڑی عزت کرتے تھے۔ خاص کر ماہِ رمضان میں اکثر لوگ امام صاحب کی دعوت کرتے اور بہت خوش ہوتے تھے۔خورشید صاحب بھی امام صاحب کی بہت زیادہ عزت کرتے تھے لہٰذا انہوں نے اپنی بیوی سے بات کی کہ امام مسجد کی دعوت کرنی چاہیے۔خورشید صاحب کی کوئی اولاد نہ تھی بیوی بخوشی دعوت کے لیے راضی ہو گئی اور اپنے چھوٹے سے گھر میں انہیں مدعو کیا۔ سب بہت خوش تھے دعوت پر امام صاحب آئے اور گھر والے اہتمام سے ان کی خاطر مدارات کرتے رہے۔ ان کے چلے جانے کے بعد خورشید صاحب کی بیوی کو یاد آیا کہ انہوں نے 300 روپے میز پر رکھے تھے جو نہ ملے۔بہت سوچ بچار کے بعد خورشید صاحب کی بیوی کو یقین ہو گیا کہ ہونا ہو یہ پیسےمولوی صاحب یعنی امام صاحب نے دبا لئے ہوں گے کیونکہ ان کے گھر کوئی اور نہیں رہتا تھا اور اس دن تو کوئی اور شخص ان کے ہاں آیا ہی نہ تھا۔
خورشید صاحب کو بھی یقین آگیا کہ امام صاحب ہی نے پیسے اٹھائےہیں۔ بس اس دن سےوہ کھینچےکھینچےرہنےلگے۔مسجد بھی نماز کے لیے جاتے تو بس نماز پڑھ کر واپس آجاتے اور امام صاحب سے بات نہیں کرتے۔ بس دیکھتے ہی دیکھتے رمضان کا مہینہ آگیا تو خورشید صاحب کا دل موم ہو گیا کہ مولوی صاحب یعنی امام صاحب کو مدعو کیا جائے مگر بیگم کے انکار پر چپ ہو گئے لیکن پھر بیگم کو راضی کر لیا اور سوچا کہ اب ان کو مدعو کروں گا تو ضرور پوچھوں گا ان پیسوں کے بارے میں لہٰذاانہیں مدعو کیا گیااور طعام کے بعد باتوں باتوں میں انہوں نے پیسوں کا ذکر کیا کہ پچھلی مرتبہ تنگدستی کی حالت میں ہمارے 300 روپے کمرے سے غائب ہوگئے تھے۔ امام صاحب کو بھی یاد آگئے۔انہوں نے کہا کہ کیا آپ اس اکلوتی ٹیبل کےاوپری شیلف سے قرآن نکال کر پڑھتے ہیں؟ خورشید صاحب خاموش نفی میں سر ہلانے لگے تو امام صاحب نے کہا پچھلی مرتبہ جب مجھے کمرے میں بیٹھا کرآپ پانی لینے گئے تھے تو سوسو کے نوٹ اڑکر میرے قدموں میں آگرے تھے۔میں نے انہیں اٹھا کر شیلف میں رکھے اس قران کے موٹے کور میں پھنسا دیئے تھے اورآپ کو بتانا بھول گیا تھا۔
خورشید صاحب اٹھےاورفوراً قرآن اٹھایا مٹی جھٹکی اور کھولا تووہی3 سوکے نوٹ ملے۔وہ کافی شرمندہ ہوئےاورنادم بھی کہ واقعی سال بھرسے ہم نے اس قران کو ہاتھ نہیں لگایا لیکن امام صاحب نے بڑی شفقت سے خورشید صاحب کو بتایا کہ یہ کتاب الٰہی ہے،ہمارے دستور حیات زندگی کا لائحہ عمل ہے۔یہ تو نور ہدایت ہے۔ روشنی ہے، رہنما ہے۔اس لیے ہمیں اس کی تلاوت روز کرنی چاہیے۔ اس کو پڑھنا ایمان لانے کے بعد ہر مسلمان کے لیے مسلسل پڑھنا،سمجھنا،تدبر کرنا، غور و فکر کرنا تاکہ عمل میں اترے اور پھر عملی نفاذ سے ہی اس قرآن کے پیغام کو پھیلانا، اس قرآن کے حقوق ہیں۔ دعا کی اور جزاک اللہ کہہ کر رخصت ہو گئے۔
امام صاحب کے جانےکے بعد خورشیدصاحب نےجب اپنی اہلیہ کو یہ معاملہ بتایا تو وہ توبہت ہی زیادہ غمگین ہوئیں کہ کیسے ہم دوسروں کے لیے بدگمان بلکہ بے ایمان ہو جاتے ہیں؟واقعی ہم ہی غافل بنے تھے،کبھی قرآن کو کھول کر دیکھا تک نہیں اور رمضان کے لیے کتنی تیاریاں کرتے ہیں؟ کتنے دکھاوے کرتے ہیں اورلوگوں میں مقبول ہونے کے لیے امام صاحب کی دعوت کرنا فرض سمجھتے ہیں اوراصل فرض سے کتنے غافل ہیں،اگرچہ چھوٹی سی کہانی تھی مگر مجھے بھی ہلا گئی کیونکہ کافی عرصے تک تو ہم بھی موت میت جمعہ یا رمضان میں ہی قرآن نکال کر بس مکمل کرنے کی پوری کوشش کرتے اور لوگوں کو بتاتے بس اتنے سپارے رہ گئے پھر بھی قران مکمل نہ ہو پاتا تھا۔ بڑی مشکل سے دوچار سال مکمل ہو پایا مگر وقت کے ساتھ ساتھ جب شعور آیا اور دروس میں جانا شروع ہوئے دورۂ قرآن میں جانے لگے تو سمجھ آگئی کہ واقعی قرآن تو ہماری جان ہے۔ شفا ہے۔ دلوں کا سکون ہے اور رب کا کلام ہے۔
ہر طرح سے خوشی ہوتی ہے، پڑھ کر سن کر سمجھ کر کسی کو سمجھا کر اور رمضان میں تو اس کا اور ہی لطف ہے۔دورۂ قرآن کی شان ہی رمضان کی جان ہے۔ جب پیٹ خالی ہوتاہے تو روح بھرتی ہے۔زیادہ سمجھ آتا ہے اور زیادہ خوشی ہوتی ہے۔جماعت کی ایک الگ خوشی اور برکت ہوتی ہے۔ اس کی تیاری کے آگے سب کچھ بے وقعت لگتا ہے۔اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اب جگہ جگہ رمضان میں بلکہ اس سے پہلے ہی سے استقبالِ رمضان اور پھر دورۂ قرآن ہونے لگتے ہیں اور بڑا اچھا لگتا ہے۔جب عورتیں جوق درجوق گرمی سردی کی پروا کیے بغیر آتی ہیں اور 19 دن میں دورۂ قرآن سے منسلک رہتی ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ واقعی ماہ رمضان ہی ماہ قرآن ہے لیلۃ المبارکہ آخری عشرہ، اعتکاف میں بیٹھنا،سحری،افطاری اور دیگر گہما گہمی ایک الگ ہی روحانی سکون دیتا ہے۔
واقعی یہ تو رب کو منانے کے دن، احتساب اور جائزے کے دن،دعاؤں کے دن رات اورتزکیہ نفس کے بہترین مواقع ہیں۔ نیکیوں کا موسم بہار تو تقویٰ اور ایمان کی آبیاری کے دن گویا ایمان بڑھانے کا قدرتی نظام اور اصلاح کی جانب ایک خالص عمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نیتوں کے جاننے والے ہیں ہماری کمیوں کوتاہیوں کو معاف فرما کر اپنے سے جوڑے رکھیں اور اپنی رضا کے لیے چن لیں کہ یہ رمضان ماہ قرآن ہی ہو اور اس کی روشنی اور ہدایت ہماری زندگی کے اندھیروں کو روشن کرتے ہوئے دونوں جہانوں میں کامیاب کر دے اور ہمارے تمام متعلقین والدین،اساتذہ اورتمام دوست احباب کو بھی اس کتاب سے اپنے رب سے تاحیات جوڑے رکھے۔آمین یا رب العالمین





































