
لطیف النسا ء
مہمان بھی کیا چیز ہیں؟ کتنی خوشی دے جاتے ہیں،کیسی کیسی تیاری کروادیتے ہیں۔ سب سے پہلے تو صفائی ستھرائی ہوجاتی ہے ۔چیزیں منظم
ہو جاتی ہیں پھر لمحے لمحےان کا انتظار ہوتا ہے۔ ان کےاحترام میں تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ دل کھول کر خرچ کرنے اور مہمان کو خوش کرنے کے پورے لوازمات منصوبے میں شامل ہوتے ہیں۔
واقعی بڑا دلچسپ اور مزیدار موقع ہوتا ہے،چاہےایک دودن کےبھی مہمان ہوں۔گھر پوراصاف ستھرا،کھانا پینااوراٹھنے بیٹھنےکےانتظامات سے لے کر کھانے پینے اور ان کی دلجوئی کے تمام ترکام ہونے لگتے ہیں۔ بسا اوقات مزید لوگوں کومطلع کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں فلاں مہمان آنے والے ہیں آپ سے بھی ملوائیں گے۔
میں نے ایک جگہ پڑھا تھا کہ مہمان وہ ہوتےہیں جن کےآنےسےخوشی اورجانےسےاورزیادہ خوشی ہوتی ہےکہ چلیں مہمان بھی خوش ہوگئے اوران کی برکت سے صفائی ستھرائی بھی ہو گئی۔ کئی لوگوں سے خوش گوار ملاقات اور ذائقے دار کھانے بھی مل گئے ۔مزہ ہی آگیا، تحائف بھی مل گئے ،وہ بھی خوش ہو گئے اور ہم بھی خوش رہے۔
مہمان یادگاررہیں گے کیونکہ ہمارے خاص تھے،واقعی مہمان تو اللہ کی رحمت ہوتے ہیں اوراپنےخوش گوار رویے چھوڑ جاتے ہیں اور پھر بار بار یاد آتے ہیں۔ کمی کوتاہی پر افسوس بھی رہتا ہے اور اچھے خلوص سچی نیت اور لگن پر محبت کا خوش کن احساس دوبالا ہو جاتا ہے ،بالکل ایسے ہی ہمارے خاص مہمان "ماہ رمضان " ہیں۔یہ پورا مہینہ ایسا ہے کہ اس کا انتظار رہتا ہے۔
مہینوں پہلے سے اس مہمان کے ساتھ دن گزارنے کی دعائیں مانگی جاتی ہیں اور انتظار کیا جاتا ہے۔ کچھ کچھ جوڑا بھی جاتا ہے۔ ارادے اورمنصوبے بھی بنائے جاتے ہیں جن میں انسانی جبلت کے شیدائی زیادہ تر کئی کئی لباس، جوتے،پرس، جیولری اور دیگر چوڑیاں مہندی لینے دینے کے تحائف اور پھر ساتھ ساتھ کھانے، سحری اور افطاری کے مخصوص پکوان پر زیادہ زور لگاتے ہیں،سارا سال جو نہ کھایا ہو وہ بھی سر فہرست نظر آتا ہے! یہ تو عمومی اعمال ہیں مگر اصل چیز جو ہمیں دو عشروں سے سمجھ آئی ہے ، وہ خاص تیاری شکر الحمدللہ دورۂ قرآن،استقبال رمضان اور اس طرح کی دیگر سرگرمیاں عزیز رشتہ دار وں اور مستحق لوگوں کے لیے زکوٰۃ،صدقات کار خیر، افطاری اور عید کی تیاری کے لیے رقوم اکٹھا کرنا مستحقین تک پہنچانا سب سے منفرد اور اچھا عمل لگتا ہے۔
لوگوں کو اس ماہ رمضان کی اہمیت بھوک پیاس، تنگی،تنگدستی کااحساس کرتے ہوئےکام کرنااورلوگوں کوبھرپور تعاون دینا،مدد کرنا، غرباء،پڑوسی،رشتہ داروں کے لیے احساس ہمدردی اور ان کی انا کو مجروح کیے بغیر ان کی مدد کرنا، اس خاص مہمان "رمضان" کا ہی خاصہ ہے جس میں اللہ کا شکر ہے کافی لوگ گرم جوشی سے حصہ لیتے ہیں۔ بچوں کو بھی اس کام میں شامل کر کے ان کے اندر بھی احساس ذمہ داری اورغم خواری پیدا کروانا ایک اچھا عمل ہے،جگہ جگہ گھروں میں تراویح کا انتظام کروانا، خود کرنا،دروس کا اہتمام، دورۂ قرآن کروانا، شرکت کو یقینی بنانا، لوگوں کو جمع کرنا اور پچھلی بار کے مقابلے میں اس مرتبہ مزید محبت لگن تڑپ سے کام کرنا، اپنے بڑوں چھوٹوں کا اور ان کی ذمہ داریوں کا احساس کرنا، گھر کے بیمار بوڑھے بچے محلے پڑوس کا بھی لحاظ رکھتے ہوئے شور شرابے بحث مباحثے، چیخ وپکار سے دور رہنا ہی اس خاص مہمان کے آداب میں شامل ہیں جو روحانی دلچسپی کا باعث ہے۔ پھر وہ سبق کہ کم کھانا،کم سونا اور کم بولنا جیسی حکمت کی باتوں کو عملی طور پر کر کے دکھانا تاکہ ماحول روحانی اور مہمان کی صحیح قدردانی ہو ضروری ہے۔
زیادہ سے زیادہ تلاوت، یاد کرنے والی سورتوں کو دہرانا،غور و فکر، تفکر وتدبر کرنا، ہاتھ بٹانا،اپنے بڑوں چھوٹوں کی مدد کرنااور ماحول کو پرسکون رکھنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ ہر لمحہ دعائیں کر تے رہنا عجیب خوش گوار مزہ دیتا ہے۔ گزشتہ غلطیوں پر نادم ہو کر اس مرتبہ ان کو نہ دہرانا ہی اس خاص مہمان کی اصل قدردانی ہے۔ شروع کے روز ے ذرا مشکل لگتے ہیں، لمبے بھی لگتے ہیں۔ مساجد بھری ہوتی ہیں لیکن تڑپ اور لگن ہو تو تیزی سے دن گزرنے لگتے ہیں اور اگر شیطان کو حاوی کر لیا تو پھر خالی بھوکا پیاسا رہنا کوئی کام کا نہیں۔
رمضان تو گزر ہی جائیں گے مگر روح بیماربلکہ مری ہوئی ہو تو مزہ نہ دے گی۔ ہر آنے والا دن مزید دلچسپی، توجہ، حقوق العباد اور حقوق اللہ کی فرمانبرداری میں گزرے تو ایک دم سے اس خاص مہمان کا سفر ختم ہونے لگتا ہے اور چاند رات کو اور عید کو تو چار چاند لگ جاتے ہیں۔خوشیاں بانٹنے سے دگنی تو غم بانٹنے سے خوشیاں کئی گنا زیادہ ہوکر ماحول پرسکون اورخوشگوار بن جاتا ہے کہ ہمیشہ اس کا ایک مسحور اور خوشکن احساس ہمیں قوت دیتا ہے اور یوں ہم اس خاص مہمان کے قدردان اور وہ ہمارا اجر بلکہ اجر عظیم بن جاتا ہے جو مطلوب رمضان ہے۔ انشاء اللہ! اب کے اس خاص مہمان کو ہم غزہ کے مسلمانوں اور اپنےمستحق ساتھیوں کے ساتھ ہر لیول پر ساتھ منائیں گے ۔انشاء ا للہ!اللہ پاک ہمیں اور تمام مسلمانوں کو دائمی خوشیاں عطا فرمائے اور دونوں جہاں میں عافیت دے۔ اللہ ہمارے کام کو آسان بنا اور اپنی رضا کے لیے چن لے اور ہم سے راضی ہو جا۔ ہم اپنے کئے پر کبھی پریشان نہ ہوں بلکہ نہال ہوں (آمین)۔ اس خاص مہمان کی قدردانی قبول فرما اور اس میں برکت ڈال دے کہ تو ہی ہمارا "ولی "ہے،ہر عمل میں اپنے دین پر ثابت قدم رکھ اور اس ماہ رمضان کو ہمارے لیے بخشش کا ذریعہ بنا دے۔آمین یا رب العالمین





































