
لطیف النساء
کتنا چھوٹا سا لفظ ہے صبر و ضبط! مگر کتنی بڑی کامیابی کی نوید ہے۔ اس لفظ میں کہ صبرو ضبط ہی وہ دو ہتھیار ہیں جن سے زندگی کو کسوٹی
پر پرکھا جا سکتا ہے۔ شیطان تو ہر لمحہ ہمیں رسوا کرنے پر لگا ہوتا ہے۔ ابھی تو رمضان گئے تھے پھر رمضان آنے والے ہیں سبحان اللہ!وقت کیسے پر لگا کر اڑ جاتا ہے۔پچھلا سال میرا بڑا اچھا گزرا تھا گرمی کافی تھی مگر پھر بھی صحت ٹھیک رہی اور کافی کام انجام پائے۔دوسروں کے لیے خریداری کرنے کا موقع بھی ملا۔کافی منصوبہ بندی کی کہ یہ یہ چیزیں میں بھی لوں گی لیکن صرف چادروں، غلافوں اور یکا دکا پردوں کے کپڑوں میں ہی سارے پیسے خرچ ہو گئے۔ گھر آ کر افسوس رہا!اتفاق سے ایک دوپٹہ ڈھونڈنے کے لیے پیٹی کھولی تو دوپٹہ تو کیا ملتا ساتھ ساتھ نئی چیزیں سلے بغیر سلے کپڑے اور دیگر اشیاء بھی مل گئیں، سمجھیں جیسے لاٹری لگ گئی ہو،دینے لینے کے علاوہ خود بھی پہننے کے کپڑے مل گئے سبحان اللہ! بس یہی میری نیت رمضان کے لیے تیاری تھی کہ سوچا تھا کہ اب کی بار کیا کرنا ہے رمضان سے پہلے خریداری اور رمضان کی تیاری پہلے تو مجھے اپنی مرحومہ نند یاد آتی رہیں کہ ان کے ساتھ جو خریداری کی تھی خبر بھی نہ تھی کہ وہ اتنی جلدی اتنی کمزور ہو جائیں گی۔
دوسرے دن افطار میں صرف چند چھولے کھائے اور شربت پیا تھا پھر مجھے پیسے دے دیے تھے کہ میں روزے نہ رکھ سکوں گی روزے کے فدیے کے پیسے لے لو اور میں نے وہ پیسے روزے دار کے لیے افطار کروانے والوں کو دیے تھے جس پر بھی وہ خوش تھیں۔ آہستہ آہستہ انہوں نے کھانا چھوڑ ہی دیا وہ صرف سوپ، جوس یا انشور پیتی تھیں جس کو گرم کرنے کا بھی میرے پاس انتظام نہ تھا،صبح تو دے دیتی تھی کیونکہ سحری میں ہی سوپ بنا لیتی تھی مگر درس قرآن سے آتے ہی ڈیڑھ بجے پڑوسی کے مائیکرو ویو میں سوپ گرم کر کے یا دودھ گرم کر کے انہیں دیتی تھی اور اس پر بھی انہوں نے صبر کیا کبھی شکوہ نہ کیا۔گھروں میں گیس کےمسائل تھے بس عید کے دن تو زیادہ کمزور ہو گئیں کچھ نہ پیا سوائے چند گھونٹ جوس کے، نہ کپڑے بدلنے کو تیار، تھکی ماندی ہو گئی تھیں۔ دوسرے دن وہ ہسپتال داخل ہو گئیں چار روز بعد گھر آئیں بمع آکسیجن سلنڈر اور سسٹر کے۔ چار دن مزید زندہ رہیں اور پانچویں دن صبح انتقال فرما گئیں۔کچھ نہ کہا کچھ نہ سنا صرف اشارے سے گلاس بھر کر پانی مانگا کرتی تھیں اللہ مغفرت فرمائے (آمین)۔ان کی اس تکلیف پر بھی میں نے بہت صبر اور ضبط کیا۔
پورا مہینہ ہی میرا ایسا ہی گزرا تھا کہ کسی چیز میں دل نہیں لگتا تھا، افطاریاں آئیں عیدپر لوگ آئے مگر خاموشی اورسوگواری۔ ایک کمزوری کتنی بڑی بیماری ہے؟ بندہ بستر کا ہو جاتا ہے اور صرف سونا چاہتا ہے۔ میں اکثر سوچتی کتنا ضبط کتنا صبر! اللہ ہی کی شان ہے۔ ایسے مریض کو دیکھتے ہوئے مجھے کئی بار خیال آتا ہے کہ واقعی ہم دنیا میں کیسے کھپے ہوتے ہیں،کھاتے پیتے افطاری سحری کی تیاری، نخرہ، شوبازی طرح طرح کے پکوان،کیا کچھ روزے کے نام پر کر جاتے ہیں،کتنا کچھ عید کے نام پر خرافات کر جاتے ہیں جبکہ روزہ تو ایک پورے نظام زندگی کو واضح کر دیتا ہے کہ عبادات اور دیگر معمولات پر ایسا سیٹ کر دیتا ہے کہ بھوکے پیاسے ہر ضرورت مند کا احساس خود بخود اجاگر ہو جاتا ہے اور تھوڑے پر بھی صبر آ جاتا ہے بلکہ واقعی جس طرح لوگ دوسروں کی مدد کرتے ہیں اور اپنا پیٹ کاٹ کر دوسرے کا احساس کرتے ہیں یہ صرف روزے دار کا ہی احساس ہے جوبھوک پیاس نیند اور تھکان کی کیفیت کو خود محسوس کرتا ہے تبھی تو دوسروں کا احساس کرتا ہے۔ توگویا ہوا نا یہ" ماہ صبر و ضبط "۔ایک دن میں نے اپنی عیسائی فلیٹ کی جمعدارنی کو پسینے میں شرابور دیکھا،کچرادیتے ہوئے اسے روکا اور گلاس بھر کر شربت دیا۔ عیسائی ہونے کے باوجود وہ چھپ چھپا کر شربت پیا اور بہت خوش ہوئی مگر اصل میں اس سے کئی زیادہ میں خود خوش ہوئی کہ میں نے دوسرے کی پیاس کا احساس کیا۔ اللہ کا وعدہ ہے روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا صلہ دوں گا!اللہ اکبر! روزہ روح کی غذا ہے کیونکہ ہماری روح بھلائی کی طرف راغب رہتی ہے کیسے پچھلے نہ رکھے روزے یاد آتے ہیں اور پورا کرنے کو جی چاہتا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ ہر روزہ قبول ہو(آمین)۔
ہر دم معافیاں مانگتے ہیں، کھانے میں اعتدال کرتے ہیں بلکہ احکامات سیکھنے اور عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، زیادہ سے زیادہ قرآن سننا پڑھنا سمجھنا چاہتے ہیں، کم سونا چاہتے ہیں، لوگوں کے کام آنا چاہتے ہیں۔ پل پل یاد آتا ہے نا کہ" دوڑو اللہ کی طرف" بسا اوقات اپنے رویے پر نادم ہوتے ہیں، چیخنا چلانا چھوڑ دیتے ہیں اور تو اور اکثر غلطیوں پر بھی معاف کر دیتے ہیں تو کبھی شیطانی عمل دکھاتے ہیں کہ ذرا روزہ کھولوں تو تمہیں ٹھیک کرتی ہوں مگر فورا ًہی توبہ توبہ کرتے ہیں یہ سب کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ ہم مکمل عبادت میں ہوتے ہیں، کھانے پینے کی چیزوں سے ہی نہیں بری حرکتوں سے بھی پرہیز کر تے ہیں۔ میں سمجھتی ہوں یہی میرا صبر و ضبط اور یہی مجھے ماہ رمضان سکھاتا ہے۔ کاش یہ سبق ہر بندہ یاد رکھے تاکہ عملی زندگی کو کامیاب بنائے۔آمین





































