
لطیف النساء
بچے من کے سچے ہر بات صاف صاف بیان کر دیتے ہیں۔ گھرکی رونق آنکھوں کی ٹھنڈک اوردل کا سکون ہوتے ہیں۔ یہ خوشیاں اللہ سب کی برقرار
رکھے(آمین)لیکن ہمیں اس کے لیے مثالی کام کرنے ہوں گے اور اپنے اندر پہلے ہی وہ ضبط برداشت، صبر اور نرمی پیدا کرنی ہوگی جو سخت ترین امتحان میں بھی ہماری برداشت کو متزلزل نہ کرے کیونکہ اگر ہم خود پر ہی قابو نہ پا سکے تو بچے کیسے سیکھیں گے ہمیں بھی سیکھتے سیکھتے عمریں لگی ہیں۔آج میری مُدرسہ نے اتنا اچھا پیغام بھیجا کہ دل خوش ہو گیا۔ بچے بڑے سب ہی قرآن میں موجود حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے کو بہت پسند کرتے ہیں اور بھائیوں کی محبت اور اخلاق کی بہترین مثال مانتے ہیں تو انہوں نے رمضان کے بارے میں اس طرح لکھا کہ
رمضان کی خوشبو قریب تر ہو رہی ہے۔۔
یہ گنتی کے چند دن ہیں
رمضان11 مہینوں کے درمیان ایسے ہی ہے۔۔
کہ یوسف جیسے 11ستاروں کے درمیان تھے
پس تم اسے قتل نہ کر دینا۔۔
اور اسے اندھیرے کنویں میں نہ پھینک دینا!!
اور نہ ہی اسے سستی قیمت پر فروخت کر دینا۔
بلکہ اس کی عزت و تکریم کرنا۔۔
قریب ہے کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچائے۔۔
یا ہم قیامت کے دن اسے شفیع بنا لیں
کیونکہ رمضان ماہ قرآن بھی ہوتا ہے جتنی توجہ اور انہماک سے ہم رمضان میں قرآن پڑھتے ہیں۔ ہمارے بچےاسے نظروں کی زبانی سمجھ رہے ہوتے ہیں ،لہٰذا ان کو ساتھ رکھیں ان کو بھی وقتا ًفوقتاً قرآنی احکام حکمت کے ساتھ سمجھاتے رہیں۔ہر کام میں ان کو بھی اپنا مددگار بنائیں، ان سے پوچھیں آج کیا کیا؟قرآن کتنا پڑھا؟کیا سمجھا؟چلو آگے آج یوں کرتے ہیں ،یہ والا قصہ سمجھتے ہیں سورۂ کہف کی تفسیر جانتے ہیں جو تھوڑی تھوڑی کچی سورتیں ہیں، ان کو ترجمے کے ساتھ دوبارہ پڑھتے ہیں بلکہ یاد ہی کر لیتے ہیں۔ واقعی بچوں کا تو اسکول کا سپاروں کا کام بھی ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ مل کر کرنے سے ہمیں بھی بہت سی بھولی یا کچی سورتیں زیادہ ہو یاد ہو جاتی ہیں بلکہ اکثر اوقات نئی نئی معلومات اور ان کی گہرائی تک زیادہ اچھی طرح سمجھ آتی ہے اور بچوں کی زبانی ان کے اسکول یا دیگر اساتذہ کی بتائی ہوئی باتیں مزید اچھی لگتی ہیں اور بچوں کو بھی اس طرح دینی معلومات حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھانے کے لیے ایک حوصلہ افزائی ملتی ہے۔
وہ کھلتے ہیں ،انہیں نئے نئے سوالات دیکرآج کل تو آئی ٹی ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید مثبت راہ دکھا ئی جا سکتی ہےاورمزید گھروں میں دوستوں اور کزنز وغیرہ کے لیے کوئزاور دیگر تلاوت ترجمے وغیرہ کے پروگرام کر سکتے ہیں۔چھوٹے چھوٹے تحائف دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جا سکتی ہے ۔تجوید اوردیگر معلومات کو جگہ دے کر وقت کو مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ دینی تاریخی اور معلوماتی پروگرام مل کر دیکھیں اورانہیں بھی ان کے کرداروں پر گفتگو کر کے زیر بحث لا کر کردار سازی کی جا سکتی ہے۔اکثر ہم اپنے چھوٹوں سے بہت کچھ سیکھتے ہیں لہٰذا رمضان کا احترام، عبادات پر توجہ، وقت کی پابندی،احساس ذمہ داری کے جذبات کو فروغ دینا اور روزمرہ کی روٹین، زندگی کو منظم اور مؤ ثر بنانے میں مددگار ہوتی ہے۔انہیں اوقات کی پابندی کے لیے تو یہ ماہ رمضان کمال کی مشق ہے!!جنت الفردوس کمانے کے مواقع میسر ہونے پر شکر گزاری کا احساس دلائیں۔
صحت کے درست ہونے پر شکر گزاری اوربیماروں کےلیےخصوصی دعاؤں اور عبادات کےعمل کو اہمیت دلائیں۔ظاہر ہے جب ہم یہ سب کام اللہ کی خوشنودی اور مرضی کے مطابق ادا کریں گے اور بچوں کو بھی احساس دلوائیں گے کہ ان کے کاموں پر خوش ہو کر پیار کرنا انعام واکرام دینا، شاباشی دینا اوربھوکے پیاسوں کا کام چاہے پرندے ہی کیوں نہ ہوں ان کا خیال رکھنے پر اپنی خوشی اور اللہ تعالی کی خوشی کا ہر دم احساس دلانا ایک مسلسل عمل ہے۔ ظاہر ہے صرف صبح سے شام تک بھوکا پیاسا رہنا تو روزے کا مقصد نہیں؟جب تک ہم اپنے آپ کو اور دوسروں کو برے کاموں سے نہ بچائیں اور خود صبر و برداشت سے کام لے کر دوسروں کو بھی شر سے بچائیں اور خود بھی بچیں یہ سب کیسے ممکن ہے؟
جب نمازوں کا انتظار کرنے کی عادت پڑ جائےوہ بھی وقت پر تو یہ صرف ماہ رمضان میں میں ہی نہ ہوبلکہ سارا سال بلکہ ساری زندگی اس عمل پر جاری رہیں۔کبھی غافل ہو جائیں تو ضرور شرمندہ ہوں، تساہل سے بچیں، دوسروں کی محنتوں، رتبوں اور عزتوں کی قدر کریں گے تو ہی آپ باعزت ہوں گے۔ انہیں سمجھائیں تمام کاموں کو حسن و خوبی سے اور وہ بھی اعتدال کے ساتھ کرنے میں برکت اور رحمت ہوتی ہے۔ اس طرح تمام سحری افطاری ہی نہیں گھر کی صفائی ستھرائی، خریداری اور عید کی تیاری تک میں دوسروں کا احساس کرتے ہوئے اتفاق کی اہمیت سمجھانا گویا روزے میں مقصد کو پورا کر لینے کے برابر ہوتا ہے۔
ہرسال اس ماہ کو اسلامی تعلیمات کےمطابق گزارنے کی اس مشق کو چاند رات پر ختم کر دینا اور آزاد ہو جانااورتمام حدیں توڑ دینا اور بھیڑ بھاڑ کرنا،شور شرابہ، گانے لگانا، بیوٹی پارلر اورسیلون پر رش لگانا جیسے بالکل آزاد ہو گئے ہوں تو یہ سب خلاف آداب رمضان ہیں۔ تمیز تہذیب دراصل اچھے اخلاق ہیں جو دنوں یا مہینوں کے محتاج نہیں بلکہ زندگی بھر کا جامع عمل ہے۔ اللہ کی رضا اور خوشنودی کے بغیر جنت کا حصول نا ممکن ہے۔ یہ تو ایسی تربیت ہے جو ہمیں ہمیشہ اللہ کے احکام پر عمل کرنے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر قائم رہنے کی پابند بناتی ہے۔ بچے بڑوں سے زیادہ نیک ہوتے ہیں۔ کم عمر فرشتے! گر رمضان کے ماہ کی حقیقت، رحمتیں، برکتیں سمجھ جائیں تو سمجھیں ماں باپ اور پورے خاندان کیلئے عید کی خوشی سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ آخرکار یہی تو ہماری نہ صرف دنیا بلکہ آخرت کیلئے بھی ذریعہ نجات ہے اور اللہ کا انعام! اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کےمہینے میں بچوں کی ایسی مؤثر تربیت کی توفیق دے جو رب چاہی ہو من چاہی نہیں تاکہ نسلوں کی تربیت کا عظیم کام اللہ کی مدد اور ہماری نیک نیتی سے تکمیل پائے۔ آمین





































