
لطیف النساء
حدیث رسولﷺ ہے سب سے زیادہ وزنی چیز جو قیامت کے دن مومن کے ترازو میں رکھی جائے گی وہ اس کا حسن اخلاق ہوگا، سبحان اللہ!امی
مرحومہ کہتی تھی،زباں شیریں ملک گیری، یہ تو اس حدیث کا ہی مفہوم بنا،واقعی قرآن ہی تو ہمارا ضابطہ حیات ہے زندگی بھر کا ضابطہ عمل، جیسے کشتی بغیر پانی نہیں چل سکتی بالکل اسی طرح قرآن کو پڑھے بغیر سمجھے بغیر ہدایت مل ہی نہیں سکتی، ہم زندگی بھر دنیا کمانے کے لیے کتنی کتابیں پڑھتے ہیں، سرگرمیاں کرتے ہیں، اپنا پیسہ بنانے کے لیے اور کمانے کے لیے اور کامیاب ہو جاتے ہیں۔
دنیا کی زندگی میں بالکل اسی طرح سے زیادہ سمجھنے کی بات ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ زندگی کے طوفان تھم جائیں دل کو سکون ملے اور راستے روشن ہوں تو پھر ہدایت کے سمندر میں اترنا ہی ہوگا قرآن کے ساتھ، کیونکہ یہ صرف تلاوت کی کتاب نہیں ہے یہ تو زندگی کا نقشہ ہے،روشنی کا چراغ ہے، ترجمہ پڑھیں، سمجھیں، تدبر کریں تفکر کریں، تفسیر سمجھیں،اس پر وقت لگا ئیں، اس قرآن کے ساتھ جئیں، کیونکہ اسی قرآن میں ارشاد ہے'' یہ وہ کتاب ہے جس میں کوئی شک نہیں، ہدایت ہے پرہیزگار لوگوں کے لیے کتنی دفعہ ہم نے پڑھا ہے کہ اگر زندگی میں حقیقی سکون چاہتے ہو تو طبعیتوں میں محبت لاؤ یعنی زبان کو میٹھا کرو،گالی گلوچ سے بچو.
اللہ کی عبادت اختیار کرو، دوسروں سے محبت کرو،ظلم نہیں کرو بلکہ ظلم ہوتا ہوا دیکھو تو مظلوم کو بچاؤ، وعدہ کرو تو پورا کرو، یہی نہیں آپس میں ایک قبیلہ خاندان بن کر رہو، دوسروں کا حق پورا کرو اگر دوسرے سے ناراض ہوں تو معافی مانگ لیں کیونکہ ایک ایک بول کا تول ہوگا، ایک لفظ بھی ایسا نہ کہو جس سے دوسرے کا دل دکھے ''یہ تو سراسر اخلاق ہوا نا''؟ دین تو سراسر اخلاق ہے،پھر موت آئے گی تو فرصت ہی نہ ہوگی کہ دامن صاف کر لیں لہٰذا دامن کو صاف ہی کر کے رہو، میں نے سوچا کہ اس سے اچھا کوئی اور پیغام ہو ہی نہیں سکتا!بس یہی نئے سال کا پیغام بلکہ ہمیشہ ہر سال کے لئے کیونکہ اس کا تعلق ضابطہ حیات یعنی قرآن کے مسلسل مطالعہ اور اپنے عمل سے ہے!اللہ تعالی سب کو توفیق عمل دے۔ آمین یارب العالمین۔





































