
لطیف النساء
بڑی خوشی کی بات ہے کہ سڑکیں تعمیر ہو رہی ہیں اور کام ہو رہا ہے لیکن تمام لوگوں کا اس میں انفرادی اور اجتماعی تعاون چاہیے اور مستقل
بنیادوں پر اس کی حفاظت اور مرمت کرتے رہنا چاہیے کہ راستے ہموار رہیں اور زندگی آسان رہے کیونکہ یہی ہمیں اسلام سکھاتا ہے اور یہی دراصل انسانیت ہے ورنہ دیکھیں بلا وجہ تجاوزات کر کے اتنی مشکل! وہ آگے کام کیسے کریں؟ بلڈوزرکیسے چلے؟یکساں سڑکیں کیسے بنیں؟ وہ چلا ہی نہیں سکتے، وہ ہٹ دھرمی سے کیسے اس پر قائم ہیں ۔
انکلوژرزکو ختم کیا جائے اور سڑک کی تعمیر میں انصاف کے ساتھ بھرپور کردار ادا کیا جائے ،یہ انسانیت ہے۔ انسانیت ہی سراسر اخلاق ہی تو ہے جو مسلمان کی پہچان ہے! میرے پڑوسی ڈاکٹر نے بڑا تعاون کیا اور بات مانی اور منوائی ،الحمدللہ! تھوڑی تھوڑی چیزوں کے لیے ہم بالشت بھر زمین بڑھا کرخسارہ ہی سمیٹیں گے!۔
دنیا میں کیا فائدہ اٹھا لیں گے؟ زندگی تو آخرت کی کھیتی ہے! آخرت کا سودااسی دنیا میں کرنا ہے، اللہ کے لیے تمام لوگ بھائی بھائی بن کر رہیں اور راستوں کو صاف کریں ،ہموار کریں تاکہ زندگی آسان ہو اور ہمارے لیے آخرت کا معاملہ بھی ہموار آسان اور اچھا ہو۔کامیاب رہے اور کسی سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔ہمارا دل مطمئن ہو، روح مطمئن ہو،جبھی تو ہم سکون سے جی سکتے ہیں خود بھی جئیں اور دوسروں کو بھی جینے کا حق دیں،ناجائز تجاوزات سراسر بے ایمانی اور ڈاکہ ہے ،چوری ہے ،فعل بد ہے ،یعنی کرپشن ہے ۔
اللہ تعالیٰ ہم سب سے راضی ہو ،ہمیں ایسے کام کرنے کی توفیق دے ،آمین۔ذمہ دار ان سے تعاون کریں ۔یہ گھر ،یہ محلہ میرا شہر یہ ملک اس کا ہر ہر حصہ میرا ہے۔یہ ہے تو میں ہوں! جو امن کا خوشحالی کا خوبصورتی کا مظہر ہو اور ایک مسلمان کی شایان شان ہو! اللہ تعالیٰ اسے صدا سلامت رکھے- آمین





































