
لطیف النساء
المیہ! کتنے ہی افسوس کی بات ہے،اس الیکٹرانک میڈیا اور اس ٹیکنالوجی کے تیز رفتار دور میں بھی جہاں ایک کلک میں کام ہو
جاتے ہیں!ایک کلک سے ایک آرڈر پاس کر دیتے ہیں، کھانا تیارمنگوا لیا ایئرپورٹ کا ٹکٹ تیار، ڈاکٹر تیار،گاڑیاں تیار، ایک کلک پر آپ کی گاڑی آپ کے گھر پہ موجود،اتنے تیز رفتار دور میں اور اتنی ترقی یافتہ دور میں!الحمدللہ!پاکستان میں بھی کسی چیز کی کمی نہیں لیکن یہ کتنے افسوس کی بات ہے ہم اتنے بے حس اور قیمتی جانوں سے لاپروا کیوں ہو گئے؟ انسانی جان کی قیمت ہمارے نزدیک کچھ بھی نہیں؟ انسانی جان ہے تو پھر اس کا مال و اسباب اس کے لیے کارآمد ہے، ورنہ جب جانیں نہیں ہوں گی تو مال و اسباب کیا ہوں گے؟کہ کتنے لوگ تو گل پلازہ میں ہی سوتے ہوں گے، رہتے ہونگے؟آگ لگنے کے بعد اتنی دیر تک گھنٹوں تک اس کا انتظار کیا جاتا ہے، کتنے ہلاک ہوں گے، کتنے زخمی، اندازہ لگانا مشکل ہے۔
کیسے ریسکیو ٹیمیں وقت پر نہیں پہنچیں؟آپ اورہم نے کیسے فون نہیں کیے؟ وہ ایک کلک ہی ہوا؟کیا کوئی فضائی فوری مدد کی ضرورت نہ تھی؟ ابھی بھی؟ اور کوئی ہوائی جہاز آئے اور کچھ مائع فوم کاربن ڈائی آکسائیڈ ڈال کر آگ کو بجھا دے۔ یہ تو گھنٹوں کے کیا منٹوں کے کام تھے جو ہو سکتے تھے، کوئی ادارہ کوئی عوام کا نمائندہ، کوئی لاکھوں کروڑ وں رکھنے والے، اپنے اپنے جہاز اور اپنی اپنی کشتیاں رکھنے والے کسی کو اتنی جرات نہیں ہوئی کہ فوراً سے ریسکیو کریں اور اس پوری بلڈنگ کو جو اتنی بڑی جگہ، اتنی اچھی مارکیٹ تھی، کاروبار کا مرکز بنا ہوا تھا، پورا کراچی کا اور اس کو یوں لمحوں میں نہیں گھنٹوں تک جلنے کے لیے چھوڑ دیا گیا،اس کی ذمہ داری ہر فرد پر عائد نہیں ہوتی ہے جو اردگردرہتا ہے،جو جہاں بھی رہتا ہے خبر سنتے ہی متحرک ہونا چاہیے اور خطرے سے بچانا چاہیے۔.
ایک الارم کے بجنے سے متحرک ہوکر کتنے جلدی سے یہ کام ہو جاتا ہے! کہ لوگ ریسکیو کے تمام وسائل آزماتے ہیں ممکنہ نقصان سے بچانے کیلئے، دنیا کہاں پہنچی ہوئی ہے، ہم ابھی تک دلوں کی آگ بجھانے کے بجائے لگانے پر اڑے ہیں، بس یقین مانیں مارکیٹ کو کیا آگ لگی دل ہی جل گیا۔اللہ متعلقین کو صبردے، ہمت دےجو خاندانوں کے خاندانوں سے جڑے زیرو سے اربوں تک پہنچے ۔ روزگار اس سے بندھا تھا،نوکریاں ان سے جڑیں تھیں۔ اللہ ہی رحم فرمائے،سب پر رحم فرمائے(آمین)۔
انتظامیہ کو ہدایت دے،باپ کا رول نبھانے والی انتظامیہ کا کردار سوالیہ نشان ہی تو ہے! اوپر سے پریشان عوام! اورلٹیرے بے ایمان۔ اللہ کرم!حال ہی میں اس طرح کے واقعہ ہوا الارم بجا اور لوگ فوراً سیڑھیوں سے جلدی جلدی لوگ اتر کر جان بچا گئے اور کسی کا کوئی نقصان نہیں ہوا کیونکہ لفٹز خود بخود بند ہو جاتے ہیں کہ جی ایک ٹوسٹر کا جل جانا جو دھوئیں کی وجہ سے فائرا لارم بجا وہ اتنے محتاط! اور ہم! اتنے کاہل سست کہ گورنمنٹ کی طرف توجہ کرتے ہیں،ان کی طرف دیکھتے ہیں، آخر انسان کا اپنا ذاتی حق بھی کچھ ہوتا ہے اور ذاتی ذمہ داری بھی ہوتی ہے ۔کس چکر میں رہتے ہیں کہ ابھی بھی فائر فائٹرز آئیں گے اور وہ پانی پورا نہیں ہوا، اس میں پٹرول نہیں تھا،ایسے روئے ایسی باتیں پیش کر کے مزید زخموں پہ نمک چھڑکیں گے،لاکھوں کروڑوں کا مال اور اتنے کام کرنے والے ہزاروں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اور کتنے زیرو سے شروع ہونے والے کاروبار کو جنہوں نے کروڑوں لاکھوں لوگوں نے انہیں اربوں میں پہنچایا ہو گا!۔؎
خاندانوں کے خاندانوں کی ان سے کفالت وابستہ تھی ،وہ سب ایک لمحے میں کوڑیوں کے ہو کر روڈ پر آگئے!کتنی بے بسی کتنوں کو تو اس نقصان سے ہی ہارٹ اٹیک ہوا ہوگا ۔اللہ تعالیٰ بس رحم فرمائے اور سال شروع کے اس بڑے عظیم حادثے کے نقصان کو اللہ تعالیٰ اپنی جانب سے پورا کرے(آمین)۔
گورنمنٹ سے اور لوگوں کے ایمانوں سے انسان کیا شکوہ شکایت کرے؟ جب لوگوں میں خدا خوفی نہ ہو، آخرت کا احساس نہ ہو، دیکھیں جب اتنی دکانیں، اتنی بڑی بڑی عمارتیں جل گئیں،اتنے سارے لوگ جل گئے،یہ کیا ہمیں پیغام دیتے ہیں کہ ہم کیا زندہ رہ جائیں گے،ہم بچ جائیں گے؟ہماری چیزیں بچ جائیں گی؟نہیں کبھی نہیں بچیں گی،جب ہم دلوں کی آگ بجھا نہ سکے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس آگ سے بچائے،دشمنی کی آگ سے بچائے،اللہ محبتوں کی شمع ہمارے دلوں میں جلائے،جس کی وجہ سے ہم دنیا میں امن و خوشحالی لائیں اور خوف کی فضا کو ختم کر دیں ہر شخص کے اندر بیداری ہونی چاہیے،جان کی قدر ہونی چاہیے،احساس ذمہ داری ہونی چاہیے کیونکہ دوسری طرف دیکھنے سے بہتر ہے کہ خود ہی اپنے حصے کا دیا روشن کریں ۔کسی اور پہ بھروسہ نہ کریں ہم سارے مسلمان پاکستانی ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن جائیں کیوں نہیں اپنی مدد آپ کرتے اور کیوں نہیں فعال ہوتے،کیوں نہیں ہمیں ان کی قیمتی جانوں کی مالوں یعنی اپنے بھائیوں کی دولت مال اور ان کی نوکریوں کا ان کے گھر والوں کا کیوں نہیں خیال ہوتا۔
خدا کے لیے اللہ تعالیٰ کی زمین پر فساد نہ کرو اللہ کے بندے بن جاؤ، ایک دوسرے کا خیال رکھو۔ اللہ تعالی کو فساد پسند نہیں ۔ کسی بھی قسم کا فساد پسند نہیں ۔دکھ دینا تو دور کی بات ہر وقت ان کے دکھ میں شریک رہو، مسلم بھائی کا نقصان میرا نقصان ہے اللہ ان کی مدد فرمائے اور مزید نقصان سے بچائے،سب پر رحم فرمائے۔ آمین





































