
لطیف النساء
موبائل کو اصلاح کا ذریعہ بنائیے کیونکہ ٹیکنالوجی بھی انسان کی فلاح و بہبود کے لیے ہی عطا کی گئی ہے ,یہ آپ پر منحصر ہے
کہ آپ اسے کیسے استعمال کریں؟ رواں پیغام میں بتایا گیا کہ ایک عورت کے 300 ریال کھو گئے تو اس نے گلی میں ایک کاغذ پرلکھ کر ٹانگ دیا میرے 300 ریال کھو گئے ہیں جسے ملیں مجھے واپس اس پتے پر اس فلیٹ نمبر پر پہنچا دیں۔ میری پنشن بہت تھوڑی ہے اور مجھے اس کی ضرورت ہے تاکہ میں روٹی خرید کر کھا سکوں، ایک آدمی نے فیصلہ کیا کہ اس کی مدد کرے اور اس نے متعلقہ فلیٹ پر پہنچ کر 300 ریال اس بڑھیا کو دیئے تو اس نے وہ لینے سے انکار کر دیا وہ کہنے لگی کہ میں یہ نہیں لے سکتی کیونکہ آپ بارہویں آدمی ہیں جو میری کھوئی ہوئی رقم لوٹانے آئے ہیں۔
وہ آدمی مسکرا کر واپس جانے لگا تو اس بڑھیا نے اسے روکا اور کہا کہ یہ اشتہار پھاڑ دیں ،یہ میں نے نہیں لکھا اور روتے ہوئے کہنے لگی تم لوگوں کی رحمدلی مجھے امید دیتی ہے اور دنیا کی خوبصورتی دکھاتی ہے۔ اس طرح سے انسانیت باقی رہتی ہے ۔ابھی میں خوش ہوں کہ انسانیت باقی ہے کسی بھی ضرورت مند کو کبھی خالی ہاتھ نہ لوٹانا ،جبکہ تم نعمتوں سے لبریز ہو، صدقہ کرو کیونکہ صدقہ دوزخ کی آگ سے نجات دلاتا ہے۔
خوبصورت بات ۔۔۔واقعی یہی تو ہے کہ کفن میں جیب نہیں ہوتی، صدقہ کرو اسی کا حکم ہے حقیقت ہے ،ایک چھوٹی سی بھی نیکی اللہ رائیگاں نہیں کرتا،ایک چھوٹی سی بچی آئس کر یم کی گاڑی دیکھ کر اور اس کی آواز سن کر سجدہ کرنے لگی، کسی نے پوچھا کہ یہ کیا کر رہی ہو؟ تو اس نے خوش ہو کر بتایا کہ میری ماما جب بھی خوش ہوتی ہیں تو وہ سجدہ کرتی ہیں۔ اس لیے میں نے بھی سجدہ کیا،ایک مزدور مسجد میں کچھ ٹھیک کر رہا تھا اور پھر جب وہ ٹھیک کر کے جانے لگا تو اس نے اجرت لینے سے انکار کر دیا کہ میری ماں کی نصیحت ہے کہ مسجد میں جو بھی کام کرو اس کی کبھی مزدوری نہ لو۔ اس کا تقویٰ دیکھ کر میں حیران ہو گیا اور مجھے اس سے بڑی تقویت ملی۔
اللہ ہم سب کو اس طرح کا تقویٰ عطا کرے۔ آمین،اسی طرح ایک شخص اذان سے پہلے ہی مسجد میں پہنچ جاتا ہے تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں اذان سے پہلے مسجد میں چلے آتے ہیں تو اس نے کہا کہ میں امید کرتا ہوں کہ میں ان لوگوں میں شامل ہوں جن کو پکار کر بلایا جائے، اذان تو لوگوں کو جگانے کے لیے ہوتی ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ میں ان میں شامل نہ ہوں اور غافل نہ ہوں ۔
اللہ پاک!ہمیں توفیق دے اور ہماری حفاظت فرمائے۔ اسی طرح ایک شخص سے پوچھا گیا کہ تم مسجد میں ہی آ کر پانی کیوں پیتے ہو جبکہ تمہارے گھر میں پانی موجود ہے تو اس نے جواب دیا تاکہ جس شخص نے مسجد میں پانی رکھوایا ہے اس کو ثواب ملے، اس طرح کی نفیس روحیں ہمارے لیے ایمان کی تقویت کا باعث ہیں اور یقینا ًلوگ دعائیں مانگتے ہیں اور دعا سب سے زیادہ سجدے میں قبول ہوتی ہے۔
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم جب بھی سجدہ کریں تو اللہ سے توفیق مانگیں کہ اے اللہ پاک!میرا خاتمہ ایمان پر کرنا، اے رب العزت مجھے پہلے سچی توبہ نصیب فرمانا مرنے سے پہلے،اے پاک پروردگار اور دلوں کو پھیرنے والے میرے دل کو دین پر ثابت قدم رکھ تو یقینا ًہم سب اس دعا سے مستفید ہوں گے اور گاہے بگاہے ہمیں اسی طرح کے پیغامات عملی طور پر آگے بڑھاتے رہنا چاہیے اور خود بھی عمل پیرا ہونا چاہیے، پہلے خود عمل کرنا چاہیے پھر آگے بڑھانا چاہیے،عملی طور پر انہیں اختیار کرنا چاہیے۔ ا للہ تعالی بے چینیوں اور پریشانیوں کو دور فرمانے والے ہیں اسے ہمارا مانگنا بہت پسند ہے اور اللہ تعالیٰ کسی کی دعا کو رد نہیں کرتے،اسی لیے ہمیں ہر وقت اپنے پاک پروردگار سے ہی دعا مانگنا چاہیے جو سب کا پالن ہار ہے اور سب کاخالق و مالک ہے اور اسی کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ اے اللہ ہمیں دین و دنیا کی کامیابی عطا فرما۔آمین یا رب العالمین۔





































