
لطیف النساء
رمضان کے 30 روزے عادت نہیں عبادت ٹھہرے، کیوں کہ اللہ کے احکام پر جمے رہنا یعنی ان پرہمیشہ قائم رہنا ہی
زندگی بھر کا روزہ ہے اور یہی اللہ کے احکام پر کار بند رہنے کا نام ہے، ہر ہر لمحہ اس کی عبادت میں گزرے اور اس سے ڈرتے ہوئے زندگی گزاریں، کوئی برا کام نہ ہو،برا رویہ نہ ہو ،ہر عمل میں ہمیں اللہ ہی کی رہنمائی درکار ہے کیونکہ ہم نے جیسے پڑھا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا وہ یقیناً جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں یعنی کون لوگ؟اہل کتاب اور مشرکین میں ہم بھی شامل ہیں ،اہل کتاب الحمدللہ!لیکن اگر ہم نے رب تعالیٰ کی باتوں کو نہیں مانا ،اس پر عمل نہیں کیا اس کا مطلب ہم نے رب کے احکام سے انکار کیا!اگرچہ کہ ہم مسلمان ہیں لیکن اس کے باوجود جب فرما دیا گیا ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ،وہ یقیناًجہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے ،یہی لوگ بدترین خلائق ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیاوہ یقیناً بہترین خلائق ہیں اور ان کے قیام کیلئے جنتیں ہیں جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے،اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہوئے,اس شخص کے لیے جس نے اپنے رب کا خوف کیا! سبحان اللہ!اللہ ہی کی شان ہے جس نے رمضان کا مہینہ عطا فرما کر روزے رکھنے اور عبادات کرنے کی توفیق دی اللہ کا صد شکر الحمدللہ! کہ خدا کی مخلوقات میں سے سب سے حتیٰ کہ ملائکہ سے افضل و اشرف ہیں کیونکہ فرشتے نافرمانی کا اختیار ہی نہیں رکھتے اور ہم اس کا اختیار رکھنے کے باوجود فرمانبرداری اختیار کرتے ہیں تو یہی لوگ بہترین خلائق والے ہوئے اور اسی کے لیے اللہ تعالی نے کہا ہے کہ یہ اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی ہے۔ اللہ پاک! ہم سے راضی ہو آمین۔
پھر ہماری غفلت کیسی؟ با الفاظ دیگر جو شخص اللہ سے بے خوف ہوا اور اس کے مقابلے میں جری اور بے باک بن کر نہیں رہا بلکہ دنیا میں قدم قدم پر اس بات سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کر رہا تھا کہ کہیں مجھ سے ایسا کوئی کام نہ ہو جائے جو خدا کے ہاں میری پکڑ کا موجب ہو، اس کے لیے خدا کے پاس یہ جزا ہے۔ سبحان اللہ
وہ غنی ہے جو ہمارے اوپر حکمران ہے خالق ہے اور ہمارے ہر عمل کو جانتا ہے،ظاہر ہے وہ ہمارا خالق ہے کیا وہی نہ جانے گا؟ جس نے ہمیں پیدا کیا؟تو ہماری رگ رگ سے واقف ہے۔اس لیے ہمیں ہر عمل کا جائزہ لیتے رہنا ہے، خدا خوفی اور جواب دہی کے احساس کے ساتھ 30 دن کے روزے ہمیں یہ ٹریننگ دے چکے اور ہمیں دلوں میں اور دماغ میں رجحان پیدا کر دیتے ہیں کہ خدا خوفی کیا ہے؟ اورا حساس ذمہ داری! کیا ہے؟اور اس پر ہمیں لگے رہنا ہے لیکن یہ صرف 30 دن کا معاملہ نہیں ، جب رمضان ختم ہو جائیں تو بھی ہمیں اپنے اعمال کی مکمل اس پابندی کو جاری رکھنا ہے۔
رب سے جڑے رہنا ہے، روزانہ اس کی کتاب کو کچھ نہ کچھ ضرور پڑھنا ہے کہ اللہ کووہ عمل بہت پسند ہے جو مستقل ہو چاہے، وہ تھوڑا ہو! لیکن وہ خلوص کے ساتھ ہو! پھر انعام میں عید دی اورعید کی خوشیاں عطا کیں۔ شکر الحمدللہ! اللہ تعالی ٰہمیں نیک ہدایت دے کہ ہم خوشیوں میں بھی اللہ تعالیٰ کے آگے ہر ہر عمل کی جواب دہی کااحساس رکھتے ہوئے اپنے عمل کو آگے بڑھائیں کیونکہ ہمارا یہ ایک دن یا ایک ماہ کا روزہ نہیں ہے، پچھلی زندگی میں ہم نے کتنے ہی سال رمضان گزاریں؟الحمدللہ
دعاؤں کے ساتھ اس رمضان میں داخل ہوتے ہیں اور اپنے اعمال کو بدلنے کی حتی الامکان کوشش کرتے ہیں یہاں تک کہ اللہ تعالی ہمیں انعام میں عید دیتا ہے ہمیں اپنے دوست رشتہ داروں عزیز و اقارب سے ملنے اور خوشیاں منانے کا موقع دیتا ہے، اس احساس کے ساتھ کہ ہم نے اپنی عبادت کیں اپنے سے برائیوں کودور کرنے کی کوشش کی اور اس احساس کے ساتھ خوشی کا ساتھ زیادہ ہوتا ہے،برکتوں کا رحمتوں کا احساس پیدا ہوتا ہے اور اسی وجہ سے وہ ہمارے لیے عید کا دن ہوتا ہے اور اس خوشی کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو خوش نصیب سمجھتے ہیں ورنہ وہی ہمارے ارد گرد کتنے لوگ ہوتے ہیں رمضان تو کیا گزارتے رمضانوں میں بھی گزر گئے اور عید بھی انہیں نصیب نہ ہوئی!بعض تو روزے ہی میں گزر گئے!اللہ ان کی مغفرت فرمائے، اللہ تعالی ہمارے عمل کو قبول فرمائے اور یہ عید ہمارے لیے ایسی خوشیاں لائے جو دائمی ہوں اور جن کا انجام جنت الفردوس ہو اور جو ہماری زندگی کے مقصد کو کامیابی کی صورت میں عطا ہو اور یہی ہمارے لیے بہتر امید ہو، اللہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین یا رب العالمین۔





































