
لطیف النساء
یہ ہے ایک جنازے کا کھیل، ان کی معصوم سی دنیا میں خوشیاں تک سفید کفن اور جنازوں کے نا ختم
ہونے والے سلسلوں نے ایسے دھندلا دی ہے کہ ان کے ننھے دلوں میں غم دکھ درد اور جدائی کے احساس نے جگہ بنا لی ہے۔فضا بھی آج ان معصوم بچوں کی آواز سے لرز رہی ہے مگر ان میں شرارت سے کہیں زیادہ خوف اور درد پوشیدہ ہے۔ یہ ہاتھ تو گڑیا کو سجانے سنوارنے اور شادی بیاہ کے لیے ہوا کرتے تھے۔
یہ ان کا دل پسند کھیل ہواکرتا تھا اور آج یہی ہاتھ یہی معصوم بچے گڑیا کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر خاموشی سے ٹوٹی سی کرسی پر اپنی گڑیا کاہی جنازہ اٹھا کر لے جانے کا منظر دیکھا رہے ہیں۔کوئی چھوٹا سا بچہ دعا کیلئے ہاتھ اٹھاتا ہے تو کوئی دعا کرتا ہے، تو کوئی آمین کہہ رہا ہے، کوئی خاموش ہے کوئی،کلمہ اللہ اکبر کہتا جا رہا ہے۔ ایسے سوالات کے کسی کے پاس اس کا کوئی جواب ہی نہیں، اس کا سبب کہ اس عمر میں بہت ہی زیادہ بڑا صبر انہوں نے دیکھاہو گا۔
واقعی شہلا بہن،آپ صحیح کہہ رہی ہیں کہ کاش کوئی ان بچوں کو واپس وہ کھیل دے دے اور پھر سے وہ گڑیا کی شادی اور رنگ برنگی دنیا کی رونقوں میں لوٹ آئیں اور لفظ جنازہ ان کے لیے ایک افسوس کی خبر نہ ہو بلکہ ایک احساس ہو جو کامیابی اور خوش گواری اس کا انجام ہو مگر دنیا کا امن انہیں میسر ہو۔
کتنے ہی افسوس کی بات ہے کہ ٹوٹی سی کرسی پر اپنی گڑیا کو لٹا کر چند چھوٹے بچے جیسے جنازہ اٹھا کر لے جا رہے ہوں بالکل ویسے ہی مظاہرہ کر رہے ہیں، انتہائی سنجیدہ مغمو م گرتے پڑتے کوئی کچھ پڑھ رہا ہے،کوئی اللہ اکبر اونچا نیچا کرتے ہاتھ اٹھاتے کوئی آمین کہہ رہا ہے، کوئی دعا مانگ رہا ہے تو کوئی خاموشی سے تقدس سے کام میں پھر درد بھری آوازیں لگاتے ہوئے جا رہے لگتے ہیں۔صحیح راستے کا علم ہے نہ ہی دوسرے کا کچھ پتہ ہے، بس سنبھالتے اچھلتے پھدکتے کچھ بولتے جا رہے ہیں جنازے کی منظر کشی کر کے مطمئن ہیں۔ اللہ اکبر
کتنا دکھ ہے انہوں نے اپنی آنکھوں سے کیا کچھ نہ دیکھا ہوگا؟یہ منظر ان کے لیے ایک کھیل ہی تو بن گیا ہے!دنیا کی اتنی بڑی اور تلخ حقیقت کو وہ جان گئے مان گئے اور اس کے مراحل کا یوں بچوں میں کھیل کی حیثیت سے شامل ہو جانا سب دنیا والوں کے لیے لمحہ تعجب نہیں بلکہ لمحہ تشویش ہونا چاہیے، کیا یہی ترقی ہے، یا تنزلی؟ ے دل کے لیے موت مشینوں کی زندگی احساس مروت کو کچل دیتے ہیں آلات۔۔۔
یہ کہنا یہ ٹیکنالوجی یہ بم بارود یہ ڈرون، میزائیل، یہ ذمہ داری ہے اور یہ تخریب کاری جہالت ہے، امن کی تباہی ہے، انسانیت کی موت ہے اس کا کھلا اظہار یہ بچے کر رہے ہیں۔ کیا بڑوں نے انہیں ایسے ہی کھلونے دینے تھے؟ یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ مسلمان موت سے نہیں ڈرتا، موت مومن کا تحفہ ہے، تو کیا ہم ویسے مومن ہیں؟
وہ فلسطینی مجاہدین وہ شہداء غزہ و فلسطین انکا ایمانی لیول! وہ لوگ بھوکے پیاسے ان ہتھیاروں کا شکار بننے والے اپنی عمر کے آخری حد تک اپنی پاک سرزمین اور مقدس ملک اور ایمان کی خاطر ڈٹے رہے،ڈٹے رہنے والوں بچوں میں یہ کھیل پوری دنیا کے غافلوں کو دکھا کر مزید ایمان افروز کام کرنے پر آمادہ کر رہا ہے، اللہ پاک ہمیں موت سے پہلے موت کی تیاری کی توفیق دے اور ہم اس حال میں رب سے ملیں گے، وہ ہم سے راضی ہو اور ہم اپنے انجام سے خوش ہوں آمین۔ اللہ تعالیٰ ہم سب پر رحم فرمائے یہی کھیل رب سے ملاقات کا واضح پیغام ہے جو کھیل نہیں حقیقت ہے کیا اب بھی نہ مانو گے؟




































