
عالیہ رؤف / سیالکوٹ
زندگی کی اس دوڑ میں بہت سے لوگ ملتے ہیں ۔انسان وقت گزرنے کے ساتھ کئی لوگوں سے ملتا اور بچھڑ جاتا ہے۔ کچھ لوگ پرائے
ہو کر بھی اپنے بن جاتے اور کچھ اپنےہو کر بھی غیر انسانی رویے ،انسانی تعلقات ،ارادی یا غیر ارادی طور پر انسان لوگوں سے ملتا ہے ،جانتا ہے، پہچانتا ہے ۔کچھ لوگ انسان کو اچھے وقت کی یادیں دے جاتے ہیں اور کچھ تلخ تجربہ دے جاتے ہیں کہ انسان اعتبار کرنے سے پہلے سو بار سوچنے پر مجبور ہو تا ہے ، اس مطلب پرست اور موقع پرست معاشرے سے پالا پڑنے کے بعد ہی ہمارا اصل سفر شروع ہوتا ہے۔
مجھے ایسا ہی لگتا ہے کہ ہمیں کسی کو پہچاننے میں چند لمحے درکار ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھا ر کچھ رشتوں کو کچھ لوگوں کو پہچاننے کے لیے عمر یں بیت جاتی ہیں اور آپ ان کو پہچاننے سے قاصر ہوتے ہیں ۔سچ تو یہ ہے کہ ہر انسان حقیقت میں ایک ہی روپ کا مالک ہے مگر جب وہ دنیا داری، خود غرضی اور لالچ کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے تو پھر اس کو جاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ صرف چند رشتے ہیں جو ہمیشہ آئینے جیسے محبت شفقت کا پیکر ہوتے ہیں، ماں اور باپ ان کی محبت، ان کی چاہت، ان کی صورت دعا جیسی ہمیشہ ایک ہی روپ میں رہتی ہے ۔کبھی اس آئینے پر کوئی خراش ،کوئی نشان بے حسی نہیں ہوتا کیونکہ دنیا میں ان سے پیارا اور کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ ماں باپ ایک ایسے شفاف آیئنے کی مانند ہوتے ہیں جن کے دونوں طرف صرف محبت ایثار ، قربانی اور احساس اور وفا کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اللہ ہمارے ان شفاف آئینوں کو سلامت رکھے ۔آمین





































