
زہرہ یاسمین
تیزی سے گزرتےماہ و سال ۔۔
ہم مسلمانوں کا سال ہجری کیلنڈر قمری ہےیاشمسی کلینڈر؟اس بحث سےقطع نظر ایک بات تو بالکل طےہے کہ" نبی کریم ﷺ نے اللہ رب العزت کی
ہدایت کے عین مطابق قمری کیلنڈر کا ازسر نو نظام رائج فرمایا چاند کی تاریخوں کے مطابق ماہ رمضان فرض عبادت روزہ کے لیے مختص ہے اور عیدین یعنی دونوں عیدیں بھی چاند کی یعنی قمری تاریخ کے مطابق منائی جاتی ہیں۔ نیز ایام حج (فرض عبادت) اور قربانی(واجب ) کے لیے قمری مہینہ ذی الحجہ کی مخصوص مقرر تاریخیں من جانب اللہ ہیں۔
آج کل نئے سال کی آمد کا ہر جگہ شور ہے،بہت سے دینی حلقے نئے شمسی سال کی خوشیاں منانے کے بجائے قمری کیلنڈر پر مبارکباد پر زور دے رہے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بات ہورہی ہے پورا ایک سال گزر جانے کی اور نئے سال کی آمد کے شمسی سال کے دن تین سو پینسٹھ اور قمری سال کے دن تین سو پچپن یا چون ہوتے ہیں لیکن تیزی سے لمحہ لمحہ پگھلتی برف اور لحظہ لحظہ گزرتے وقت کی مانند سال پہ سال گزرتے چلے جارہے ہیں اور جیسے جیسے سال گزر رہے ہیں، ویسے ہی ہم بھی اپنے انجام یعنی اختتام سے قریب تر ہوتے جارہے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ کل نفس ذائقۃ الموت ہر ذی روح کو موت کا مزاچکھنا ہے۔ موت بر حق ہےاور آخرت پر ہمارا ایمان ہے۔ہم میں سے کسی نے اب تک دس بیس سال گزارے ہوں گےتو کوئی چالیس پچاس یا ساٹھ ستر سال گزار چکا ہے اور آگے اس دنیائے فانی میں کتناوقت گزار پائے گا ۔اس بات کی کسی کو بھی خبر نہیں بقول شاعر حیرت الہ آباد ی
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں
سامان سو برس کا کل کی خبر نہی
اسی تصور پر نظیر اکبرآبادی نے نظم بنجارا نامہ لکھ ڈالی۔ اس کا ایک شعر کچھ یوں ہے۔
کیا مسند تکیہ ملک مکاں کیا چوکی کرسی تخت چھپر
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارا
ہم سب کچھ جانتے ہوئےبھی انجان بنے ہوئے ہیں،محلےمیں ایک خاتون سے ملاقات ہوئی وہ نئی آئی تھیں ان کے ہاں کچھ ہدیہ لے گئے تھے تو نماز عصر کا وقت ہورہا تھا سردی میں نماز کا وقت کم ہوتا ہے اس لیے اجازت چاہی تو کہا کہ ابھی تو آپ اور ہم جوان ہیں یہ تو بڑھاپے کے شوق ہیں اپنے گھر میں موجود بزرگ خاتون کی جانب اشارہ کیا جو نماز کے بعد اذکار میں مصروف تھیں، انکے دو بچے تھے ایک بیٹی جو بڑی تھی تقریبا نو دس سال کی اور بیٹا سات سال کا تھا انہوں نے کہا تھا ہماری تو فیملی ہی مکمل ہوگئی ہے۔ وہ کچھ دیر مزید رکنے پر مصر ہوئیں تو ہم نےانکے گھر پر ہی نماز عصر پڑھ لی، ہمارے کہنے کے باوجود انہوں نے نماز ادا نہیں کی اور کہا میں صرف رمضانوں میں اور جمعہ کو نماز پڑھتی ہوں، بہرحال انکے لیے دعا کرتے واپس آگئے تقریباً سال ڈیڑھ سال بعد ان ہی خاتون کے ہاں بیٹی کی پیدائش کی خبر ملی مبارکباد کے لیے جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ بیٹی کی پیدائش کے کچھ دن بعد انہیں بلڈ پریشر بہت بڑھنے کی وجہ سے فالج و لقوہ ہوگیاہے۔ انکی عیادت کو جانا ہوا تو دیکھا انکی نومولود بچی اور دیگر دونوں بچوں کی وہی بزرگ خاتون دیکھ بھال کررہی تھیں جبکہ یہ بیچاری بستر پر تھیں انکے کیے دعائیں کیں انکو وضو کرایا اور ذکر و اذکار کی کتاب دی کہ آپ پڑھیں اللہ تعالیٰ بہتر کرے گا ۔انہوں نے اذکار شروع کردیے۔ تین ماہ بعد انکی بڑی بیٹی نے مجھے کہا کہ آنٹی امی نے کہا کہ اب میں پہلے سےبہتر ہو ں تو نماز کیسے پڑھوں بتادیں میں نے انکے گھر جاکر بیٹھ کر نماز پڑھنا سکھا دیا نماز کے بعد انہوں نے کہا بہن میرے بڑے بول مجھے لے ڈوبے میں اللہ سے دور ہوگئی تھی نماز سے غافل ہوگئی تھی اللہ نے مجھے اس بیماری سے احساس دلایا کہ ہم عاجز ہیں اختیار صرف اسی ایک رب کا ہے بے شک۔ الحمدللہ وہ مکمل صحتیاب ہوگئیں۔ اس واقعے کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے گزرے ماہ سال کی روشنی میں آئندہ آنے والے سال کو بہتر بنانے پر توجہ دیں۔ اس سے پہلے مہلت عمل ختم ہو جائے اور سال نو کی چکاچوند میں ہم کہیں کھو نہ جائیں۔




































