
زہرا یاسمین
نئی نسل کو شاید یہ آثارِ قدیمہ کی باتیں لگیں لیکن یہ باتیں ہیں اسی نوے کی دہائی کی اور سوفیصد سچ بات ہے ۔ہمارے پچپن کی نہیں، ویسے ابھی تک عمر کا پچپن نہیں
آیا ۔ ہمارے بچپن میں انک ریموور کی جگہ ایک بلینکو لیکویڈ ہوتا تھا جو نیل پالش جیسی پلاسٹک بوتل میں برش کے ساتھ ہوتا ہے جو صفحے سے غلط حرف مٹا دیتا تھا لیکن اس مٹے لفظ پر کچھ لکھ نہیں سکتے تھے۔اس کے ساتھ وائٹو بھی ایسا ہی ہوتا تھا وہ ذرا مہنگا ہوتا تھا لیکن اسکول میں ان کے استعمال پر سختی سے پابندی عائد تھی۔ یہ ہر بچے کی دسترس میں ہوتے بھی نہیں تھے، سستازمانہ تو تھا لیکن والدین اسے غیر ضروری سمجھتے تھے ،کچھ بچے پیسے ملاکر خریدتے اور بوقت ضرورت ایک دوسرے کو استعمال کے لیے دے دیاکرتےجبکہ کچھ صرف اپنے ذاتی استعمال کے لیے خریدتے تھے لیکن ان کا استعمال عام نہ تھا۔البتہ سب کے پاس اس دور میں کاپی ،رجسٹر، جرنل وغیرہ سے غلطی مٹانے کے لیے انک ربر واحد سہارا ہوا کرتا تھا جس سے کاپی اور صفحے کا بیڑہ غرق ہوجا یا کرتاتھا اور اسی وجہ سے ٹیچر کام صفائی سے کریں کے ریمارکس دیتے تھے۔
جرنل کے نمبر ہوا کرتے تھے۔البتہ اس میں صفحہ بدل کر الگ صفحہ لگانےکی سہولت ہوا کرتی تھی لیکن یکساں صفحے کی بر وقت دستیابی الگ درد سر تھی ۔ وہ تو بھلا ہو ہمارے بڑے بھائی صاحب کا جنہوں نے اپنی مہارت و ذہانت سے ہمیں اس مشکل سے چھٹکارہ دلانے کا ایک طریقہ ایجاد کرلیا تھا۔ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے ۔انہوں نے اپنے لیے یہ طریقہ ایجاد کیا تھاجو بعد میں ہمارے کام آیا ۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشہ سلامت اور شاد آباد رکھے۔ آمین۔
انہوں نے جو طریقہ نکالا تھا وہ اس دور کی خوش کن حیرت انگیز ایجاد تھی ،جسے انہوں نے چیپی کا نام دیا تھا۔اس چیپی کا استعمال ہمیں بھی سکھایا۔چیپی کیا ہے ؟ اسے آج کے دور میں جگاڑ لگانا بھی کہتے ہیں جس کاپی رجسٹر یا جرنل کا جو بھی صفحہ جس جگہ سے خراب ہوا ہوتا، اس پر اسی سائز کا ویسا ہی کاغذ اطراف کی لائنوں کا خیال رکھتے ہوئے بہت باریک کاٹ کر بڑی مہارت سے مطلوبہ مقام یعنی غلطی پراس طرح چپکادیاجاتاکہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہاں الگ سے کاغذ چپکا یا گیاہے اور جب وہ چیپی سوکھ جاتی تو بال پوائنٹ سے اس پر درست کرکے لکھ دیا جاتا ۔صفحہ بھی صاف ستھرا رہتا ،شاباشی بھی ملتی اور ٹیچرز کے برے ریمارکس سے بچت ہو جاتی حالانکہ اس وقت ریموور پین بھی متعارف ہوچکے تھے لیکن وہ معیاری نہ تھے بس کام چلاؤ تھے۔
چیپی خصوصاً نائنتھ ٹینتھ کے جرنل میں ہمارے اور دیگر اہل محلہ و رشتہ دار ساتھیوں کےبڑے کام آئی۔اس کی وجہ سے ہمیں ہرجرنل پر پورے نمبر ملے۔ ڈائیگرامز بھائی صاحب کے آرٹسٹک فن کی مرہون منت بہترین بنے ہوتے باقی اپنی کار گزاری تھی جس میں چیپی اور اضافی صفحات کی سہولت کام آئی۔
اسی دور میں کچھ آگے چل کر جبکہ چیپی کی چنداں ضرورت نہ رہی معیاری ریموور پین آگئے اور اس سے پہلے کہ چیپی بھولی بسری یاد بن کر رہ جاتی ۔ہمیں قریبی اقارب کے ہاں کسی بچی کی سالگرہ کی تقریب میں مع اہل خانہ شرکت کی جہاں مہمانوں کی خصوصاََ بچوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔میزبانوں نے پوش سوسائٹی کے مشہور بیکرز سے اسپیشل کیک ڈیزائن کرواکر آرڈر کرایا گیا تھا ۔سجاوٹ غبارے سب ہی بہت اچھا تھا جب کیک کھولا گیا تو دیکھا درخت کے تنے کی انتہائی خوبصورت شکل کا کیک جس پر دو چھوٹی شاخیں موجود تھیں ایک شاخ پر انتہائی مہارت سے رنگین طوطا سجا تھا جبکہ دوسری پر سرخ گلاب کا پھول پتیوں سمیت سجا تھا۔
یہ آئسنگ شوگر اور آٹے سے بنے ہوئےتھے۔یہ کیک صرف ایک پونڈ کا کیک تھا یعنی چھوٹا سا اور مہمانوں کی بڑی تعداد کے لیے ناکافی لگ رہاتھایعنی اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف تھا۔ ہم محو حیرت تھے ۔میزبان اب کیا کریں گے؟ لیکن آفرین ہو سالگرہ والی بچی کی کفایت شعاری میں ماہر پھوپھو کو جنہوں نے بڑی مہارت سے کیک کے انتہائی باریک تراشے کاٹ کر تمام شرکاکو تبرک کی طرح لیکن کھلا ہی دیا، ہم تو ان کی اس کار گزاری پرانگشت بدنداں رہ گئے۔تقریب سے واپسی پر بھائی صاحب نے ہم سب سےپوچھا۔ اور سناؤ چیپی ملی ؟ توہم سب بے ساختہ ہنس پڑے اور یک زبان ہوکر بولے جی ہاں ملی ،چیپی ملی، سب کا مشترکہ قہقہہ لگا ۔ پھر کیا تھا اس کے بعد اگر ہمارے ہاں کبھی کوئی چیز کم لگتی تو ہم اسے تبرک یا چیپی بناکر بانٹ دو کہہ کر چیپی کو خوب انجوائے کرتے۔
تو قارئین یہ تھی ہماری پیاری چیپی کی کہانی۔
کیسی لگی آپ کو یہ کہانی ؟




































