
عافیہ عدنان
توکل یعنی مکمل بھروسہ کرنا یا مکمل اپنےآپ کوکسی کے سپرد کر دینا اور اس توکل کی بہترین مثال حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی ہےکہ جس میں ایک لمحہ بھی
ان کے اللہ پر توکل میں کمی نہیں آئی اور نتیجے میں اللہ نے پوری دنیاکی امامت ان کوعطا فرمائی۔ جب ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زندگی کی طرف دیکھتےہیں توجوانی ہی میں اللہ پر توکل نے انہیں ایسی جرات عطا کی کہ تمام بتوں کو توڑ کر اس وقت کے سب سے بڑے بادشاہ نمرود کے آگے ڈٹ کر کھڑے ہو گئے اور آسمانوں تک سلگتی آگ میں جانے کو تیار ہو گئے کیونکہ انہیں پورا بھروسہ تھا اپنے پیدا کرنے والے پرتبھی تو فرشتوں کے سردار جبرائیل علیہ السلام کی مدد کی پیشکش کو رد کر دیا اور فرمایا میرے لیے میرا خدا کافی ہے ۔
وہ توکل ہی تو تھا جس کی بنا پر بڑھاپےمیں عطاکی ہوئی اولاد اوربیوی کوایک ایسی جگہ چھوڑ دیا جس کا تصوربھی ہمارے لیےمحال ہے۔عرب کا صحرا جہاں نہ درخت نہ چرند پرند یہاں تک کہ پانی کا نام و نشان تک نہ تھا ،حضرت ابراہیم بے شک رقیق القلب تھے مگر کیونکہ اللہ کا حکم تھا اور اس بات پر مکمل بھروسہ تھاکہ میرا اللہ انہیں ضائع نہیں کرے گا پھر آگے دیکھتے ہیں کہ جب وہ بچہ ذرا بڑا ہوتا ہے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام اسے اللہ کے حکم سے ذبح کرنے لے جا رہے ہیں، زمین و آسمان ساکت ہیں اور آہ وو زاری کر رہے تھے کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے ۔ایک لمحےکےلیےسوچیےکہ کیاہم اس بات کا تصوربھی کرسکتےہیں کہ اپنے جگر گوشے کو اپنے ہاتھوں ذبح کر دیں ۔اندازہ کریں اس توکل کا ،اس بھروسے کا جس نے ان کے اندر اتنی ہمت پیدا کر دی کہ کوئی ڈر کوئی خوف نہیں بس خدا کے حکم کے آگےسر تسلیم خم کر دیا ۔سبحان اللہ
بس اللہ کو یہ توکل ہم سےبھی مطلوب ہےاورجواس پر اس درجےکاتوکل کرے گا تو آج بھی اللہ تعالی اس کو اور اس کی اولادوں کو متقیوں کا امام بنا دیں گے۔ انشاءاللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





































