
عافیہ عدنان
انی وجہت وجہ للذی فطرس سماوات والارض
بے شک میں اپنا چہرہ اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جوآسمانوں اور زمین کاپیدا کرنے والا ہے۔(سورہ انعام)
یہ وہ الفاظ ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے دنیا میں موجود تمام مخلوقات سے بیزاری کے بعد کہے تھے اور اللہ کو ان کے یہ الفاظ اتنے پسند آئے کہ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی مسلمان ان ہی الفاظ کو پڑھتے ہوئے قربانی کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔
وجہ یعنی چہرہ یا رخ ہی دراصل ہماری سمت متعین کرتا ہے کہ کس سمت میں انسان جا رہا ہے۔
آج دنیا میں دیکھیں توکسی کی نگاہ مال ودولت کےانبار پرہوتی ہےاوروہ اسی رخ میں آگےبڑھتا ہے،کسی کی نگاہ عزت اور شہرت پر ہے اور وہ اسی کو پانے کے لیے اپنی عمر کھپا رہا ہے۔ کسی کی نگاہ یا رخ اپنی اولاد کو پڑھا لکھا کر اچھےاسٹیٹس تک پہنچانے میں لگی ہوئی ہے اور وہ اسی میں اپنا وقت اور توانائیاں لگا رہا ہےجبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم مثال ہمارے سامنے ہے،جنہوں نے اپنا وقت اپنی توانائیاں یعنی اپنا رخ اس رب کی طرف موڑ لیا جو اس پوری کائنات کا خالق و مالک ہے اور جس کے آگے ہم سب کو ایک نہ ایک دن پیش ہونا ہے۔بس دعا ہےکہ اللہ تعالی ہم سب کو شعوری مسلمان بنائیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔





































