
نصرت مبین
"دادی امی، کہانی سنائیں!" فاطمہ نے کہا۔
دادی نے کہانی شروع کی:"ایک شہزادی ہوتی ہے،جسےدیواٹھا کر لےجاتا ہےپھر ایک شہزادہ آتا ہےاوراُسےدیوکی قید سےآزاد کراتا ہے۔"
فاطمہ روز یہ کہانی سنتی، واقعات بدلتے رہتے مگرکردار وہی رہتے— شہزادی اور شہزادہ۔
فاطمہ آہستہ آہستہ بڑی ہوتی گئی۔ کوئی مشکل پیش نہیں آئی،جب کبھی کوئی مشکل آتی تووہ کسی شہزادےکی منتظر رہتی۔اگر ٹریفک جام ہو، تو اُسے امید ہوتی کہ کوئی شہزادہ لینڈ کروزر لے کر آئے گا اور اُسے ساتھ لے جائے گا۔
امتحان ہو رہےہوں، سوالات نہ آئیں — فاطمہ سوچتی "شہزادہ آئےگا،جادوئی آئینہ لائےگااورمیں اس کی مددسےاپنا پرچہ حل کر لوں گی۔"
جب فاطمہ کےرشتےآنا شروع ہوئےتوتمام رشتوں سےانکارکردیا گیا کیونکہ مطلوبہ رشتہ تو آیا ہی نہیں — شہزادہ تو آیا ہی نہیں۔
"شہزادہ آئے گا تو شادی ہو گی"
"نانی، کہانی سنائیں!" اشعر مستقل ضد کررہا تھا۔
نانی اُسے شیر،بندر،لومڑی،طوطےاورہرن کی کہانیاں سناتیں۔ہرروزنئی کہانی ہوتی مگر ہر کہانی میں ایک نیا جانور ہوتا۔
اشعر کی جانوروں میں دلچسپی بڑھ گئی۔ وہ ابو سےضدکرکے چڑیا گھرجاتا، ہر پنجرے پر لکھی معلومات پڑھتا۔
اپنے دوستوں کو جانوروں کی تصویریں بھیجتااوران کےبارےمیں تفصیل سےبتاتا۔اس نے کتا، کبوتر، مرغیاں اور بکریاں پالی ہوئی تھیں۔اس سب کے باوجود اشعر پڑھائی میں بھی اچھا تھا،اسی لیے اس نے جانوروں کا ڈاکٹر (ویٹرنری ڈاکٹر) بننے کا فیصلہ کیا۔تمام گھر والے اس کے فیصلے سے خوش تھے۔
نبیل کے ابو اُسے انبیاء کے قصے، صحابہ کرام کی زندگی کےحالات اوراولیاء اللہ کےطریقےبتاتے۔وہ نبیل کو پانچ وقت مسجد لےجاتے،نمازپڑھاتے،قرآن کی تلاوت کرواتے اور قرآن کا فہم سکھاتے۔نبیل نے بہت سی احادیث بھی یاد کر لی تھیں۔اب وہ دینی مدرسے کا طالب علم تھا اور مستقبل میں عالمِ دین بننا چاہتا تھا۔
فاطمہ،نبیل اوراشعرلائبریری میں اپنے بچوں کےلیے کتب تلاش کر رہی تھی۔وہ سوچ رہی تھی کہ دورِحاضر کے بچوں کوکیسی کہانیاں پسند آئیں گی؟
انہیں کیسی کہانیاں سنائی جائیں؟
کون سی کتابیں پڑھنے کے لیے دی جائیں؟




































