
عشاء بنت فاروق
مجھے بچپن ہی سے گھوڑے پسند تھے،نہ جانے کیوں ان کی آنکھوں میں مجھے ایک عجیب سی چمک نظر آتی تھی، جیسے وہ صرف جانور نہیں بلکہ احساس
رکھنے والی مخلوق ہوں۔ جب میں چھوٹی تھی تو گلی سے اگر کوئی گھوڑا گزرتا تو میں دوڑ کر دروازے تک آ جاتی۔ اس کی ٹاپوں کی آواز میرے دل کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ ہو جاتی۔ وہ مضبوط جسم، بلند گردن اور ہوا میں لہراتی ایال مجھے کسی شاہی کہانی کا کردار لگتی۔
وقت گزرتا گیا مگر گھوڑوں سے محبت کم نہ ہوئی۔ آج بھی جب میں کسی کھلے میدان میں دوڑتے گھوڑے کو دیکھتی ہوں تو دل میں ایک آزادی کا احساس جاگ اٹھتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے وہ زمین پر نہیں، میرے خوابوں پر دوڑ رہا ہو۔ اس کی رفتار میں ایک جنون ہوتا ہے مگر اس جنون میں بھی وقار اور نظم چھپا ہوتا ہے۔
جب میں قرآنِ پاک کی سورۂ سورۃ العادیات کی آیت سنتی ہوں “وَالعَادِيَاتِ ضَبْحًا” تو دل کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں کی دوڑ، ان کی پھونکوں اور ان کے سُموں سے اٹھنے والی چنگاریوں کی قسم کھائی ہے۔ یہ صرف ایک منظر نہیں، یہ عظمت کا اعلان ہے۔ میں جب یہ آیات سنتی ہوں تو میرے ذہن میں ایک میدانِ جنگ کا منظر ابھرتا ہے ,جہاں گھوڑے پوری وفاداری کے ساتھ اپنے سوار کو لیے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ان کی سانسوں کی آواز، ان کی رفتار، ان کا عزم سب کچھ ایمان کی طاقت کا استعارہ بن جاتا ہے۔
مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گھوڑا صرف ایک جانور نہیں بلکہ وفا، ہمت اور قربانی کی علامت ہے۔ وہ اپنے مالک کے لیے جان کی بازی لگا دیتا ہے۔ نہ وہ سوال کرتا ہے، نہ شکایت۔ بس دوڑتا ہے، پورے یقین کے ساتھ۔ شاید اسی لیے مجھے گھوڑے ہمیشہ سے پسند ہیں، کیونکہ ان میں وہ خلوص ہے جو کم ہی انسانوں میں نظر آتا ہے۔
بچپن میں میں اکثر سوچتی تھی کہ کاش میرے پاس بھی ایک گھوڑا ہوتا۔ میں اس کا نام رکھتی، اس کی دیکھ بھال کرتی، اس کے گلے سے لگ کر اپنے سارے دکھ سنا دیتی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ خاموشی سے سب سن لیتا۔ گھوڑوں کی آنکھوں میں ایک گہری سنجیدگی ہوتی ہے، جیسے وہ انسان کے دل کا حال پڑھ سکتے ہوں۔
جب میں قرآن کی یہ آیات سنتی ہوں تو مجھے اپنی اس بچپن والی محبت پر فخر محسوس ہوتا ہے۔ لگتا ہے کہ میرا دل ہمیشہ سے ایک ایسی مخلوق کی طرف مائل تھا جسے خود اللہ نے اپنی کلام میں یاد فرمایا۔ یہ سوچ کر آنکھیں نم ہو جاتی ہیں کہ جس جانور کی ٹاپوں کی آواز مجھے اچھی لگتی تھی، اس کی قسم ربِ کائنات نے اٹھائی۔
آج بھی اگر کہیں دور سے گھوڑے کی آواز آ جائے تو میں ٹھہر جاتی ہوں۔ دل ماضی کی گلیوں میں لوٹ جاتا ہے۔ مجھے اپنا بچپن یاد آتا ہے، وہ سادہ خواب، وہ معصوم خواہشیں مگر اب ان سب کے ساتھ ایک روحانی ربط بھی جڑ گیا ہے۔ اب گھوڑا صرف پسندیدہ جانور نہیں رہا بلکہ ایمان کی ایک علامت بن گیا ہے۔
شاید ہر انسان کے دل میں کوئی نہ کوئی ایسی محبت ہوتی ہے جو وقت کے ساتھ گہری ہوتی جاتی ہے۔ میری محبت گھوڑوں سے تھی ہے اور رہے گی۔ جب تک قرآن کی وہ آیات میرے کانوں میں گونجتی رہیں گی، “وَالعَادِيَاتِ ضَبْحًا”، تب تک میرے دل میں گھوڑوں کی ٹاپوں کی بازگشت بھی زندہ رہے گی۔ وفاداری اور ایمان کی ایک خوبصورت صدا بن کر۔ ان شاء اللہ تعالیٰ





































