
عشاء بنت فاروق
رمضان کے دن ایک ایک کر کے گزر رہے ہیں۔ سحری کی وہ خاموش گھڑیاں، افطار کے وہ
مختصر لمحے اور راتوں کی عبادتیں، سب آہستہ آہستہ ماضی حصہ بنتی جا رہی ہیں مگر دل کے اندر ایک سوال بار بار اٹھتا ہے کہ کیا میں نے اس رمضان اپنے رب کو واقعی راضی کیا؟۔
میں نے روزہ تو رکھامگر کیا میری آنکھیں گناہوں سے بچی رہیں؟ میری زبان نے کتنی بار کسی کا دل دکھایا؟ کتنی بار میں نے غیبت کی، جھوٹ بولا یا کسی کو نظر انداز کیا؟ اگر میرا رب آج مجھ سے پوچھ لے کہ "میرے بندے! تم نے میرے لیے کیا کیا؟" تو کیا میرے پاس کوئی ایسا جواب ہوگا جس پر میرا دل مطمئن ہو؟
رمضان تو ہمیں بدلنے آیا تھا، یہ مہینہ تو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے، گناہوں کو چھوڑنے اور اپنے رب کے قریب ہونے کا مہینہ تھا مگر کہیں ایسا تو نہیں کہ میں نے اسے بھی صرف رسمی سا بنا دیا؟ دن بھر بھوکی پیاسی رہی مگر دل کی دنیا میں ہی بھٹکتی رہی۔
افطار کے دسترخوان تو سجے مگر کیا میں نے کسی محتاج کی آہ سنی؟ راتوں میں تراویح تو پڑھیں مگر کیا کبھی سجدے میں ایسا لمحہ آیا ،جب دل ٹوٹ کر رو پڑا ہو؟ کیا کبھی میں نے تنہائی میں اپنے رب سے بات کی ہو :"اے اللہ! میں بہت کمزور ہوں ۔مجھ سے بہت غلطیاں ہوئیں، مجھے معاف کر دے۔"
آج جب رمضان رخصت ہونے کے قریب ہے تو دل گھبرا جاتا ہے۔ پتہ نہیں اگلا رمضان نصیب ہوگا یا نہیں۔ کتنے لوگ پچھلے سال ہمارے ساتھ تھے، آج وہ قبروں میں سو رہے ہیں۔ ان کی جگہ ہم کھڑے ہیں اور شاید اگلے سال ہماری جگہ کوئی اور ہو۔
یہ سوچ کر دل کانپ جاتا ہے کہ اگر آج زندگی کی کتاب بند ہو جائے تو کیا میرا رب مجھ سے راضی ہے؟ یا میری کوتاہیاں میرے سامنے کھڑی ہوں گی؟لیکن پھر بھی امید باقی ہے۔ میرا رب بڑا مہربان ہے۔ وہ ایک آنسو، ایک سچی توبہ اور ایک ٹوٹے ہوئے دل کو رد نہیں کرتا۔اس لیے ابھی بھی وقت ہے،اپنے دل کو جھکا لوں، اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لوں اور اپنے رب سے کہہ دوں۔۔۔
"اے میرے اللہ! اگر میں نے اس رمضان میں تجھے راضی نہیں کیا تو مجھے معاف کر دے۔ میری عبادتیں کمزور ہیں مگر تیری رحمت بہت بڑی ہے۔ مجھے اپنی مغفرت میں چھپا لے اور مجھے ایسا بنا دے کہ تو مجھ سے راضی ہو جائے۔"شاید ایک سچا آنسو ہی وہ راستہ بن جائے جو مجھے میرے رب کی رضا تک پہنچا دے۔





































