
عشاء بنت فاروق
عید صرف ایک تہوار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ایک خاص انعام ہے۔ یہ وہ خوشی کا دن ہے جو ایک طویل عبادت، صبر اور
قربانی کے بعد نصیب ہوتا ہے۔ رمضان المبارک میں مسلمان دن بھر روزہ رکھ کر نہ صرف بھوک اور پیاس برداشت کرتے ہیں بلکہ اپنے نفس کو قابو میں رکھتے ہیں. برائیوں سے بچتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ نیکیاں سمیٹنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب یہ بابرکت مہینہ اختتام کو پہنچتا ہے تو عید الفطر ایک انعام کی صورت میں سامنے آتی ہے، جو اس بات کی خوشخبری دیتی ہے کہ اللہ نے اپنے بندوں کی محنت کو قبول فرمایا۔
عید کی صبح ایک نئی روشنی اور نئی امید کے ساتھ طلوع ہوتی ہے۔ ہر طرف خوشی کا سماں ہوتا ہے، لوگ نئے کپڑے پہنتے ہیں، گھروں میں لذیذ کھانے تیار ہوتے ہیں اور سب ایک دوسرے کو گلے لگا کر عید کی مبارکباد دیتے ہیں۔ یہ دن محبت، اخوت اور بھائی چارے کا پیغام لے کر آتا ہے۔ عید ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہم اپنے دلوں سے کینہ، بغض اور نفرت کو نکال دیں اور دوسروں کے ساتھ خلوص اور محبت سے پیش آئیں۔
اس دن کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد موجود ضرورت مند لوگوں کا خیال رکھنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ صدقہ فطر اسی مقصد کے لیے فرض کیا گیا ہے تاکہ معاشرے کے کمزور افراد بھی عید کی خوشیوں میں برابر کے شریک ہو سکیں۔ اصل خوشی تب ہی مکمل ہوتی ہے جب ہم اپنی مسکراہٹوں میں دوسروں کو بھی شامل کریں۔ عید ہمیں احساس دلاتی ہے کہ انسانیت کی خدمت اور دوسروں کے دکھ درد کو سمجھنا ہی اصل عبادت ہے۔
عید کا دن دراصل شکر گزاری کا دن ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اللہ کی بے شمار نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں۔ رمضان میں جو روحانی تربیت ہمیں حاصل ہوتی ہے، عید اس کا عملی اظہار ہے۔ یہ دن ہمیں اس بات کا بھی عہد کرنے کا موقع دیتا ہے کہ ہم رمضان کے بعد بھی اپنی زندگی کو نیکی، سچائی اور تقویٰ کے راستے پر قائم رکھیں گے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ عید ایک مکمل پیغام ہے محبت کا، اتحاد کا اور شکر کا۔ یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ خوشی صرف حاصل کرنے میں نہیں بلکہ بانٹنے میں ہے,جب ہم اپنے رب کی رضا کے لیے جیتے ہیں اور اس کے بندوں سے محبت کرتے ہیں تو تب ہی عید کا اصل مقصد پورا ہوتا ہے۔ واقعی، عید رب کا ایک حسین انعام ہے جو ہر دل کو خوشی اور سکون سے بھر دیتا ہے۔





































