
طیبہ شاکر
" پاکستان " کتنا حسین نام ہے ،جسے سنتے ہی دل میں خوشیوں کے زمزمے پھوٹنے لگتے ہیں، ایک ایسا ملک جہاں اپنا راج ہے ،جہاں ہر کام اپنی مرضی سے
کر سکتے ہیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے ۔
اپنے دیس میں اپنا راج
خود ہی بگڑنا خود ہی سنورنا
اپنے بل پر آپ ابھرنا
جی ہاں ! آج اگر ہم آزاد ہیں ، آزاد فضاؤں میں سانس لے رہے ہیں ، اپنی مرضی سے سو اور جاگ رہےہیں تو یہ کوئی معمولی بات نہیں، اس کی بنیادوں میں ہمارے بزرگوں کا لہو شامل ہے ، عزت مآب بہنوں ،بیٹیوں کی تار تار عصمتیں شامل ہیں ، گھر بار ، مال مویشی ، عزت و ناموس ہر چیز کی قربانی دے کر یہ ارض پاک حاصل کیا گیا تھا ،ہمارے اباؤاجدادکا مقصد کیا تھا کہ بس ایک ملک حاصل کر لیں اور پھر وہاں جو جی چاہے کریں ؟؟؟
ہرگز نہیں اس کا اولین نعرہ تھا۔۔۔۔
پاکستان کا مطلب کیا۔۔۔۔۔ لا الہ الااللہ
جی ! آج اگر ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو اور سب کچھ مل جائے گا مگر " کلمہ والا پاکستان" کہیں نظر نہیں آئےگا ،افسوس صد افسوس جس کی خاطر لاکھوں جانیں لٹائیں جس کے لئے اپنا تن ، من ، دھن وار دیا وہاں آج یہ بحث چل نکلی ہے کہ پاکستان تو ایک " سیکولر " اسٹیٹ ہے لہٰذا یہاں ہر قانون چل سکتا ہے سوائے " اسلام" کے استغفراللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ⯑
یہاں اسلامیوں کا ناطقہ بند کیا جا رہا ہے۔ قائد اعظم کولبرل ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا جا رہا ہے ،انہیں شیعہ اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جا رہا ہے جبکہ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ " ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جو اسلام کی لیبارٹری ہو جہاں سے ساری دنیا کو اسلام کا صحیح پیغام پہنچے اور ہم یہاں دین اسلام کو اس کی روح کے مطابق نافذ کر سکیں " مگر افسوس یہاں کا سیکولر طبقہ اس راہ میں رکاوٹ بن گیا اور وہ وعدہ " وعدہ " ہی رہا جس کے لئے یہ ارض پاک حاصل کی گئی تھی ۔
اللہ کا فرمان ہے کہ " تم اپنا وعدہ پورا کرو تو میں اپنا وعدہ پورا کروں گا اگر تم مجھے بھلا دو گے تو میں بھی تمہیں بھلا دوں گا " (القرآن)
آج اسی وعدہ خلافی کا نتیجہ ہے کہ ہم ایک ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود بھکاری ہیں ،ہماری کوئی قدرو قیمت نہیں ،موم کی ناک بن کر رہ گئے ہیں، کوئی بھی مداری آتا ہے اپنی ڈگڈگی بجا تا ہےاور ہم اس کے پیچھے چل پڑتے ہیں۔
خدارا ! ہوش کے ناخن لیں، اپنا آپ پہچانیں۔ ہمیں تو ساری دنیا پر حکمرانی کرنی تھی ،یہ کیا کہ اپنے ہی ملک میں راندہ درگاہ ہو گئے، اب در در پر حاضری دیتے ہیں۔یہودی ساہوکار کے ہاتھوں میں اپنی معیشت کو گروی رکھ دیا ہے ،ہر طرح کا ٹیلنٹ ہونے کے باوجود غیروں کے دروازوں پر دستک دے رہےہیں ،ہمارا کوئی پرسانِ حال نہیں علامہ اقبال نے فرمایا تھاکہ۔۔۔
وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
ہائے ہم کیا کر بیٹھے خدا ناراض کر بیٹھے
ابھی بھی وقت ہمارے ہاتھ میں ہے، مایوسی کی دلدل سے نکلیں، اپنے آپ کو رب کے سامنے جھکائیں، اپنے قصور کی معافی مانگیں، وہ جلد ہی مان جاتا ہے۔ستائس رمضان المبارک قریب ہی ہے ،ہاں ! وہی یوم پاکستان کی خوش گوار یادیں لئے پاکستان کی سالگرہ کادن اللہ پاک نے ہمیں ایک دفع پھر اپنے وعدے کو نبھانے کے لئے یہ عظیم دن اور راتیں عطا فرما دی ہیں ،کتنا بڑا احسان ہے ،اس رب کریم کا۔ آئیے دعا کیلئے ہاتھ اٹھاتے ہیں۔
یا اللہ ہمارے سارے گناہوں کو بخش دے ہم نے بیشک اپنے اوپر بڑا ظلم کیا ہے ہم نے وعدہ خلافی کی ہے۔ یارب تو تو مہربان ہے رحمان ہے ،رحیم ہے معاف کرنا تیری صفت ہے ۔ہم عاصیوں کو بھی معاف فرما دے ۔ہمیں صحیح معنوں میں اسلام کا خادم بنا دے ۔ہمیں شعور عطا فرما کہ ہم نیک اور صالح بندوں کو اپنا حکمران بنا سکیں اس ملک خداداد کو اسلامی پاکستان بنا سکیں۔
آئیے عہد کریں کہ اپنے پیارے وطن کو ہر قسم کی سازش ، کرپشن ، بے حیائی اور تعصب سے نجات دلائیں گے اور اسے ایک مثالی اسلامی ، فلاحی اور
خوشحال پاکستان بنائیں گے: ان شاءاللہ





































