
طیبہ شاکر
نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے
اسلام نے عورت کو جتنے حقوق عطاء فرمائے ہیں ،مغرب اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ آج
مغرب میں عورت راندہ درگاہ ہے کوئی اس کا پرسان حال نہیں ،نہ کوئی اس کا گھر ہے نہ در لیکن یہ لوگ اسلام پر طعنہ زنی کرتے ہیں کہ انہوں نے عورت کو مقید کر رکھا ہے جبکہ اسلام نے تو عورت کو گھر کی ملکہ بنایا ،اسے بیٹی کا مقدس روپ دیا۔
عورت اسلام کی نظر میں تعمیر ملت کے لیے درکار ایک بڑی اور اہم اینٹ ہے ۔ عورت خاندانی ستون کی بنیاد ہے ۔تہذیب و تمدن اور امت کی ترقی میں اس کا کلیدی کردار ہے کیونکہ عورت ایک مشفق و مہربان ماں ہے ،ایک محبت کرنے والی غمگسار بیوی ہے ۔ بہن کی صورت میں گھر کی خوشی ہے۔یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ حقیقت میں یہ نئی نسل کی تیاری اور مردم سازی کے لیے حقیقی مدرسہ ہے۔
دین اسلام عورت کو اتنی فضیلتوں سے نواز رہا ہے تو یہ اغیار کو کیسے پسند آئے گا ،انہوں نے " آزادئ نسواں " کا نعرہ لگا کر ہماری خواتین کو بھی گمراہ کرنے کی ناپاک کوشش کی ،جس میں ہماری نسل نو گرفتار ہونا شروع ہو گئی۔ انہوں نے بھی " میرا جسم میری مرضی " کے غلیظ نعرے لگانے شروع کر دیے اور ہمارے ارباب اختیار نے بھی انہیں کھلی چھوٹ دے دی ہے ۔آج اگر دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں بھی بیہودگی کا طوفان ہے کہ الامان و الحفیظ۔
اگر آج اس طوفان بدتمیزی پر بند نہ باندھا گیا تو یہ سیلاب ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑے گا ،ہماری تہذیب ،ہماری اخلاقیات ہمارا دین و مذہب سب بہا کر لے جائے گا اللہ نہ کرے۔ابھی بھی وقت ہے ہم اپنے دین کی طرف لوٹ آئیں، وہ رب بہت مہربان ہے، جلدی ہی مان جاتا ہے، بس ندامت کے دو آنسو ہی کافی ہیں۔
آئیے دل سے دعا کریں کہ ہم اپنے رب کو منائیں گے ،یہ حجاب جو اس نے ہمیں عطاء کیا ہے، اس کی دل و جان سے حفاظت کریں گے ،اپنا وقار اور اپنی عزت سے کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دیں گے، ان شااللہ۔
طیبہ شاکر ۔





































