وزیراعظم کے بیان پر تنقید کیوں؟

زین صدیقی

وزیراعظم عمران خان کے بیان کو لے کرگزشتہ دنوں انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنا یاگیا اوران کےامریکی چینل کو دیئے گئے

انٹرویو میں خواتین کےلباس سے متعلق سوال کے جواب پر ملکی میڈیا طرح طرح کےتبصرے کر نے میں مصروف رہا ۔یوں لگ رہا تھا کہ جیسے برسوں بعد میڈیا کے ہاتھ کو ئی مرچ مسالے والی کہانی لگ گئی ہو ۔وزیر اعظم نے تو امریکی میزبان کے ایک سوال پر اتنا کہا تھا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ عورتیں برقعہ پہنیں ۔عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو مردوں پر اس کا اثر پڑے گا ۔الایہ کہ وہ ربوٹ ہو ،جہاں تک جنسی تشدد ہے ،اس کا تعلق معاشرے سے ہے ،جہاں لوگ ایسی چیزیں نہیں دیکھتے تو اس سے اثر پڑے گا ،لیکن امریکا جیسےمعاشرے میں کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔

ہمارے معاشرے میں بے راہ روی تیزی سےپھیل رہی ہے ،یہ جملہ ہم کئی دہائیوں سے سنتے آرہے ہیں۔ یہ جملہ آج کا نہیں ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ برائیاں پہلے سے چلی آرہی ہیں اوریہ ہم سے پہلے معاشروں میں بھی تھیں ۔ہمارا معاشرہ مسلم معاشرہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے رجحانات مغرب سے الگ ہیں ،وہاں جن چیزوں کی آزادی ہے ،ان چیزوں کی آزادی پاکستانی معاشروں میں ہے ،نہ ہی کسی صورت دی جاسکتی ،کیونکہ اسلام بہت سی ایسی چیزوں کی اجازت نہیں دیتا جس کی ممانعت ہے ۔

اب آئیے سنیے !ایک نجی چینل کی اینکر کو ہم نے یہ کہتے سنا کہ امریکا اور دیگر ممالک میں تو ریپ کے کیسز کم ہیں ۔یہاں بہت زیادہ ہو تے ہیں ۔دنیا بھر میں ریپ کیسز کی فہرست میں پہلے دس ممالک کی فہرست میں پاکستان شامل نہیں ہے ۔

نجی ٹی وی چینلز کے اینکرز وزیر اعظم کی اس بات پر سر دھنتے اور تاویلیں گھڑتے نظرآئے کہ عورت مختصر کپڑے پہنے گی تو مردوں پر اس کا اثر پڑے گااور اس بات کو لے کر اپنی ذہنی استطاعت کے مطابق بات کی جاتی رہی ۔یعنی قرار دیا گیا کہ مختصر کپڑے پہننا درست ہے ۔اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔

وزیر اعظم کا بیان غلط ہے ۔مختلف چینلز نے کچھ علمائے کرام کو بھی بیٹھایااور وزیر اعظم کے بیان پررائے لی جسے علمائے کرام نے درست قرار دیا ،جبکہ دین بیزار خواتین کواس بیان پر کھل کر بات کرنے کا بھرپورموقع فراہم کیا گیا ۔بعض علمائے علما کرام جنہیں ٹی وی پر وزیراعظم کے بیان پر رائے ظاہر کرنے کا موقع فراہم کیا گیا، اس پر کھل کر بات نہ کرنے اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں پردے اورعورت کے جسم کو ڈھانپنے کے احکام سے متعلق واضح انداز میں آگاہی فراہم نہ کرنے پر ہمیں افسوس ہوا ۔اسلام میں تو عورت کو مرد اور مرد کو عورت کا روپ دھارنے،کپڑے پہننے اور بال بنانے سے منع فرمایا ہے ،عورتوں کو اپنی شلواریں ٹخنوں سے اونچی رکھنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے ۔جسم کو ڈھانپنے اور منہ پر اوڑھنیاں لینے کا حکم دیا گیا ہے ۔اسلام میں تو عورت کی آواز کا بھی پردہ ہے ،جبکہ مردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور شرم وحیا اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کے لباس سے متعلق بیان پر اپوزیشن کی بعض جماعتوں نے بھی خوب سیاست چمکائی ہے۔ہمیں ان لوگوں کی جانب سے اس طرح کے بیانات سن کر لگاشاید یہ ایلین ہیں ۔خیر اسلامی ملک کے وزیر وزیر اعظم کے بیان کو جس بری طرح سے لیا گیا ،وہ افسوسناک ہے ۔ہونا تو یہ چاہیے تھا

 کہ بحیثیت اسلامی ملک کے سربراہ کے ان کے بات کو اون کیا جاتا اور اہمیت دی جاتی ،مگر ٹی وی چینلز اور ان پر تبصرہ کرنے والے دین بیزار لوگوں نے مغرب کو یہ پیغام دیا کہ ان کے نظریات کو دوام بخشنے کیلئے ان کے پیروکار ابھی زندہ ہیں ۔

ہم نے عام لوگوں کی رائے حاصل کی تو اکثریت نے وزیر اعظم کے بیان کی تائید کی اور کہا یہ بات درست ہے ،جو وزیر اعظم نے کہی ہے ۔ہمارا معاشرہ شدید دورنگی کا شکار ہے ۔اس معاشرے میں ہرطرح کے لوگ ہیں ۔ہر طرح کی سوچ اور فکررکھنے والے لوگ ہیں ۔ہم اللہ کو مانتے ہیں مگر اس کے احکام کی کھلی خلاف ورزی بھی کرتے نظر آتے ہیں ۔بنی پاک کے امتی ہیں ،مگر پوری طرح سنتوں پر عمل بھی نہیں کر رہے ۔شراب اسلام میں حرام ہے ،مگریہ جانتے بوجتے ہوئے بعض لوگ اس فبیح لت میں مبتلا ہیں ۔ہر شخص دعوے دار ہے کہ وہ اچھا ،دیانتدار اور برائیوں سے پاک ہے ،مگر آزما نے پر معلوم ہوتا ہے کہ وہی فرد اتنا بڑاا خائن اور جھوٹاہے ۔سادہ سی بات یہ ہے کہ کوئی شخص خامیوں سے خالی نہیں مگر ہر شخص اسے تسلیم نہیں کرتا۔

اب سنیے کچھ جاہل لوگ وزیراعظم کے بیان کو مفتی عزیز کی زیادتی اوربچوں سے زیادتی کے واقعات سے جوڑ کر وزیر اعظم کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی کوشش میں مصروف رہے،جو یاتو ان کی جہالت کی عکاس ہے یا وہ اتنے معصوم ہیں کہ وہ اس زمین پر ہی نہیں رہتے۔کیا انہیں نہیں پتا کہ بچوں سےریپ کے واقعات کیوں ہوتے ہیں ؟ ۔

سب سے پہلے ہم مفتی عزیز اوران جسے تمام واقعات کی شدیدمذمت کر تے ہیں اورسمجھتے ہیں کہ ریاست کو انہیں اپنے عبرتناک انجام تک پہنچانا چاہیے ،مگر ان واقعات کی آڑ میں مدرسوں کو بدنام نہیں بالکل نامناسب اور غلط عمل ہے،کیونکہ اس سے والدین کا مدرسوں پر اعتماد ختم ہوگا ۔دینی مدارس تو اسلام کے قلعے ہیں۔یہ تو اللہ کی طرف لانے کا بڑا ذریعے ہیں ۔کوئی بھی فرد گھناو ¿نا فعل کرتا ہے تو اس میں اس کی اپنی ذات ذمہ دار ہے اور اسے اس کی کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے ۔شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے اور ایک مومن پر اس کے حملے یقینی ہیں اورمومن کا ان حملوں سے نہ بچنا ایسی ذلت میں ڈال سکتا ہے جو آج مفتی عزیز بھگت رہا ہے ۔

وزیر اعظم نے جو بیان دیا اس میں کوئی دو رائے نہی ہیں ،ان کا لباس سے متعلق بیان معاشرے میں پھیلنے والی برائیوں کا صرف ایک نکتہ ہے ،جبکہ باقی وجوہات ہیں ۔فحش مواد دیکھنا ، جسمانی ساخت کو عیاں کرنا ،بے پردگی یقینا دیگر وجوہات میں شامل ہیں ۔اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کی کیوں تخلیق کی دنیا جانتی ہے ،پھر ان کے جوڑے بنائے یہ بھی دینا جانتی ۔پور ی دنیا میں برائیاں ہیں ۔بعض برائیوں کا تعلق انسان کی اپنی ذات کی حد تک ہوتا ہے۔ بعض برائیاں دوسروں کو متاثرکر دینے والی ہوتی ہے ۔بہترین انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی برائیوں پر قابو پالے ۔

پاکستانی معاشرے میں حکومتی سطح پرکوئی تربیت نظام نہیں ہے ،کتب پڑھا ئی جاتی ہیں یا والدین بچوں کو مدرسوں میں پڑھا تے ہیں ۔کتابوں اور مدرسوں سے جو کچھ علم ملتا ہے ۔ان سے علم لینے والے خوش نصیب ہوتے ہیں ،مگر برائیوں سے بچنے کی تربیت کا بھی کوئی موثرنظام ہونا چاہیے ۔یہ نظام اسکولوں کی سطح پر ہو تو نئی نسل میں بہتری آسکتی ہے ،جس میں اخلاق کی تربیت کی جائے ،یہاں محض والدین گھریلو سطح پر اپنے طور پر بچوں کو اچھی اور بری باتوں سے گاہے بگاہے بتاتے رہتے ہیں جو ناکافی ہے ۔

اللہ پاک نے عورت اور مرد میں ایک دوسرے کیلئے کشش رکھی ہے،ساتھ ہی کچھ چیزوں کا پابند بھی بنایا ہے اوریہ پابندی اس لیے ہے کہ معاشرہ غلط سمت پر نہ نکل جائے ۔وزیر اعظم کے بیان پر انگلیاں اٹھانے والوں سے دین کے بارے میں سنو تووہ تاولیں پیش کریں گے۔اول تو وہ دین کی بات نہیں کرتے ،مگر کریں گے بھی تو کہیں گے دین آسان ہے ۔یہ لباس سے متعلق بات کرنا انتہا پسند ی ہے،مگر یہی لوگ اصل میں دین کے ضابطہ حیات  سے عاری ہوتے ہیں۔

 

 

 

شہر شہر کی خبریں

الخدمت کا کراچی کےشہریوں کو آکسیجن کی مفت فراہمی کا فیصلہ

کراچی (رنگ نو ڈاٹ کام )الخدمت نے کورونا وباکی موجودہ صورتحال کے پیش نظرشہریوں کو آکسیجن کی مفت اور فوری فراہمی

... مزید پڑھیے

نور مقدم قتل کیس: ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور ملازمین کو جیل بھیج دیاگیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)اسلام آباد سیشن کورٹ نے نور مقدم قتل کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کے والدین اور

... مزید پڑھیے

رحمت ویلفیئرٹرسٹ کے تحت مستحق خاندانوں میں قربانی کا گوشت تقسیم

کراچی ( رنگ نو ڈیسک ) رحمت ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب بانی ٹرسٹ مرحوم رحمت بھائی کی روایت کو براقرار رکھتے ہوئے

... مزید پڑھیے

تعلیم

بی ایس سی اور بی اے ریگولر کے امتحانی فارم جمع کرانے کی تاریخ میں توسیع (تعلیم)

کراچی(تعلیم ڈیسک)ناظم امتحانات جامعہ کراچی ڈاکٹر سید ظفر حسین کے مطابق بی ایس سی اور بی اے ریگولر سالانہ امتحانات

... مزید پڑھیے

موسم گرما کی چھٹیوں کو 14 اگست تک بڑھانے کی تجویز پرغور ہو گا (تعلیم)

اسلام آباد(ویب ڈیسک) موسم گرما کی چھٹیوں کے معاملے پر بین الصوبائی وزرائےتعلیم کانفرنسکل بدھ کو طلب کرلی گئی ہے۔ بین

... مزید پڑھیے

اطفال باہم معذوری کوگورنمنٹ اسکولوں میں تعلیم دینا حکومت کی ترجیح ہے (تعلیم)

راولپنڈی (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی،فوٹو فائل )وفاقی وزیر تعلیم اور پیشہ وارانہ مہارت شفقت محمود نے اطفال باہم معذوری کے

... مزید پڑھیے

کھیل

چوتھا ون ڈے: پاکستان ویمن نے ویسٹ انڈیزکو 4 وکٹوں سے ہرا دیا

اینٹیگو (اسپورٹس ڈیسک۔فوٹو فائل) پاکستان ویمن نے چوتھے ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میچ میں ویسٹ انڈیز ویمن کو 4 وکٹوں

... مزید پڑھیے

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ گروپس تشکیل، پاک، بھارت گروپ ٹو میں شامل

دبئی(اسہورٹس ڈیسک)ٹی ٹو ئنٹی کرکٹ ورلڈ کپ کے لیے آئی سی سی نے گروپس تشکیل دے دیئے گئے ہیں ۔ روایتی حریف

... مزید پڑھیے

ویمنز اے سیریز، پاکستان نے ون ڈے میچ میں ویسٹ انڈیز کوہرادیا

اینٹیگوا(اسپورٹس ڈیسک )پاکستان اے ویمن ٹیم نے دوسرے ون ڈے میچ میں ویسٹ انڈیز اے کو 80 رنز سے ہرا کر تین میچوں کی

... مزید پڑھیے

تجارت

ایف بی آر: پیٹرول پر عائد کردہ سیلز ٹیکس میں مزید کمی کردی گئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وفاقی حکومت نے پیٹرول پر عائد کردہ سیلز ٹیکس میں مزید کمی کردی ہے۔ اس ضمن میں فیڈرل بورڈ آف

... مزید پڑھیے

گزشتہ ہفتے9 ضروری اشیا کی قیمتوں میں کمی،19 اشیا میں استحکام رہا

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) ملک میں مہنگائی کی صورتحال پر بیوروبرائے شماریات نے تازہ اعدادوشمار جاری کردیئے، جس کے

... مزید پڑھیے

فلور ملز ایسوسی ایشن کی ہڑتال،آٹے کے بحران کا خدشہ

لاہور (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی)فلور ملز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں ہڑتال شروع کردی اور آٹے کے بحران کا خدشہ پیدا

... مزید پڑھیے

دنیا بھرسے

جموں و کشمیر میں عید الاضحی کے موقع پر نماز عید کی اجازت نہیں ہوگی : بھارتی حکام

سرینگر(ویب ڈیسک،خبر ایجنسی)غیر قانونی طور پربھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں ڈویژنل کمشنر کشمیرپنڈورنگ کے پول

... مزید پڑھیے

دہشت گردی کی مدد سے روکا ،فساد پھیلانے سے منع کیا جائے ،خطبہ حج

مکہ مکرمہ (ویب ڈیسک ،فوٹو فائل)مسجد الحرام کے خطیب اور امام شیخ بندر بن عدالعزیزبلیلہ نے خطبہ حج میں کہا ہے کہ

... مزید پڑھیے

طالبان کی کمر جلد توڑ دی جائے گی، علاقے واپس لیں گے:افغان صدر

کابل (ویب ڈیسک) افغان صدر اشرف غنی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی کمر جلد توڑ دی جائے گی، زیرِ قبضہ علاقے

... مزید پڑھیے

فن و فنکار

اداکارعدنان صدیقی کورونا وائرس کا شکار، خود کو آئسولیٹ کرلیا

لاہور(شوبز ڈیسک) پاکستان شوبز انڈسٹری کے سینئر اداکار عدنان صدیقی بھی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے۔ اداکار عدنان صدیقی

... مزید پڑھیے

حقیقی مرد درندہ صفت لوگوں کے خلاف آواز اٹھائیں: صبا قمر

لاہور (شوبز ڈیسک)اداکارہ صبا قمر نے ملک بھر میں خواتین کے خلاف تشدد و قتل و غارت گری کے بڑھتے واقعات پر اپنے مرد

... مزید پڑھیے

فلم کی کہانی کیلئے ریما کو 4 سال سے خلیل الرحمان کا انتظار

لاہور (شوبز ڈیسک) اداکارہ اور فلم پروڈیوسر ریما خان کا کہنا ہے کہ فلم کی کہانی لکھوانے کیلئے خلیل الرحمان قمر کا 4 سال سے

... مزید پڑھیے

دسترخوان

اسپائسی فش اسٹکس

قرة العین
اجزا
مچھلی کے فلے۔۔ 500 گرام

... مزید پڑھیے

کوفتہ ہرا مصالہ پلاﺅ

انتخاب:امِ سعد

:اجزاءکوفتہ کیلئے

... مزید پڑھیے

بلاگ

سفر حج ۔۔۔۔۔۔سفر محبت (بلاک)

اسما معظم

تیسرے حج کی خوشی میں مونا نے گھر میں آج ایک بہت بڑی دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ سسرال اور میکے دونوں طرف کے تمام

... مزید پڑھیے

الخدمت ہرمشکل صورتحال کیلئےتیار (زین صدیقی)

تحریر:زین صدیقی (عکاسی : نعمان لودھی )

مجھے یاد ہے کہ گزشتہ برس مون سون کے موسم میں جب کراچی میں طوفانی بارشیں آئیں توشہر کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔

... مزید پڑھیے

وزیراعظم کے بیان پر تنقید کیوں؟ (زین صدیقی)

زین صدیقی

وزیراعظم عمران خان کے بیان کو لے کرگزشتہ دنوں انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنا یاگیا اوران کےامریکی چینل کو دیئے گئے

... مزید پڑھیے