
تحریر:زین صدیقی (عکاسی : نعمان لودھی )
مجھے یاد ہے کہ گزشتہ برس مون سون کے موسم میں جب کراچی میں طوفانی بارشیں آئیں توشہر کا کوئی پرسان حال نہیں تھا۔
ہرطرف تباہی کے منا ظر تھے ،شہر مکمل طور پر بارشوں میں ڈوب گیا تھا ۔نشیبی علاقوں اور نالوں پر قائم آباد یوں کے گھروں میں پانی یوں داخل ہوا کے تباہی پھیر گیا ۔ایسے میں ہمیں سڑکوں پر کوئی نظر نہیں آیا ۔نظر آئی تو صرف الخدمت اور اس کے سیکڑوں رضاکارجنہوں نے اپنی جانوں کی پروا کیے بغیر لوگوں کونہ صرف ریسکیوکر کے محفوظ مقام پر منتقل کیا بلکہ شہر کے متاثرہ علاقوں تک پہنچ کر ان آ باد یوں تک بارش کے پانی سے گزر کر خشک راشن ،تینوں وقت کا کھانا اور پینے کا پانی بھی پہنچایا ۔یہ لمحات الخدمت کے کیلئے تاریخی تھے کیونکہ اس وقت این جی اوز کے لحاظ سے یہ واحداین جی او تھی جو شہریوں کی خدمت میں مصروف تھی اور اس کے کام کو میڈیا پر بھی خوب سراہا گیا ۔الخدمت کے ان سارے کاموں کااس کے ناقدین نے بھی اعتراف کیاجو الخدمت کر خدمات پر مشتمل تاریخ کا سنہری باب ہیں ۔کراچی میں مون سون کی بارشیں گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے تواترکے ساتھ ہو رہی ہیں ،مگر نالوں کی صفائی ،سیوریج کا نظام درست نہ ہونے کی وجہ سے ان بارشوں میں شہریوں کے لیے مشکلات کی تلوارلٹکی رہتی ہے ۔
الخدمت نے گزشتہ چند برسوں میں ہونے والی طوفانی بارشوں کے پیش نظر شہر کو آئندہ ممکنہ مون سون کی بارشوں اور کسی بھی ممکنہ صورت حال سے بچانے کے لیے رواں برس ایک بڑا فیصلہ کیا،جس کے مطابق کہ شہر کے 12مقامات کا تعین کیا گیا۔ ریلیف سینٹرز قائم کیے اور ہر سینٹر کیلئے ایک ذمہ دار کا بھی تعین کیا ۔ان علاقوں میں سرجانی ،گلبرگ ،کورنگی ،ائرپورٹ،نیو کراچی ،شرقی ،غربی ،جنوبی ،وسطی ،ضلع ملیر ،قائدین اور الخدمت ہیڈ ا ٓفس شامل ہیں ۔
الخدمت نے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں استعمال ہونے والا سامان ان ریلیف سینٹرز کے ذمہ داران کے حوالے کر نے کے لیے ایک خصوصی تقریب کا اہتمام کیا ۔
تقریب بہادرآد کلب کراچی میں منعقد کی گئی ،جہاںپر ایک جانب یہ سامان انتہائی ترتیب اور مہارت سے سجایا گیا تھا ۔ ´اس سامان میں واٹر بوٹ ،آگ بجھانے کیے آلات،لانگ بوٹ ،مختلف اقسام کے دستانے ،واٹر سوئمنگ جیکٹس،فرسٹ ایڈکٹس ،سیفٹی ہیلمٹ ،بیلچے ،کلہاڑیاں ،کدال ،مٹی اٹھانے والی ٹرالیاں ،ہتھوڑے،ڈرل مشینیں، کٹرز،تین فوڈ ،واتر کولرز،ہائی جین کٹس ،رسیاں ،رین سوٹ سمیت دیگر سامان شامل تھا ۔یہ تمام وہ اشیاءتھیں جو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے درکار ہوتی ہیں ۔
الخدمت کے تحت منعقدہ اس خصوصی تقریب میں کے مہمان خصوصی پاکستان رینجرز سندھ کے ونگ کمانڈر کرنل مصور عباس تھے ۔چیف ایگز یکٹو الخدمت نوید علی بیگ ، ،امیر ضلع قائدین سیف الدین ایڈووکیٹ ،ڈائریکٹر کمیونٹی سروسز قاضی سید صدر الدین ،یوسی چیئر مین جنید مکاتی ،میجر عبد الواحد غوری،آغا خان کے سینئر فیکلٹی ممبر ڈاکٹر عظیم الدین ،صنعت کار بابر خان،اربن پلانر توحید احمد،ذوہیب طاہر نے خطاب کیا ،جبکہ نائب امیر جماعت اسلامی راجہ سلطان عارف ایگز یکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی ، ڈائریکٹر آرفن کیئرپروگرام فاروق کاملانی،یوسف محی الدین اور دیگر ذمہ داران کے ساتھ والنٹیرز کی بڑی تعداد موجود تھی ۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کرنل مصور عباس نے الخدمت کی کاوشوں کو زبر دست خراج تحسین پیش کیا ۔انہوں نے کہا کہ الخدمت اپنے کاموں کی وجہ سے کسی تعریف کی محتاج نہیں ۔الخدمت نے جتنا اچھا کام کیا ہے یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ہم نے اجلاس بلایا اور اس میں مون سون کی بارشوں کے حوالے سے ممکنہ خطرات اور اس کے لیے تیاری کے سلسلے میں جائزہ لیا اس وقت ڈیزاسٹر کیلئے جو ساز وسامان درکار تھا وہ سو فیصد یہی تھا ۔

انہوں نے الخدمت کے جذبے کوسراہتے ہوئے کہا کہ مشکل صورت حال میں جہاں امدادی کاموں کو بڑھ چڑھ کر کرنے میں رینجر زکا نام آتا ہے، وہاں دوسرا نام الخدمت کا ہوتا ہے ۔ کرنل مصور عباس نے کہا کہ ساکھ (Credibility ) اور وسائل (Resources)کاایک جگہ ہونا مشکل ہوتا ہے ۔رینجرز کے پاس ساکھ (Credibility ) ہے۔ الخدمت کے پاس یہ دونوں چیزیں موجود ہیں ۔ رینجرز ہر جگہ پر موجود ہے اور کام کررہی ہے ۔انہوں نے امیدظاہر کی الخدمت آئندہ بھی اسی انداز سے کام کر ے گی ۔
نوید علی بیگ نے کہا کہ الخدمت زندگی کے 7شعبہ جات میں کام کر رہی ہے۔اس کا ڈیزاسٹرمینجمنٹ کا شعبہ نہایت اہم شعبہ ہے ۔اس شعبے کے حوالے سے ہمیں لوگوں اور مخیر افراد کی جانب سے پذیر ائی مل رہی ہے ۔یہ نہایت اہم کام ہے جو ہم کر رہے ہیں ۔الخدمت نے ہمیشہ آگے بڑھ کر کام کر نے کی کوشش کی ہے ۔گزشتہ برس مون سون میں کراچی میں بڑی تباہی آئی تھی ،اسی کے پیش نظر الخدمت نے رواں برس مزید آگے بڑھ کر کام کر نے کا فیصلہ کا ہے ۔ریلیف سینٹرز کو دیا گیا سامان ممکنہ ہنگامی صورتحال میں ریسکیو اور یلیف کے کاموں میں استعمال ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ ہنگامی صورت حال میں سب سے مشکل عمل ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا مشکل ہو تا ہے ۔اسی لیے الخدمت نے یہ فیصلہ کیا کہ شہر بھر میں 12مقامات پر یہ سامان اور آلات ہونے چاہئیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے رضاکارسازوسامان کے ساتھ پر وقت متاثرہ مقام پرپہنچ سکیں۔انہوں نے کہا یہ نہایت اہم کام تھا جو جون میں مکمل کرنے کا چیلنج تھا اور اسے مکمل کر دیا گیا ہے ۔اس کا سہرا قاضی سید صدرالدین اور ان کی ٹیم کے سر ہے ۔نوید علی بیگ نے کہا کہ کہ اللہ نہ کرے کہ کراچی کومشکل وقت دیکھا پڑے ،مگر ہمیں اس کیلئے تیار رہنا چاہیے ۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ نعمت اللہ خان جب ناظم کر اچی بنے تو سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ انتظامیہ کو بلا کر انہوں نے پوچھا کہ کون کون سے شعبے سٹی گورنمنٹ میں ہیں ،ہمیں معلوم ہوا کہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا کو ئی شعبہ نہیں تھا ۔نعمت اللہ خان نے ڈیزاسٹر کا شعبہ بنایا ۔ان کی نظامت جانے کے بعد سے ان شعبے کا کوئی پتا نہیں ۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے لحاظ سے یہ ایک المیہ ہے ۔ہنگامی حالات سے نمٹنے کیے لیے کو ئی آلات دستیاب نہیں تھے ۔
قاضی سید صدر الدین نے کہا کہ الخدمت نے کورونا کی وبا کے دنوں میں بھرپورکام کیے ۔24گھنٹے شہریوں کو آکسیجن سلنڈر مفت فراہم کیے گئے۔کسی سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ بر س ہونے والی بارشوں سے قبل ہم نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا ،جس کے تحت ہم نے رضاکاروں کی تربیت کیلئے پروگرام منعقد کیے تھے ،تاکہ رضاکارمنظم انداز میں خدمت انجام دے سکیں ۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد رضاکاروں کو جدید تربیت اور تقاضوں سے آراستہ کرنا ہے ۔

میجرعبد الواحدغوری نے کہا کہ ہنگا می حالات سے نمٹنے کیلئے یہاں رکھا گیا سامان دیکھ کر حیران ہوں کہ الخدمت ننے اتنے منظم انداز میں یہ کام مکمل کیا ۔ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لحاظ سے یہ معیاری اور عمدہ سامان ہے ۔انہوں نے کہا کہ اللہ نہ کرے کراچی پر برا وقت آئے،مگر اس کی تیاری بھی اچھی بات ہے ۔ہم سب الخدمت کے کاموں میں اس کے ساتھ ہیں ۔
ڈاکٹر عظیم الدین نے کہا کہ یہ الخدمت کا خاصہ ہے کہ یہ مشکل وقت میں ہر جگہ پہنچتی ہے ۔الخدمت ناظم آباد میںڈائیگنو سٹک سروسز کو توسیع دے رہی ہے اسپتال جہاں ایم آرآئی ،ڈیسکااورسی ٹی اسکین سمیت دیگر سہولتیں میسر ہوں ہوں گی ۔
جنید مکاتی نے کہا کہ مادہ پرستی کے دور میں کچھ لوگ اللہ کی راہ گامزن ہیں اور یہ اللہ کے بندوں کیلئے سوچتے ہیں اوران کے کام آتے ہیں ۔الخدمت کے پاس بڑی تعداد میں رضاکارہیں ۔کوڈ19-میں الخدمت نے جو کام کیے ان کی مثال نہیں ملتی ۔
ذوہیب طا ہر نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ بات محسوس کی ہے کہ الخدمت محبت اور اخلاص کے ساتھ کام کر تی ہے ۔یہ حکومت کے کرنے کے کام ہیں جو الخدمت کر رہی ہے ۔مون سون کی بارشوں اور مشکل حالات کی تیاری کیلئے الخدمت نے جو کام کیے ہیں وہ خوش آئند ہیں ۔
توحید احمد نے کہا کہ الخدمت ڈیزاسٹرمینجمنٹ نے ریسکیو ریلیف کےکاموں کیلئے تمام 12مقامات کو وہاں کی ضروریات کو دیکھ کر منتخب کیا ہے ۔پہلی بار ایسا دیکھا ہے کہ کسی این جی او نے اتنےاچھے انداز میں تیاری کی ہو۔
بابر خان نے کہا کہ جب حکومتیں اپنا کام نہیں کرتیںتو اللہ کے بندے میدان میں آتے ہیں ۔میں الخدمت کو کئی دہائیوں سے کام کرتا دیکھ رہا ہوں اور یہ مشکل وقت میں کام کو چیلنج سمجھ کر کام کرتی ہے ،یہی اس کی خوبی ہے ۔
الخدمت نے اپنا کام تو پڑے اچھے انداز میں کیا ہے اور یہ کئی دہائیوں سے مسلسل کر تی آرہی ہے ،لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ مخیر حضرات اس کا دست وبازوبنیں ۔الخدمت کے کاموں میں اس کا بھر پور ساتھ دیں کیو نکہ یہ مختلف شعبہ جات میں لوگوں کی حقیقی خدمت کرنے میں مصروف ہے ۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا ۔تقریب کے باقاعدہ آغازسے قبل قومی ترانہ پیش کیا گیا جو لوگوں نے احترام کے ساتھ کھڑے ہو کر سنا ،جبکہ الخدمت کے تمام رضاکاروں نے حلف بھی اٹھا یا اور عہد کیا کہ وہ ہر مشکل گھڑی میں ملک وقوم کی خدمت کے لیے اپنا تن من دھن قربان کر دیں گے ۔




































