
زین صدیقی
کراچی پاکستان کا وہ شہر ہے جہاں عید الاضحیٰ پر ملک بھر میں سب سے زیادہ جانوروں کی قربانی کی جاتی ہے اور فی سبیل اللہ
قربانی میں بھی اس کا پہلا نمبر ہے۔عید الاضحی توایثار وقربانی کا درس دیتا ہی ہے مگر اس شہر بے مثال میں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ ماضی میں بدقسمتی سے کھالوں کی چھینا جھپٹی،کھالیں نہ دینے پر جانوروں کو گولی مارنے کے واقعات ہر سال کا معمول تھا،جس سے اسی شہر کے باسی خوف ودہشت میں مبتلا رہتے تھے اور کھالیں جمع کر نے والی حقیقی این جی اوز کو اس حق سے محروم کر نے کی کوششیں کی جاتی تھیں تاکہ وہ کسی طرح کھالیں جمع نہ کر یں۔اسی وجہ سے یہ این جی اوز مخمصے کا شکار رہتی تھیں کہ کہیں انہیں اس بار بھی کھالیں جمع کر نے کیلئے ایک صبر آزما مرحلے سے گزرنا پڑے گا ۔ یہ ڈر مسلسل برقر ار رہتا تھا کہ کہیں کھال وصول کرتے وقت پھرگولیاں نہ چل جائیں ،کوئی فرد زخمی نہ ہوجائے یا خدانخواستہ مارا جائے ۔اللہ اللہ کرکے یہ خوفناک دور ختم ہوا ۔ایساکرنے والے اللہ کے فضل وکرم سے خود ہی قصہ پارینہ بن چکے ہیں،مگر الحمد اللہ گزشتہ کئی بر س سے اہل کراچی پر امن انداز میں سنت ابرا ہیمی کی ادائیگی میں مصروف ہیں ۔ انہیں نہ اب کو ئی خوف ہے نہ ہی کو ئی ڈر ۔جانوروں کو کئی کئی روز پہلے لانے اور ان کی خوب خدمت کرنے کا شوق بھی سال با سال پروان چڑھ رہا ہے ۔
ماضی کے خوف اور دہشت کے اس ماحول میں کھالوں کی قیمتیں بھی نمایاں تھیں ،مگر آج جب حالات مکمل طور پر معمول پر ہیں ۔ لیدرکی مارکیٹ کریش کرچکی ہے۔ لیدر انڈسٹری کھالوں کی زیادہ قیمتیں دینے کو تیار نہیں،یہی وجہ ہے کہ لوگ اب کھالیں جمع کرنے کے کام کو غیر منفعت بخش کام سمجھتے ہیں ،لیکن قربانی کی ایک کھال کسی ضرورت مند اور غریب کی زندگی میں تھوڑی سی خوشی لانے کا ذریعہ بن سکتی ہے اور اسی مقصد کے پیش نظر الخدمت نہ ہی خوف و دہشت کے ماحول میں کبھی پیچھے ہٹی، نہ ہی کھالوں کی کم ترین قیمتوں سے پریشان ہو کر اس نے اس کام کو ترک کرنے کا سوچا ،انسانیت کی بھلائی کیلئے وہ پہلے بھی اس شعبے سے جڑی ہوئی تھی اور آج بھی ہے ۔
پاکستان کی سب سے بڑی این جی او الخد مت کی عوامی خدمت کے حوالے سے ایک تاریخ ہے ۔ یہ60کی دہائی سےکھالیں جمع کر نے کا کام سر انجام دے رہی ہے اور یہ استقامت کے ساتھ ڈٹی ہو ئی ہے۔ بہت سے وہ لوگ جوکھالیں جمع کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگا دیا کرتے تھے،آج کھالوں کی قیمتیں انتہائی کم ہونے کی وجہ سے ایک قدم پیچھے ہٹ چکے ہیں ،مگر الخدمت اپنی روایات کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔گزشتہ بر س کی طرح رواں بر س بھی عید الا ضحیٰ پر الخدمت کے رضاکار شہر بھر سے کھالیں جمع کرنے کیلئے تینوں دن سرکرداں رہے ۔الخدمت نے کراچی کے تنظیمی طور پرتقسیم 11اضلاع میں ایک نیٹ ورک ترتیب دیا گیا،جہاں سے علاقائی سطح کے کارکنان نے کھالیں جمع کر کے ضلعی دفاتر تک پہنچایا اور وہاں کھالیں ایک جگہ جمع کرنے کے بعد انہیں الخدمت کے تحت کورنگی اور سہراب گوٹھ کی ٹینریز میں منتقل کیا گیا ۔الخدمت کی ان دونوں ٹینریز میں کھالوں کو محفوظ بنانے کے بہترین انتظامات کیے گئے تھے۔ان ٹینریز پر شہر بھر سے آنے والی گاڑیوں کی لمبی قطاریں تھیں ۔تینوں دن الخدمت کے ان رضاکاروں نے انتہائی محنت ،جانفشانی اور اخلاص کے ساتھ کام کیا ،جو قابل ستائش تھا۔اس کے پیچھے صرف اور صرف رضائے الٰہی کے حصول کا جذبہ پوشیدہ تھا ،اس کے سوا کچھ نہیں ۔
رضاکاروں کے ساتھ الخدمت کہ ذمہ داران بھی کھالیں جمع کرنے ،فی سبیل اللہ قربانیوں اور مستحقین میں گوشت تقسیم کرنے کے عمل میں مشغول رہے اور تینوں دن اپنی خوشیاں قربان کر کے رضا اللہ کے حصول کے جذبے کے ساتھ میدان عمل میں رہے ۔
الخدمت کراچی کے تحت عید الاضحی پر سیکڑوں جانوروں کی فی سبیل اللہ قربانی بھی کی گئی ، فی سبیل اللہ قربانی الخدمت کے مرکز پر بھی گی گئی اور شہر میں قائم قربانی مراکز پر بھی کی گئی،جہاں بکرے ،گائے اور بچھڑے ذبح کیے گئے اور ان کا گوشت مستحقین تک ان کی عزت نفس کا خیال رکھتے ہوئے پہنچایا گیا۔الخدمت نے عیدالاضحیٰ پر اسرائیلی جنگ سے متاثرہ فلسطینیوں ،کشمیریوں ،شامی اور برمی مہاجرین کیلئے ان کے قریب ترین علاقوں میں فی سبیل اللہ قربانی کا اہتمام کیا اوران نہیں محفوظ طریقے سے قربانی کا گوشت پہنچایا ۔ فی سبیل اللہ قربانی کیلئے مخیر حضرات کا جذبہ کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،جنہوں نے خوشیوں کی اس گھڑی میں الخدمت کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے انہیں یاد رکھا اور ان کیلئے قربانی میں بھر پور معاونت کی ۔
الخدمت کی جانب سے شہر بھر میں200 قربانی کے مراکز قائم کیے گئے تھے ،جبکہ جدید سلاٹر ہاو ¿س کا بھی اہتمام کیا گیا گیا،جہاں انتہائی مہارت کے ساتھ بہترین انداز میں قربانی کی گئی اور گوشت کوچلز میں محفوظ کر کے انہیں لوگوں تک پہنچایا گیا ۔الخدمت کے ہزاروں رضاکاروں نے کراچی بھر میں کھالیں جمع کر نے اور گوشت کی تقسیم کے عمل کو مکمل کامیابی سے ہم کنار کیا ۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن بھی تینوں دن انتہا ئی مصروف رہے،انہوں نے نہ صرف ٹینریز کا دورہ کیا بلکہ مختلف اضلاع میں قائم قربانی مراکز بھی گئے اور فی سبیل اللہ قربانی اور کھالیں جمع کرنے کے کاموں کا معائنہ کیا اور تمام رضاکاروں کا حوصلہ بڑھا یا ۔چیف ایگز یکٹو الخدمت نوید علی بیگ بھی تمام صورتحال کو مانیٹر کیا اور مختلف قربانی مراکز کا دورہ کیا،جبکہ ایگز یکٹو ڈائریکٹر الخدمت راشد قریشی اور ڈائریکٹر کمیونٹی سروسز قاضی سید صدرالدین عید الاضحی کی اس مہم میں بیک وقت کئی امور کی انجام دہی میں مصروف رہے ۔
حافظ نعیم الرحمن نے ضلع وسطی، ضلع گلبرگ وسطی، ضلع شرقی، ضلع ائیر پورٹ، ضلع کورنگی اور ضلع جنوبی سمیت الخدمت کے تحت قائم اجتماعی قربانی اور مہم چرم قربانی کے مراکز کا دورہ اور دور دراز علاقوں میں گوشت کی تقسیم کے سلسلے میں قائم سلاٹر ہاو ¿س کا بھی دورہ کیا۔ تمام انتظامات اور گوشت کی جدید اندزا میں کٹائی اور اسے چلر ز میں محفوظ کرنے کے عمل کا معائنہ کیا ۔اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے الخدمت کے رضاکاروں کے جذبے کی تعریف کی ۔
حافظ نعیم الرحمن نے میڈیا سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کراچی کے شہریوں کی جانب سے الخدمت پر اپنے بھرپوراعتماد کا اظہار ہے کہ وہ ہر سال بڑے پیمانے پر اجتماعی قربانی میں حصہ لیتے ہیں اور کھالیں بھی دیتے۔ شہری جانتے ہیں کہ الخدمت واحد ایسا ادارہ ہے، جس کے پاس تمام حسابات کا آڈٹ موجود ہے۔ الخدمت ملک بھر میں مختلف شعبوں میں گراں قدرخدمات انجام دے رہی ہے اور لوگوں کے غم سمیٹنے اور ان میں خوشیاں باٹنے میں مصروف ہے۔ یہ مخیر افراد کے تعاون ہی سے ممکن ہوتا ہے کہ یہ کراچی میں صحت ، تعلیم ، روزگار، صاف پانی سمیت زندگی کے دیگر شعبہ جات کام کررہی ہے ۔
انہوں نے کہاکہ الخدمت کے تحت ہر سال اجتماعی قربانی میں سپرآسان، آسان قربانی اور اجتماعی قربانی کے نام سے قربانی کی جاتی ہے۔ الخدمت کے رضاکار مبارکباد کے مستحق ہیں جو فی سبیل اللہ خدمت خلق کا کام کررہے ہیں ۔
۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ الخدمت چاہتی ہے کہ وہ اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کر ے لیکن اس کیلئے اس طرح کی محنت اورمخیر حضرات کے تعاون کی ضرورت ہے ۔




































