
زین صدیقی
بارشوں کے بعد سخت سردی میں سندھ اسمبلی کے باہرجماعت اسلامی کراچی کا دھرنا جاری ہے ۔ جماعت اسلامی کے کارکنان
پرعزم ہیں اوروہ دھرنےکےمقام سےمطالبات تسلیم ہوئے بغیر جانے کو بھی تیار نہیں۔
جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ یہ ہےکہ سندھ کے بلدیاتی قانون کو آئین کے آرٹیکل 140 اے کے مطابق تشکیل دیا جائےاوربلدیاتی اختیارات کو نچلی سطح پرمنتقل کیا جائے۔
جماعت اسلامی سمجھتی ہےکہ بلدیاتی اختیارات نچلی سطح پرمنتقل کیےبغیرکراچی شہر کی حالت نہیں بدل سکتی،جبکہ سندھ اسمبلی سےمنظورکیے گئےنئےبلدیاتی نظام میں پیپلزپارٹی نے تمام اختیارات اپنے پاس رکھ لیے ہیں،جس سے میئر کراچی کا عہدہ محض نمائشی ہو گا ۔
نئے بلدیاتی نظام جسےکالا قانون کہا جارہاہے،میں سندھ حکومت نےتمام وہ اسپتال جوشہری حکومت کے انڈرآتےتھےاپنے کنٹرول میں لے لیے ہیں،جبکہ دیگر وہ ادارے جوشہری حکومت کے ماتحت آتےتھے،انہیں بھی اپنےکنٹرول میں لے لیا ہے۔
جماعت اسلامی ہرموقع پرعوامی مسائل کو لے کراحتجاج کرتی رہی ہے، نادرا میں لوگوں کے شناختی کارڈ زکے مسائل ہوں یا کے الیکٹرک کی اووربلنگ کے،بحریہ ٹاؤن کے متاثرین کے مسائل ہوں یاسوئی گیس کے،سانحہ بلدیہ ٹاؤن کےمتاثرین کا معاملہ ہو یا نسلہ ٹاورکےمتاثرین کا ۔ہر عوامی مسئلہ کو حل کرانے کی بھرپورکوشش کی ہے اور اس کیلئے پرسطح پرآواز بھی بلند کی ہے۔
جماعت اسلامی نے سندھ اسمبلی پرگزشتہ 11روز سے دھرنا دیا ہوا ہے اور یہ سندھ حکومت سے بلدیاتی قانون واپس لینے کیلئے ہے۔ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ شہرقائد کو میگا سٹی کا درجہ دیا جائے۔جماعت اسلامی کراچی نےسندھ حکومت کوبل کی منظوری سے قبل تجاویز بھی دی تھیں،مگر سندھ حکومت نے ان کی کسی تجویزپرعمل نہیں کیا۔
سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی عددی اکثریت ہے اورتمام اپوزیشن جماعتیں اس وقت بلدیاتی بل کے خلاف یک زبان ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ یہ قانون کسی طور بھی کراچی کے حق میں نہیں۔
کراچی 70فیصد ریونیو جمع کرکے وفاق کودیتا ہے،اس کا پیسہ اس کی ترقی پرنہیں لگایا جاتا،یہ بڑا سوالیہ نشان ہے،جماعت اسلامی اس نکتہ پر بھی بات کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی نے جماعت اسلامی کی اس تحریک پراسےایم کیو ایم کی صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے۔
سیاست میں کوئی بھی الزام بڑی آسانی سے لگایا جا سکتا ہے،سو پی پی نے بھی یہ الزام لگایا ہے،تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ جماعت اسلامی سے متعلق ایسی بات کرنا مبالغہ آرائی ہو گی ۔
کراچی میں سیاست توتمام جماعتیں ہی کررہی ہیں،مگر جماعت اسلامی کی سیاست اور دیگر جماعتوں کی سیاست میں بڑاواضح فرق موجود ہے، دیگرجماعتوں کی سیاست جھوٹ اور مکروفریب کی سیاست ہے ،مال بنانے اور پیسہ کمانے کی سیاست ہے۔ جماعت اسلامی کی سیاست خدمت اور دیانت کی سیاست ہے۔
یہ بات جماعت اسلامی کےمخالفین بھی خوب سمجھتے ہیں کہ یہ ایک منظم جماعت ہے۔اصولوں پر سودے بازی نہیں کرتی ،نہ ہے اس کی سیاست کسی کو نیچا دکھانے کیلئے ۔یہ توہمیشہ ہی کراچی کے مسائل کے حل کی بات کرتی نظر آئی ہے ۔
جماعت اسلامی چاہتی ہے کہ شہرقائد کو اس کا اصولی حق ملے ،یہاں ٹرانسپورٹ کے مسائل حل ہوں ۔یہاں پانی کا مسئلہ ختم ہو۔ یہاں کراچی کے نوجوانوں کو روزگار ملے،یہاں کے لوگوں کے مسائل گلی محلے کی سطح پر حل ہوں ۔
سندھ کےوزیراطلاعات سعید غنی نےکراچی پریس کلب میں "میٹ دی پریس "میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھرنے سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔
جماعت اسلامی ایم کیوایم کی طرز کی لسانی سیاست کر رہی ہے۔انہوں نے شہر میں جو بینرآویزاں کیے وہ ایم کیو ایم کے ماضی میں لگائے جانے والے بینرز جیسے ہیں۔جماعت اسلامی لسانیت کو فروغ دے رہی ہے۔دھرنوں یا احتجاج سے ہمیں مجبور نہیں کیا جاسکتا ،اسمبلی میں اکثریت کا فیصلہ چلتا ہے ۔گنجائش ہوئی ہے ،قانون میں جائز تبدیلی ہو سکتی ہے ،جماعت اسلامی سے پہلے بھی ملے اب بھی ملاقات کریں گے۔
مگر اتوار کی رات پیپلز پارٹی کا وفد وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی قیادت میں حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کیلئے پہنچا ،گویا پی پی نے اس موقف کو تسلیم کرلیا مسئلہ ہے اور سے مل بیٹھ کر حل کیا جاسکتا ہے۔دونوں طرف سے تین تین رکنی کمیٹیاں بن گئیں ۔بات چیت جاری ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے اسی رات دھرنےمیں موجود کارکنوں سے سندھ حکومت کی بات ماننے سے متعلق پوچھا تو انہوں نے صاف انکار کردیا ،سخت سردی اور بارشوں میں بیٹھے یہ لوگ اتنی آسانی سے کیوں مانتے۔لہذا مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیاگیا۔
پیپلزپارٹی سندھ پر مسلسل 13 سال سےحکومت کررہی ہے،جبکہ ایم کیو ایم گزشتہ 35 برس سے سیاسی عمل کا حصہ ہےاور ہر سندھ حکومت کا حصہ بنتی رہی ہے ۔افسوس کی بات ہے کہ آن کی آن میں شہر قائد کو ایک حکم پر سنسان کردینے اورایک دن کی ہڑتال کر کے ملک کی معیشت کو 10 ارب کا نقصان پہنچانے والی ایم کیوایم نے بےمثال طاقت رکھنے کے باوجود یہاں کے باسیوں کو پانی ،گیس ،بجلی ،ٹرانسپورٹ ،گلی محلوں کی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور شہر میں قتل وغارت گری کے سوا کچھ بھی نہیں دیا ۔
کراچی میں 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی بڑی پارٹی کے طور پر ابھری تھی،مگر یہ بھی مکمل ناکام نظرآتی ہے ،حلقوں کےعوام اپنے ایم این اے اورایم پی ایز تک سےواقف نہیں۔
وزیراعظم کا اعلان کردہ 1100 ارب روپے کا پیکیج ہواؤں میں اڑ گیا ۔الفاظ کے ہیر بھیر سے حساب بتایا جارہا ہے۔ایسی صورت حال میں جب اہلیان کراچی کے معیارزندگی کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے ۔جماعت اسلامی کو یہاں کے لوگ اپنے لیے امید کرن سمجھ رہے ہیں،کیونکہ عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ کی بطورمیئراور سٹی ناظم خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں ۔
جماعت اسلامی اس دھرنے کے نتیجے میں کراچی کےشہریوں کیلئے یہ مقدمہ جیت لیتی ہے تو سمجھ لیجیے اس شہرکی تعمیر کے نئے دور کا آغاز ہونےوالاہے ۔اگر سندھ حکومت نےمظاہرین پر طاقت کا استعمال تو اس کا نقصان بھی سندھ حکومت کو ہوگا ۔




































