
زین صدیقی
معروف اینکرڈاکٹرعامر لیاقت حسین کی زندگی ہمیشہ تنازعات کا شکار رہی۔ انہوں نےکراچی کے ایک نجی چینل سے بطور نیوز کاسٹر اپنی پیشہ
ورانہ زندگی کا آغازکیا،جلد وہ اپنے صلاحیتوں کےسبب دینی پروگرام عالم آن لائن سے منسلک ہوگئے۔ عالم آن لائن سے بھرپورمقبولیت حاصل کرنے کے بعد انہوں نے رمضان ٹرانسمیشن کاآغازکیا ۔
ڈاکٹرعامر لیاقت کئی چینلزسے منسلک رہے۔عامر لیاقت کرتقریر وتحریرپربھی ملکہ حاصل تھا،وہ کہیں ہمیں میزبان بنے نظر آتے،کہیں وہ مبلغ دین ،کہیں وہ نعتیں پڑھتے نظر آتے۔ کہیں سیاسی روپ میں تو کہیں کالم لکھتے ہوئے نظرآتے۔انہوں نے اپنا ہر کردار انتہائی خوبی سے نبھایا۔
ڈاکٹرعامر کے والد لیاقت شیخ صحافی اور سیاست دان تھے۔ والدہ محمودہ سلطانہ سماجی رہنما تھیں ۔عامرلیاقت نےسیاست بھی کی۔ 2002 میں ایم کیوایم جوائن کی تو ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر ورکن قومی اسمبلی منتخب ۔2018 میں پی ٹی آئی جوائن کی۔ پی ٹی آئی کے ٹکٹ سے بھی وہ ایم این اے منتخب ہوئے۔ ایم کیوایم چھوڑی تو انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ پی ٹی آئی کیخلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو انہوں نےعمران خان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ عمران خان سے متعلق ان کے سخت بیانات بھی سامنے آتے رہے ۔
عامر لیاقت مذہبی اسکالر بھی کہلائےجاتےتھے،مختلف پروگرام میں وہ اپنے بھرپور دینی اوروسیع مطالعہ کا اظہار کرتے نظرآتے تھے،مگر ان کے بعض بیانات پرانہیں دینی حلقوں نےشدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔ عامر لیا قت حسین برجستہ گفتگو کے ماہر تھے۔ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ ساتھ شوبزانڈسٹری میں خوب پیسہ بھی کمایا ۔
عامر لیاقت حسین کے جہاں بے شمار فالورزتھے،وہاں ان کے ناقدین کی بھی بڑی تعداد تھی۔ وہ اپنی گفتگو،بعض خیالات کی وجہ سے ہمیشہ ناقیدین کےنشانے پر رہتے تھے،انہیں مسخرہ ،ڈرامے باز جیسے الفاظ بھی سننے کو ملتے رہے۔عامر لیاقت حسین نے ہمشہ ناقدین کی جانب سے پھنکے جانے والے تنقید کے تند وتیزتیر اپنے دل پر سہتے رہے۔وہ سمجھتے تھے کہ وہ حق پر ہیں ۔
عامر لیاقت حسین نے تین شادیاں کیں پہلی شادی سیدہ ،بشریٰ اقبال ،دوسری شادی طوہی اور تیسری شادی دانیہ ملک سے کی ،مگر تینوں ہی شادیاں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔ دانیہ ملک سےتین ماہ قبل ہونےوالی تیسری شادی بھی ان کوراس نہ آسکی ۔دانیہ ملک نے ان سے نہ جانے کیوں وہ انتقام لیا ،جوان کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا،دانیہ ملک نے ان کی اہلیہ ہوتے ہوئے ان کی برہنہ ویڈیوز وائرل کیں،جس پر وہ شدید صدمے کا شکار تھے،سوشل میڈیا کے شکاریوں نے ان کی ویڈیوز کو خوب مزے لے لےکروائرل کیا ۔
عامر لیاقت حسین دانیہ ملک کے اس عمل سے دلبرادشتہ تھے، کیونکہ کوئی فرد کتنا ہی برا کیوں نہ ہو اس سے اگراس طرح کا سلوک کیا جائے تو یہ اس کیلئے کتنا مایوس کن اورخطرناک ہوسکتا اسے کا اندازہ اس مرحلے سے گرزرنے والا شخص بخوبی لگاسکتا ہے ۔
عامرلیاقت حسین نےاپنی آخری ویڈیو میں ملک چھوڑنے،دانیہ ملک کو معاف کرنے کا اعلان کیا تھا ۔۔انہوں دانیہ ملک کے حوالے سے کھل کر بتایا وہ کون تھی ، اس سے انہوں نے کیسے شادی کی اور دوران گفتگو وہ بہت مایوسی کا شکار تھے۔انہوں نے لیک ویڈٰیو کے حوالے سے دو سیاستدانوں پر الزمات بھی لگائے۔
ان کی تیسری اہلیہ دانیہ ملک نےان پرنشےاورتشدد جیسےسنگین الزامات بھی عائد کیےاوربہاولپور میں میں خلع کا مقدمہ بھی دائر کردیا۔
دانیہ ملک کے سنگین الزامات سامنےآنے کے بعد ناقدین کی جانب شے شدید تنقید بھی سامنےآئی سوشل میڈیا پر بھونچال مچا رہا۔ انہوں نے اپنے مداحوں سے معافی بھی مانگی اپنے آخری بیان میں عامر لیاقت نے ملک چھوڑنےکا بھی اعلان کیا ۔۔۔ مگر وہ ملک چھوڑنے سے پہلے ہی دنیا چھوڑ گئے ۔
ہمشہ تنقید کی زد میں رہنے والےعامرلیاقت کی موت نے جہاں لاکھوں مداحوں کو سوگوارکیا وہیں ناقدین ان کی موت پرغم زدہ نظرآئے ۔
عامر لیاقت کو حضرت عبداللہ شاہ غازی کے مزارکےاحاطے میں سپردخاک کردیا گیا ،ان کے بیٹےنےان کی نماز جنازہ پڑھائی ۔
۔انہوں نےگھریلو زندگی سے ہٹ کربھرپورزندگی گزاری، 49 سالہ ڈاکٹرعامر لیاقت حسین کی زندگی کی باب تواب بند گیا مگر ان کی اچانک موت نے کئی سولات جنم دیئے ہیں ۔۔۔۔
گھرمیں جنریٹرکا چلنا ،کمرے میں دھواں ،ان کا چیخ مارنا،اسپتال نہ جانا کئی سوالات کوجنم دے رہا ہےاوریہ سولات ان کے مداحوں کو ہمیشہ ہی کسک بن کر محسوس ہو تے رہیں گے۔
یہ سولات اب سوالات ہی رہیں گے ؟ پولیس کی جانب سے تحقیقات کی امید تھی ان کے اہل خانہ کی جانب سے پوسٹ مارٹم نہ کراوئے جانے کے بعد ان کے انتقال کی وجہ اوردرج بالا سوالات کے جواب نہیں مل سکیں گے۔۔
عامر لیاقت حسین کے مرنےکےبعد بھی لوگ ان پرشدید تنقید کررہے ہیں،بعض لوگ تو نہایت بےشرمی اورہٹ دھرمی کامظاہرہ کررہے ہیں ۔ ڈاکٹر عامرلیاقت انتقال کرگئے،ساتھ میں ان کےاعمال بھی گئے۔ایسے لوگوں کو اپنی فکر بھی کرنی چاہیے اور اپنے گریبانوں میں بھی جھانکنا چاہیےکہ وہ کہاں کھڑے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ نے تو قرآن میں فرما دیا ہےکہ انسان خسارے میں ہے۔انسان کیا ہے اس کی حیثیت بھی کھول کھول کربیان کردی ہے ۔ مومن کس طرح معتبر ہوسکتاہے،بلندی حاصل کرسکتا ہے،وہ بھی بتا دیا ہے،پھر بھی سیاہ پٹی آنکھوں پر باندھے ہم دوزخ میں داخل ہونے کی تیاری میں مصروف ہیں۔




































