
زین صدیقی
چھ فروری کوترکیہ اور شام میں سو سال کا سب سے بڑااورہولناک زلزلہ آیا تواس کے 11صوبوں کے30 ملین سے زائد عوام متاثر ہوئے۔ہزاروں افراد جان
کی بازی ہار گئے۔ لوگ اپنے سائبان سے محروم ہو ئے۔ بہت سے بچوں،ان کے والدین اور پیاروں کو عمارتوں کے ملبے سے زندہ نکال بھی لیا گیا۔ یہ وہ موقع ہو تا ہے،جب انسان خود کو نہایت کمزور محسوس کرتا ہے۔ بے اختیا رسمجھتا ہے ۔ سمجھنا بھی چاہیے کیو نکہ اللہ ہی بااختیار ہے۔انسان تو کمزور ہے ۔آزمائشیں اللہ کی طرف سے آتی ہیں۔ اللہ ان آزمائشوں کو ٹال بھی دیتا ہے،لیکن اس ساری صورت حال میں متاثرہ افرادکو مدد کی ضرورت پڑتی ہے اور یہی وہ مرحلہ ہے جب خدائی خدمت گار میدان میں اترکر لوگوں مدد کو آتے ہیں۔ ان کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔ ان کو سہارا دیتے ہیں ۔الخدمت پاکستان انسانی خدمت کا ایسا ادارہ ہے جو ہر مشکل وقت میں نہ صرف ملک کے اندر بلکہ ملک سے باہر بھی اپنی خدمات پیش کرتا رہتا ہے۔
ترکیہ میں زلزلہ کی اطلاع ملی تو الخدمت پاکستان نے سب سے پہلے ترکیہ وشام کےزلزلہ متاثرین کی امد اد کے لیے فنڈ کے قیام کا اعلان کر تے ہوئے لوگوں سے نقد روقوم کی صورت میں عطیات کی اپیل کی چونکہ جب زلزلہ آتا ہے تو سب سے پہلے متاثرین کو ریسکیو کرنے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں سرچھپانے کیلئے ٹینٹ درکار ہوتے ہیں پھر انہیں خوراک اوردواؤں ںکی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ سارے کام کر نے کے لیے الخدمت کی جانب سے 47رکنی ٹیم ترکیہ وشام بھیجی گئی ،جہاں اس سے صورتحال دیکھی تو ترکیہ کے عوام شدیدکرب اور مشکل کا شکار تھے ۔رضاکاروں کی ٹیم نے وہاں اپنی پارٹنر تنظیموں کے ساتھ مل کر ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں بھر پور حصہ لیا ۔
الخدمت کے رضاکاروں کی47 رکنی ٹیم نے ترکیہ وشام کے مختلف متاثرہ علاقوں میں تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے دبے لوکوں کو بحافاظت نکالا۔زندہ بچ جانے والوں لا حوصلہ بڑھایا۔ ان رضاکاروں کے پاس جد ید آلات موجود تھے۔الخدمت کی اس ٹیم کو ترکیہ کے ادارے (AFAD)اے ایف اے ڈی نے پاک 10 کا نام دیا تھا۔ یہ ٹیم ملبے کے نیچے انسانی زندگی کی تلاش کے جدید آلات سے لیس تھی۔ الخدمت کے رضاکار آڈیو سرچ کیمرہ، ہائیڈرالک کمبل ٹول، چینسا ڈی کٹ، چیپنگ ہامر، اینگل گرینڈر، گیس ڈیٹیکٹر،سپائن بورڈ، چیسٹ ایکسٹریکشن ڈیوائس ،فولڈنگ اسٹریچراوراور آرمی جیسے جدید آلات کے ساتھ آپریشن میں شریک تھے۔
رضاکاروں کے پا س اپنی حفاظت کو یقینی بنانے کے پرسنل ریسکیوایمرجنسی ٹول کٹ میں ریسکیو بیگ، وارم کوٹ،جرابیں، دستانے، اونی ٹوپیاں، تھرمل ویسٹ، ہینڈ ہیلڈ ٹارچ، میگا فونز اور بیٹریز، بولٹ کٹرز، لائف لائن روپ اور ڈیڈ باڈی بیگز جیسا دیگر سامان موجو د تھا ۔ الخدمت کے رضاکاروں نے نہ صرف لوگوں کو ریسکیو کر نے میں مدد دی بلکہ ترکیہ شام متاثرین زلزلہ کوخیمے بھی دیئے پھر انہیں پکا پکایا کھانا اور پینے کا پانی اور دیگر ضروری اشیا بھی فراہم کیں تاکہ متاثرہ ترک بہن بھائی خود کوتنہا نہ سمجھیں ۔
الخدمت پاکستان نے ان کیلئے پچاس کروڑ کے پیکیج کا اعلان کیا اور فوری طورپر وہاں بڑے امدادی کام شروع کیے ،شام کے متاثرین کی بھی مدد کی ۔الخدمت کراچی کی جانب سے بھی قونصلیٹ جا کر ترکیہ کے قونصل جنرل جمال سانگو کو 20ملین روپے کا امدادی چیک دیا گیا ۔یہ ترک متاثرین زلزلہ کے لیے امداد کی پہلی قسط تھی جو امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن،چیف ایگزیکٹو نوید علی بیگ اور ایگزیکٹوڈائریکٹر راشد قریشی نے ان کے حوالے کی۔ اس موقع پر الخدمت کی جانب سے ترکیہ کے عوام سے اظہار ہمدردی کیا گیا اور ان کی ہرممکن مدد کی بھی یقین دہانی کروائی ۔اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اہل پاکستان اور الخدمت اپنے ترک زلزلہ متاثرین بھائیوں کے ساتھ ہےاور ان کی ہرممکن مدد کر ے گی ۔انہوں نے کہا کہ یہ آزمائش کی گھڑی ہے اللہ پاک سے دعاہے کہ وہ متاثرین کی اس مشکل صورتحال سے نکال دے ۔ہم متاثرین زلزلہ کے ساتھ ہیں ۔
دنیا بھر کے 59 ممالک سے ترکیہ کے زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں مدد کو پہنچی تھیں ۔الخدمت رضاکاروں ٹیم نے جرمنی ، اٹلی، ویتنام ، ہالینڈ ،سینیگال ، کرغیزستان ، بحرین ،کوریاا ور دیگر ممالک کے رضاکاروں کے ساتھ مل کر متاثرہ علاقوں کام کیا ۔ یہ کام اب بھی جاری ہیں ۔الخدمت پاکستان کے نائب صدر عبدالشکور نے بھی ترکی کا دورہ کیا اور وہاں امدادی کاموں کی خود نگرانی کی ۔الخدمت کی جانب سے پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کی جانب سے بھی ایک ٹیم ترکیہ بھیج دی گئی ہے ،جہاں وہ متاثرین کو میڈیکل ریلیف پہنچانے کیلئے اپنی خدمات انجام دے گی ۔
الخدمت کے رضاکاروں کا جذبہ بڑا جذبہ ہے ،یہ وہ جذبہ ہے جس کے پیچھے اللہ کی رضا شامل ہے اور جو اللہ کی رضاکے حصول کا سبب ہے ۔وہاں متاثرین اب بھی مشکلات کا شکا ر ہیں ۔ انہیں اب بھی خوراک اور غذائی اجناس اور طبی سہولتوں اور دواو¿ں کی ضرورت ہے ،جن کے گھر ٹوٹے ہیں وہ سڑکوں پر آگئے ہیں ۔رمضان المبارک قریب ہے ۔ایسے میں ان متاثرین کو الخدمت اوراس جیسے تما م اداروں کی مدد کی ضرورت ہے ۔الخدمت نے اپنے ترک بہن بھائیوں کا مشکل وقت میں ہاتھ تھام لیا ہے ۔اہل خیر افراد بھی اب الخدمت کے دست وبازوبن جائیں ۔




































