
زین صدیقی
ماضی میں ان ہی سیاست دانوں کے منہ سے ہم ایک جملہ سنا کرتے تھےکہ” ملک ناز ک دور سے گزررہا ہے ‘لیکن آج جب ملک واقعی نازک
دور سے گزررہا ہے یہ جملہ بھی نہ جانے کہیں دفن ہو گیا ہے۔ملک میں آج جو صورتحال ہے،اس پر واقعی آج یہ جملہ صادق آتاہے۔ملک میں معاشی صورتحال تو پہلے ہی ابترتھی ،جس کی وجہ سے گزشتہ 5سال میں عوام نے سکھ کا سانس نہیں لیا ۔سیاسی دنگل لگتے رہے ۔ ایک دوسرے کو پچھاڑنے کی جدوجہد جاری رہی ۔عوام غربت ،مہنگائی کی چکی میں پستے چلے گئے ۔ہوس اقتدار میں اندھے لوگوں نے مسند اقتدار کو میوزیکل چیئر بنا دیا ۔
صحافت کی سیاہی میں 25سال بیت گئے ہیں ،ہم نےدیکھا کہ جتنی بھی جمہوری حکومتیں گزری ہیں ،ان کےادوار کا اگرمطالعہ کیا جائے توثابت ہو تا ہے تما م حکومتوں کی اپوزیشنز کے ساتھ اقتدار کیلئے رسہ کشی ہمیشہ سے جاری ہےکل کے دشمن آج کے دوست ہیں ،جو آج دوست ہیں کل کے دشمن ہوں گے ۔یہی سیاست کا مرکز ومحور بنا ہوا ہے۔عمران خان سیاست میں آئے تو انہوں نے حقیقی آزادی ،کریشن کے خاتمے کے نعرے لگائے،لیکن وہ ٹھیک ڈیلیور نہیں کرپائے اس لیےانہیں اقتدارسے الگ کر دیا گیا ۔پھر عمران خان پر مقدمات کا اندارج وگرفتاری اور پھر لمبی جنگ ۔
عمران خان کے ہوتے ہوئے بھی اور مسند اقتدار سےہٹائے جانےکےبعد بھی مہنگائی اور مشکلات میں پھنسےعوام نےایک دن بھی سکھ کا سانس نہیں لیا ۔ موجودہ دور حکومت میں ا قتدار کی دوڑ دھوپ نے مزید کئی طرح کے بحران پیدا کر دیئے ،بات مسلح افواج کے داروں پر حملوں ،ملکی املاک جلائے جانے تک پہنچ گئی ،جبکہ عدلیہ کے کردار پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں ۔یہ سلسلہ ملکی تاریخ کا بھیانک ترین کھیل ہے ،جو آج سے پہلے ملکی تاریخ کے75سال میں کبھی نہیں کھیلا گیا ،بات ملک کی سالمیت اور اداروں ساکھ پرآچکی ہے،ملک بھر میں پی ٹی آئی کی جانب سے کیے جانے والے مظاہروں ،جلاوگھیراؤ ،حملوں سے دنیا بھر میں منفی پیغام گیا ہے،بھارت کے میڈیا نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے بغض پا کستان میں اداروں اور مسلح افواج پر آج جو انگلیاں اٹھائی ہیں وہ ماضی میں کبھی نہیں اٹھائیں ۔
یہ قوم کیلئے رونے کا مقام ہے ،یہ ان لوگوں کیلئےہوش کے ناخن لینے کا مقام ہے جو اداروں کو کمزور سمجھ کرانہیں دنیا کے سامنے منفی طور پر ایکسپوز کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ،وہ مسند اقتدار کی خاطر پاکستان اور اس کے نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ۔یہ گھنا ونا کھیل ہے ،مسلح افواج کے 80سے زائد جوان شہادت پا چکے ہیں ،شہادتوں کا یہ سلسلہ جاری وساری ہے ۔یہ وہ فوج ہے جو ہماری حفاظت پر مامور ہے ،ہم سکھ کا سانس لیتے ہیں ،رات کوسکون سے سوتے ہیں اس اطمینان کے ساتھ کے ہمارے محافظ جاگ رہے ہیں ۔
یہ فوج بھی ہماری اپنی فوج ہے۔ادارے بھی ہمارے اپنے ہیں ۔اگرآپ یہ سب اقتدار کیلئے نہیں ملک وقوم کیلئے اورکرپشن کا خاتمے کیلئے کر رہے ہیں تو آپ اسمبلی سے کرپشن کے خاتمے کیلئے بل منطور کروائیں سخت قوانین بنائیں اور ان قوانین پر عمل کروائیں ،جب آپ اقتدار میں آنے کے باوجود یہ نہ کرواپائیں تو پھر ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے عزت کے اقتدارچھوڑ کر گھر چلے جائیں ،قوم کو سڑکوں پر آنے اور انہیں احتجاج کیلئے نہ بلائیں ۔
ملک میں گزشتہ چند دنوں میں جو کچھ ہو چکا ہے وہ ناقابل تلافی ہے،ملوث عناصر گرفتار کیا جا رہا ہے ،ان لوگوں کیلئے معافی نہیں ہونی چاہیے ،قانون کے مطابق سزا ہو چاہیے ،اداروں کو اپنی ساکھ کا خیال رکھنے چاہیے پاک افواج کی عزت ،وقار اور مورال ہے وہ ہمیشہ قائم ودائم رہنا چاہیے ،سیاستدان آتے ہیں چلے جاتے ہیں ،فوج ہمیشہ رہے گی ۔
یہاں قوم کو یہ بات ضرور سوچنی چاہیے کہ سیاسی کھینچا تانی ماضی میں بھی تھی آج بھی ہے ،مگر وہ کسی ایسی ایکٹویٹی کا حصہ نہ بنیں جس سے ملک اور اداروں کو نقصان پہنچے ،پاکستان ہے تو ہم ہیں ورنہ ہم کچھ بھی نہیں ۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے نجی ٹی وی پر گفتگو میں کہا ہے کہ مسلح افواج آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی قیادت میں متحد ہے ،ملک میں مارشل لا ءکا کوئی امکان نہیں ،اتنے سخت حالات میں بھی پاک افواج کی جانب سے یہ بیان آنا اطمینان کا باعث ہے ،تاہم یہ سب کو سمجھ لینا چاہیےکہ وہ ضروری نہیں پاکستان ضروری ہے ۔




































