
زین صدیقی
موجودہ عام انتخابات کےنتائج دنیا نےدیکھ لیےہیں،میں حیران ہوں کہ اتنی اچھی جماعت،ایماندار لوگ ،بے داغ ماضی،حال اورمستقبل۔ سراج الحق
جیسا درویش منش امیر۔۔۔ کیا اب بھی قوم نہیں چاہے گی کہ کرپشن سے پاک ،دیانتدارقیادت اس ملک کی باگ ڈورسنبگھالے۔
عوام کی مرضی ،ناسمجھی،کم عقلی یا کچھ اورکہیں اسے،ماتم کریں یاسینہ کوبی ،76 سال سے لٹ رہےہیں، خود کولٹا رہے ہیں،بچوں کے روشن مستقبل سوچ ہے نہ فکر،ان کے بچوں کو روزگارنہ ملے،ان کے نلکوں میں پانی نہ آئے،ان کے گلی محلوں سے گندگی نہ اٹھے،ان کے گلی محلوں کی سڑکیں نہ بنیں، ان میں ان کے بچوں میں مایوسی ہو کوئی بات نہیں،دنیا کے سامنے کشول اٹھائے دردرپھریں ،ملک کا نام دنیا کی نظروں میں ڈبوئیں کوئی بات نہیں ،پیٹرول ،بجلی ،گیس مہنگی کریں کوئی بات نہیں ،سولہ سولہ گھنٹے اذیت ناک لوڈشیڈنگ کریں،انصاف نہ ملے کوئی بات نہیں، ملک کو بے دردی سے لوٹیں کوئی بات نہیں ہمیں برداشت ہے ۔
لوگ اسی میں خوش ہیں،انہوں نےسمجھوتا کرلیا ہے،ان حالات سے،طےکرلیا ہےخود کو نہیں بدلیں گے،خود کوبدلنے کیئےسوچ نہیں بدلیں گے،دیانت دار آکرکیا کرلیں گے،کون سا تیرمارلیں گے۔ آناتو ان ہی کو ہے ،نظام تو ان ہی کرپٹوں سےچلناہے۔کیوں دیں ووٹ دیانتداروں کو ،جب اس سسٹم میں ان کی جگہ ہی نہیں۔
نہ یہ اپنی سوچ بدلیں گےنہ ہی نظام بدلے گا،2024 کےالیکشن سے پہلے ہم نے انجینرنگ،سلیکٹڈ ،خلائی مخلوق اورایمپائر کی اصطلاحات بھی سنیں ،عجیب سا لگتا تھا کہ کس کی بات ہو رہی ہے،کون ہیں یہ ،کون کس کو کہہ رہا ہے۔۔ اس الیکشن سے پہلے کے الیکشنزٓمیں بھی ملک میں انتخابی اصلاحات کی باتیں ہوتی تھیں۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی بات ہوتی تھی مگر یہ باتیں اچانک ہوا ہوجاتی تھیں۔ مطلب کرپٹ نظام میں یہ باتیں چہ معنی دار تھیں پھراس انتخابات میں بھی ہم نےانتخابی جنازہ پڑھ اوردیکھ لیا ۔
ہرطرف آوازیں بلند ہوناشروع ہوگئیں ،دھاندلی کا شورمچ گیا،دو چار خوش باقی سب کےسب ناخوش۔ الزامات کی بارش ہوگئی۔ سوشل میڈیا پرٹھپوں والی سرکار کی ویڈیوزکی بارش ہوگئی ،پرامن انتخابات کےاعلانات ہوئے، مبارکباد دی گئیں مگرٹھپوں والی ویڈیوزکا کسی نے ذکر کیا نہ نوٹس لیا۔
اب سنیےکراچی کی ببتا۔۔۔پینتیس سال ظلم کا شکاراس شہرپرظالموں کوایک بار پھرکھل کھیلنےکےلیے پندرہ نشستوں کا تحفہ پیش کردیا گیا۔۔ پہلے جوبزور طاقت خود ٹھپےلگاتے تھے،اب ان کیلئے ٹھپے لگانے والے "جنات "لائے گئے، جنہوں نےبہ حسن وخوبی یہ کام انجام دیا۔جنات نےایسا کارنامہ انجام دیا کراچی سے پندہ کی پندرہ اوردوحیدرآباد کی کریبی کے طور پر دلوا دیں۔
اس جماعت نےتو آٹھ فروری کو ہی دونشستوں کےصرف دس فیصد انتخابی نتائج پرمیڈیا پر آکر کامیابی کابغل بجادیا تھا،"جنات "نےانہیں پیشگی بتا دیا تھا کہ آپ کی اٹھارہ نشستیں پکی ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن جیسے ایماندار،دیانت دار،لوگوں دلوں کی آوازکو خوش اورخاموش کرنے کیلئے ایک نشست دی جو انہوں نےبھری پریس کانفرنس میں واپس کردی اوردنیا بھرمیں ہیرو کے طور پرجانے پہنچانےجانےلگے حالانکہ ان کی انتخابی مہم بھی سب سےمنفرد تھی اورانہوں نےانتخابات کی اس مہم میں ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا تھا،انہوں نے کراچی کی امارت کےعرصے میں جماعت اسلامی کی ساکھ ، نام کومزید تقویب بخشی اور ان کا اپنا نام بھی ایک بڑے لیڈر کے طور پرملک کے سیاسی ،سماجی وعوامی حلقوں میں گونجنےلگا ۔
ہمارامیڈیا ٹھپے والی پارٹیوں کامدح سراء بنارہا ،وہ تو الیکشن سے پہلے ہی کہہ رہا تھا کس کی کتنی سیٹیں کس پارٹی ہوں گی ،جماعت کا تو کہیں نام ونشان تک نہیں تھا۔ کس صوبے میں کس کی حکومت ہوگی جس سے ثابت ہوتا ہے کہ میڈیا بھی کرپٹ اور گلے سڑے نظام کےطابع ہے،جب پورا سسٹم کرپٹ اور بدبودارہو توجماعت اسلامی کی اس نظام میں کہاں جگہ ہے؟ اگر ہے تو بتا دیجیے۔




































