
زین صدیقی
سرخ رنگ کا گاون اور کیپ پہنے 248طلبہ سرکاری یانجی جامعات کےطلبہ نہیں بلکہ سینٹرل جیل کے قیدی قیدی طلبہ ہیں،یہ خوشی سے نہال
ہیں کہ آج انہیں ملک کی سب سے بڑی جیل میں آئی ٹی اور لینگویج کورسز میں گریجویشن کرنے ہر تاریخی کانووکیشن میں اعزازات ملنے والے ہیں ۔قیدی طلبہ کے چہروں پر مسکراہٹ تھی ،طمانیت تھی ۔ان کے چہروں پر کوئی پریشانی تھی نہ ہی کوئی ملال ۔مطمئن ،ہشاش بشاش چہرے بالکل ایسے جیسے وہ اپنے گھر میں ہوں ،اپنے مادر علمی میں ہوں ۔ نہ ڈر، نہ ہی کوئی اندیشہ ،نہ کوئی خوف ،یہ ہیں سینٹرل جیل کے قیدی جنہیں آج اعزازت دیئے جانے ہیں ۔
کانووکیشن کے لیے جیل ہی میں ایک کھلے میدان کا انتخاب کیا گیا تھا ،جس میں بیک وقت کئی سو افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی ۔اسٹیج خصوصی طور پربنایا گیا تھا ۔پولیس کے اعلی افسران اور مہمان خصوصی وزیر جیل خانہ جات کے تصاویر پر مشتمل بیک ڈراپ نہایت دیدہ زیت انداز میں تیار کرکے آویزاں کیا گیا تھا ۔سینٹرل جیل میں متعین پولیس افسران اس کانووکیشن کے منتظم تھے ۔
الخدمت کئی دہائیوں سے کراچی کی جیلوں میں قیدیوں کی خدمت کےمختلف کام کر رہی ہے،جن میں سےالخدمت کمپیوٹر لیبارٹری اینڈ لینگویج سینٹر اہم ترین پراجیکٹ ہے جس کے تحت قدیوں کو کمپیوٹر کی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگلش اور چائینز لینگویج بھی سکھائی جا رہی ہے ۔اس کے لیے قیدیوں کے باقاعدگی سے امتحانات ہوتے ہیں اور نتائج بھی جاری کیے جاتے ہیں ۔کانووکیشن بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ،ملک کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کسی جیل میں یہ قیدی طلبہ کے لیے کانووکیشن ہو رہا تھا ۔
کانووکیشن کے مہمان خصوصی وزیرجیل سندھ علی حسن زرداری تھے۔کانووکیشن میں چیف ایگزیکٹوالخدمت کراچی کانووکیشن سےچیف ایگز یکٹو الخدمت نوید علی بیگ، آئی جی جیل خانہ جات سندھ قاضی نذیر احمد ،سینئر سپرنٹینڈنٹ جیل عبد الکریم عباسی اور ڈائریکٹر کمیونٹی سروسزقاضی سید صدرالدین نے بھی اظہار خیال کیا ۔الخدمت کے سی ای ا نوید علی بیگ نے کراچی سینٹرل جیل میں قیدیوں کو مختلف ہنر سکھانے کے لیے اسکل ڈیولپمنٹ اورووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ کے قیام کا بھی اعلان کیا ۔اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر راشد قریشی ۔ الخدمت کے دیگر ذمہ داران اور جیل حکام موجود تھے۔
ویز جیل خانہ جات علی حسن زرداری نے کہاکہ الخدمت کے تعاون سےسینٹرل جیل میں قیدیوں کوآئی ٹی اور لینگویج کورسزکروائےجا رہے ہیں ۔یہ پروگرام مجھے بہت اچھا لگا ۔یہ پروگرام ہم سندھ کی تمام جیلوں میں شروع کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ گھٹن کے ماحول میں ہمیں قیدیوں کی خدمت کرنی چاہیے ۔ وزیرجیل سندھ علی حسن زرداری نے کہا کہ اس معاشرے کو مل کرٹھیک کرنا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام قیدی طلبہ جنہوں نے کورسز مکمل کیے ہیں میں انہیں مبارکباد پیش کرتا ہوں اور اس پروگرام کا اہتمام کرنے پر الخدمت اور جیل حکام کو بھی مبارک باد دیتا ہوں ۔
چیف ایگز یکٹو الخدمت نوید علی بیگ نے کہا کہ قیدی طلبہ کو مبارک باد سی اور کہا کہ یہاں جیل انتظامیہ کے تعاون کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں ہے ۔الخدمت کا آئی ٹی ٹریننگ اینڈ لینگویج سینٹر قیدیوں کو آئی ٹی کی تعلیم اور انگریزی اور لینگویج سکھا رہا ہے ،انہوں نے اعلان کیا کہ الخدمت جلد یہاں اسکل ڈیولپمنٹ اینڈ ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ قائم کرے گا ۔جہاں قیدیوں کو مختلف اسکلز اور ہنرسکھائے جائیں گے ۔
آئی جی جیل خانہ جات قاضی نذیر احمد نے یہ پاکستان کی سب سے بڑی جیل ہے ۔میری خواہش کہ جیل میں ایک بڑا کالج قائم ہو جہاں قیدیوں کو تعلیم دی جاسکے ،ایک ہی چھت کے نیچے قیدیوں کو ہر طرح کی تعلیم دیں ۔انہوں نے تمام قیدی طلبہ کو گریجویشن کرنے پر مبارکباد دی ۔
سپرنٹینڈنٹ سینٹرل جیل کراچی عبد الکریم عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سینٹر ل جیل کراچی قیدیوں کو تعلیم وہنر سکھانے کے اعتبار سے سرفہرست ہے ،آئی جی سندھ کی انتھک محنت سے ہم نے یہ تاریخ رقم کی ہے ۔یہ قیدی ہنر سیکھ کر معاشرے میں باوقار زندگی گزار سکیں گے ۔
ڈائریکٹر کمیونٹی سروسز قاضی سیدصدرالدین نے کہا کہ یہ ملکی تاریخ میں کسی بھی جیل میں پہلا کانووکیشن ہے ،الخدمت قیدیوں کو ہنر سکھا کر انہیں جیل سے باہر کے زندگی کے لیے کارآمد بنا چاہتی ہے ۔انہوں نے اس پورے عمل میں جیل حکام کا بھی شکریہ ادا کیا ۔




































