
زین صدیقی
جنوبی ایشیا کی صورتحال ایک بار پھر سنگین رخ اختیار کرگئی ہے۔ بھارت نےکھلی جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئےبین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے
چارٹر کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود کی پامالی کی اور عام شہری آبادی پر حملہ کیا ہے ۔ اس غیر انسانی اور غیر اخلاقی حملے میں اب تک 30 بے گناہ پاکستانی شہری شہید اور 46 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں ۔یہ اقدام نہ صرف خطے کے امن کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے بلکہ یہ بھارتی حکومت کی جنگی جنونیت، داخلی سیاسی دباؤ سے توجہ ہٹانے کی کوشش اور فالس فلیگ آپریشنز کی پرانی روش کو بھی واضح کرتا ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کیا ہے، پلوامہ یا پہلگام جیسے واقعات کے بعد پاکستان نے فوری طور پرغیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تاکہ حقائق سامنے آئیں۔ لیکن بھارت نے ہمیشہ الزام تراشی کی راہ اختیار کی ہے ، بغیر ثبوت کے پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی تاکہ اپنے عوام کو گمراہ کیا جا سکے۔عالمی برادری نے اس بار پاکستان کے مؤقف کو تسلیم کیا ہے۔ یورپی یونین، چین، ترکی، روس اور دیگر ممالک نے بھارت کی یکطرفہ کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے مطالبات کو جائز قرار دیا ہے۔
بھارتی حملے کے بعد پاک فوج نے نہایت پیشہ ورانہ،جرأت مندانہ اورفوری ردِعمل کا مظاہرہ کرتےہوئےبھارت کےجدید رافیل طیارے سمیت پانچ جنگی جہازوں کو مار گرایا۔ اس کے علاوہ 25 بھارتی ڈرونز کو بھی تباہ کیا گیا جو پاکستانی حدود میں داخل ہوکر جاسوسی اور حملہ آور سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ان ڈرونز میں اسرائیلی ساختہ ڈرونز بھی شامل تھے ۔ یہ جوابی کارروائی نہ صرف دفاعی اعتبار سے بہترین کارروائی تھی بلکہ ایک مضبوط پیغام بھی تھا کہ پاکستان امن چاہتا ہے لیکن اپنی خودمختاری پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کرے گا۔
سلح افواج صرف ایک دفاعی ادارہ نہیں بلکہ قوم کا فخر اور تحفظ کی علامت ہیں۔ موجودہ صورتحال میں جس دلیرانہ انداز سے انہوں نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملایا، اس پر پوری قوم کو فخر ہے۔پاک فوج نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس نے ہمیشہ ایک ذمہ دار فورس کا تاثر قائم رکھا ہے، چاہے دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا قدرتی آفات میں امدادی سرگرمیاں، پاک فوج ہر محاذ پر پیش پیش رہی ہے۔
قوم اس وقت پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ بھارت کی جانب سےمیڈیا اورسوشل میڈیا کےذریعےزہریلا پراپیگنڈا کرنےکوششیں ناکام ہو چکی ہیں کیونکہ پاکستانی عوام دشمن کے جھوٹ کو جانتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر عوام نے "ہماری فوج، ہمارا فخر" جیسے ہیش ٹیگز کے ذریعے اپنی یکجہتی کا ثبوت دیا ہے۔
عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ بھارت کی اس کھلی جارحیت کا نوٹس لےاوراسے قانون وانصاف کےدائرے میں لانے کےلیےموثر اقدامات کرے۔ پاکستان ایک پرامن، باوقار، اور ذمہ دار ریاست ہے، جو اپنے دفاع کے لیے ہر حد تک جانے کا حق رکھتی ہے۔حکومت ، تمام سیاسی جماعتیں متحد ہو چکی ہیں اور پاک فوج پر مکمل اعتماد کااعلا ن کرچکی ہیں ،قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاک فوج کو بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے مکمل اجازت دے دی گئی ہے ۔پاک فضائیہ اور مسلح افواج کی مثالی جوابی کارروائیاں پوری قوم کے لیے قابل فخر ہیں ۔ہم پاک فوج کو سلام پیش کرتے ہیں جنہوں نے ایک بار پھر دشمن کو یہ باور کرا دیا کہ یہ قوم جاگ رہی ہے، متحد ہے، اور اپنے تحفظ کے لیے ہر قیمت چکانے کو تیار ہے۔




































