
زین صدیقی
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے مشرقِ وسطیٰ کےدورے نےعالمی سطح پرخاصی توجہ حاصل کی ہے۔ اس دورے کے دوران متحدہ عرب
امارات اور سعودی عرب میں اُن کا پرتپاک استقبال کیا گیا لیکن اس استقبال کےکچھ مناظرنےمسلم دنیا میں شدید ردعمل کوجنم دیاہے،خصوصاً سوشل میڈیا کو اس دورے میں ہونےوالےاستقبال کولےکرتہلکہ مچاہوا ہےاورسوشل میڈیا صارفین طرح طرح کےکمنٹس کررہے ہیں ۔
متحدہ عرب امارات کےدورہ میں صدر ٹرمپ کااستقبال شیخ زید بن النہیان نےکیا۔ استقبال کے لیےخصوصی اہتمام کیا گیا تھاجس میں رنگا رنگ ثقافتی مظاہرے، روایتی رقص اور موسیقی شامل تھی۔ ایک منظر جس نے خاصی توجہ حاصل کی ہے وہ نوجوان لڑکیوں کا وہ رقص تھا جو کھلے بالوں کےساتھ سفید ملبوسات میں اپنےثقافتی انداز میں کیا گیا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ کےہمراہ ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ اورامریکی وفدکےدیگر ارکان موجود تھے۔
مشرقِ وسطیٰ کی روایتی معاشرت میں خواتین کا اس اندازمیں استقبال میں شامل ہونا غیرمعمولی سمجھا گیااوراسی بات پربعض حلقوں کی جانب سےکڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر ان مناظر کی ویڈیوز وائرل ہورہی ہیں ، جن میں صارفین مختلف آراء کا اظہار کرتے دکھائی دے رہے ہیں ، کچھ افراد نے اسے "ثقافتی انحطاط" قرار دیا، تو کچھ نے اسے سفارتی مہمان نوازی کا نیا انداز سمجھا ہے ۔

ادھرسعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں صدر ٹرمپ نے شاہ سلمان بن عبدالعزیزسےملاقات کی۔ یہاں بھی ان کا پرجوش استقبال کیا گیا۔ البتہ اس دورے کے دوران ایک اور منظر نے تنازع کھڑا کر دیا ہے جب بعض خواتین نے صدر ٹرمپ سے مصافحہ کیا،کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تو اے آئی کی مدد سے ایسی ویڈیو بھی تیار کی گئی ہے جس میں صدر ٹرمپ کو خاتون ست گلے ملتے ہوئے دکھا یا گیا ہےاورسعودی حکمران شاہ سلمان بھی موجود ہیں ۔
سعودی عرب جو ایک عرصے تک خواتین کے حوالے سےسخت روایات کاحامل ملک رہا ہے، وہاں اس طرح کی تبدیلی کو کئی حلقے تنقید کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، اگرچہ حالیہ برسوں میں ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت میں کئی سماجی اصلاحات کی گئیں، تاہم اس نوعیت کی ملاقاتوں پر تاحال مسلم ممالک کی جانب سے سوشل میڈیاپر نہ صرف تنقید کی جا رہی ہے بلکہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں ۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر،فیس بک اوردیگرپلیٹ فارمزپران ویڈیوزکولاکھوں افرادنےدیکھا بلکہ ان پرتبصرےبھی کیےہیں۔کچھ نے اسےعرب دنیا کی مغرب کے سامنے جھکاؤ سے تعبیر کیا ہےجبکہ کچھ نے کہا کہ یہ بدلتے وقت کی عکاسی ہے اورروایتی اقدار کو جدید دنیا سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بعض لوگوں نے ان مناظر کو جہاں اسلامی اقدار کےمنافی قراردیا ہےوہیں کچھ صارفین نے ان لمحات کو عالمی سفارت کاری کے مثبت پہلو کے طور پر بھی دیکھا کہ مسلم ممالک اب دنیا کےساتھ کھلےپن کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
یہ بات قابلِ غورہےکہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اب صرف تیل، دفاع اورمذہبی شناخت تک محدود نہیں رہی،اب سفارت کاری میں ثقافت،میڈیا اورعوامی تاثرات کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب جیسے ممالک بین الاقوامی برادری کےساتھ اپنے تعلقات کو نئی شکل دینے کی کوشش میں ہیں اور اس کا اثر ان کے پروٹوکول اور طرزِ میزبانی پر بھی پڑ رہا ہےتاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ تبدیلیاں عوامی رائےاورمذہبی و ثقافتی حساسیت کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہی ہیں؟ یا پھر ان کا خمیازہ سوشل میڈیا پر تنقید کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے؟
ٹرمپ کے حالیہ دورہ مشرق وسطیٰ نےاس بات کو نمایاں کیا ہےکہ ایک طرف توفلسطین میں مظلوم خواتین اوربچوں کے قتل میں ملوث اسرائیل کےسرپرست ٹرمپ کوقیمتی تحائف اوراربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی دعوت دی جارہی ہے،دوسری جانب مسلم ممالک کی جانب سےاپنی خوائین اوربچیوں کوصدرٹرمپ کےاستقبال کیلئےپیش کیا جارہا ہےجو مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کے سوئےہوئےبلکہ مردہ ضمیر کی عکاسی ہے،مسلم حکمرانوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیےکہ دنیا بھر میں باضؐیرسوشل میڈیا ابھی جاگ رہا ہے۔




































