
زین صدیقی کے قلم سے
ابھی 10 جولائی کو امریکا سے تشریف لائے معروف صحافی ،ادیب ،دانشور اور شاعرراشد نورکےاعزاز میں تقریب منعقد ہوئی تھی جس کا موضوع " دیرینہ دوست اور دوستی مشاعرہ
تھا ،آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں ہونے والی اس تقریب اور مشاعرے کی صدارت ماہرتعلیم ومعروف شاعر جناب پروفیسر پیرزادہ قاسم نے کی۔نظامت کے فرائض خالد معین نے انجام دیئے ۔معروف شاعرہ عبنرین حسیب عنبر ودیگر ادبی شخصیات اس تقریب میں شریک تھیں ۔آرٹس کونسل کراچی کے ممبر کی حیثیت سے ملنے والی اس دعوت پر مصروفیات کے باعث میں شریک نہیں ہوسکا ۔میں راشد نورصاحب کو اچھی طرح جانتا تھا،جب وہ نوائے وقت کراچی میں تھے تو ادبی صفحے کے انچارج تھے ۔مجھے ان سے کئی بار فون پر گفتگو کرنے کا موقع ملا ،آواز میں سادگی ،محبت اور چاشنی پائی جاتی تھی ،پھر تشنگی ہی رہی ،ملاقات کی خواپیش کا بھی اظہار کیا مگر نہ ہو سکی ۔ راشد نور صاحب 10 جولائی کو امریکا سے اس تقریب میں شرکت کیلئے آئے تھے ،کراچی سے جیسے ہی امریکا پہنچے وہاں ہارٹ اٹیک کے سبب انتقال کرگئے ۔
انہیں کیا معلوم تھا کہ یہ ان کی کراچی آخری آمدہوگی ؟کیا پتا تھا کہ وہ امریکا آنے کے بعد راہ عدم کےمسافر بن جائیں گے ؟ انہیں کیا پتا تھا کہ وہ اپنے دوستوں کی محبت کو آخری بار دیکھنے آئے ہیں ؟ انہیں کیا پتا تھا کہ اب امریکا نہیں، اللہ کے یہاں حاضری ہونے جا رہی ہے۔سچ میں انسان کی زندگی کا ایک لمحے کا پتا نہیں۔۔۔ کون سےمنصوبے ہوں گےامر یکا پہنچنے کے بعد ان کے ،کیا لکھنا چاہتے ہوں گے وہ، کراچی والوں کی محبت کے تناظر میں ،سب دھرا رہ گیا،سپنے ادھورے رہ گئے ،منصوبے چوپٹ رہ گئے ۔
ہم نے بھی گزر جانا ہے ۔
ہمارے بھی ایک لمحے کا نہیں پتا
یہ ہرشخص کی کہانی ہے
ہم اس دنیا میں مسافر ہیں
آخری ٹھکانہ قبر ہے
ہمیں اس کی فکر کرنی ہے ،پہلےفکر نہیں کی تو آج ہی سے شروع کردیں ،موت تو جوان ،بوڑھا ،بچہ ،بزرگ نہیں دیکھتی اسے تو ایک جان ایک روح درکا ر ہے۔اس لیے تیار رہیں ،آخرت کی فکر کریں ۔سفرآخرت کا سامان جمع کریں ،تجہیز وتکفین کی صورت میں نہیں ،اعمال صالحہ کی صورت میں ۔خدا کیلئے وعدہ کریں میں اور آپ آج ہی سے اپنی آخرت کی فکریں گے ۔اس طرح نہیں کہ آج کسی کا انتقال ہوا،دل غم زدرہ ہوا،کسی پیارے کو قبر میں اتارا ،دنیا کے کاموں میں لگ گئے ،پھر کئی دن گزرے اور بھول گئے۔۔۔۔کوئی سانحہ ہوا تھا ،کوئی پیار اہم سے جدا ہوا تھا اور دنیا کے کاموں میں لگ گئے ۔۔۔موت کو ہروقت یاد کریں ،سفرت آخرت کی فکر کریں اور اس سفر کیلئے اچھے اعمال جمع کریں ۔




































