
کراچی(ویب ڈیسک)سٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ 2ماہ کیلئے نئی مالیاتی پالیسی میں شرح سود 13.25 فیصد برقرار رکھنے
کا اعلان کر دیا۔
اسٹیٹ بینک نے 13.25 فیصد پر شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بین الاقوامی ادائیگیوں کا زور کم ہوا ہے۔مرکزی بینک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ مہنگائی کی رفتار ابھی بھی بلند سطح پر ہے، اشیا خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کا جواز بن رہے ہیں۔ جون 2019 کے مقابلے روپیہ 5.6 فیصد مستحکم ہوا۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ ادائیگیوں کا توازن کا بہتر ہونے سے روپے کی قدر کو سہارا ملا۔ رواں مالی سال ترقی کی شرح 3.5 فیصد متوقع ہے۔ مالی سال2019-20 میں مہنگائی کی شرح 11 سے 12 فیصد تک رہے گی۔
گزشتہ مانیٹری پالیسی اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے اچھے اثرات آرہے ہیں، کرنٹ اکاونٹ 4سال بعد اکتوبر 2019 میں سرپلس رہا، تجارتی خسارے میں کمی بھی بہت اہم ہے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں مہنگائی کی شرح میں کمی ہوتی دیکھ رہے ہیں، کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مہنگائی کی توقعات مستحکم رہیں گی۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مالیاتی دور اندیشی کے سبب مارکیٹ کے احساسات بتدریج بہتر ہورہے ہیں، بیرونی کھاتوں پر دباو کم ہورہا ہے، پہلے 4ماہ میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ 5اعشاریہ 73فیصد سے کم ہوکر 5اعشاریہ 1ارب ڈالر رہ گیا ہے جبکہ برآمدات میں معقول نمو ہورہی ہے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ارب 16 کروڑ ڈالر اضافہ ہوا۔مانیٹری پالیسی کے اعلان کے دوران مرکزی بینک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ جاری کھاتوں میں بہتری دیکھی جا رہی ہے۔




































