
کراچی ( انٹرویو : زین صدیقی ،عکاسی :محمد سعاد ) تحریک آزادی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے اور مشکل حالات کا سامنا کرنے والے
اس وقت کے 14سالہ لڑکے اور آج کے 87سالہ بزرگ عبد الرزاق نے کہا ہے کہ مسلمانوں نے آزادی کیلئے بڑی تکالیف اٹھائی ہیں . اس وقت میں 14سال کا تھا جب میں نے تحریک آزادی کے تلخ لمحات دیکھے ۔1946میں علیحدگی کے تحریک سامنے آئے،آل انڈیا مسلم لیگ اس کا مرکز تھی ۔
یہ بات انہوں نے یوم آزادی پاکستان کے سلسلے میں رنگ نو ڈاٹ کام اور رنگ نو چینل سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔عبد الرزاق نے کہا کہ ہمیں حکم ملا جو لوگ مسلم لیگ کے حامی ہیں اورپاکستان جانا چاہتے ہیں وہ یہاں سے کیمپوں میں چلے جائیں ،انہوں نے کہا کہ ہم انبالہ کے گاؤں کے رہائشی تھے ۔ہم کیمپوں میں چلے گئے ۔میں میرے والد اور والدہ اوربہن بھائی پاکستان آگئے ۔
عبدالرزاق نے کہا کہ جب انگر یزکی برصغیر پرسے حکومت ختم ہوئی تو اسی روز سے ہندوؤں نے مسلمانوں پر مظالم ڈھانے شروع کر دیئے ۔مسلمانوں سے ناروا سلوک کیا جاتا ہے ۔ان کو جہاں بھی دیکھا جاتا ان کے گر گھیراڈال کرآگ لھا دی جاتی تھی ۔مسلمانوں کیلئے کنوؤں میں زہر ملادیا جاتا تھا تاکہ مسلمان زہر سے مرجائیں ۔طر ح طرح کی سازشیں کی جاتیں تھیں ۔ہماری ماؤں ،بہنوں بیٹیوں کو اغوا کیا گیا ،بچو ں کو قتل کیا گیا ۔
عبدالرزاق نے بتایا کہ ان کے والد کو ہندو ¿ں نے اغوا کیا اور انہیں قتل کرنے لگے تو ان کے ساتھیوں میں سے ایک نے کہا کہ اس شخص کو اس جگہ مارنا مناسب اسے کسی دوسرے گاو ¿ں لے کر چلتے ہیں وہاں قتل کریں گے ۔
عبدالرزاق نے بتایا کہ ان کے والد کے سر پر چارپائی رکھ دی گئی تھی کہ یہ لے کر چلو جب وہ آگے چل رہے تھے ،توہندوؤں نے انہیں کہا کہ تم تیز کیوں چل رہے ہو، آہستہ چلو،میرے والد نے انہیں کہا کہ یہ بات ہے تو میں تمہارے پیچھے چلتا ہوں ،میرے والد ان کے پیچھے چلنے لگے ایک وقت آیا کہ میرے والد تھوڑا آہستہ چلتے گئے، جبکہ ہندوآپس میں باتیں کرنے میں مشغول تھے کہ چلتے چلتے ایک گاؤں آیا جہاں گنے کے کھیت تھے وہ موقع پا کر ان گنے کے کھیتوں میں چلے گئے اور وہاں سے نکل کر اپنے گھر شام کے وقت پہنچے ،ہم نہایت پریشان تھے اور سمجھ رہے تھے کہ شاید خدا نخواستہ انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ نہ سمجھا جائے جہ سکھ ہمارے دوست ہیں ،سکھ اس وقت کے ہمارے بڑے دشمن تھے۔انہوں نے مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ۔انہوں نے کہا کہ ہندوو ¿ں نے مسلمان لڑکیوں کی عزتیں تار تار کیں ،پاکستان لاکھوں قربانیوں نے بعد بنا ہے ،نئی نسل اس سے آگا نہیں ،انہیں اصلاف کی قربانیوں سے آگاہ ہونا چاہیے ۔




































