
ہلی اننگز مکمل ہوئی تو مائیک ہیزمین نے ہاشم آملہ سے سوال کیا کہ یہ وکٹ اور یہ ٹارگٹ کہیں کم تو نہیں پڑ جائے گا؟ جس پر ہاشم آملہ نے جواب دیا کہ نہیں، جس طرح کی سستی اس وکٹ میں ہے، یہاں کسی
بلے باز کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے کافی ساری ڈاٹ بالز کھیلنا پڑتی ہیں۔
اس تناظر میں ہاشم آملہ کا خیال درست تھا کہ تعاقب کا دباؤ اور وکٹ کی چال بازی اس ہدف کو ناممکن نہیں تو کم از کم مشکل ضرور بنا دے گی۔ ویسے بھی جو شہرت پاکستانی بیٹنگ لائن اپنا چکی ہے اس اعتبار سے یہ مشکل ہدف ہی تھا۔
جنوبی افریقہ نے بیٹنگ میں کوئی نمایاں غلطی نہیں کی۔ جہاں ڈی کوک اور ڈیل سٹین کی خدمات میسر نہ تھیں، وہاں ہاشم آملہ کے سامنے پہلا ہدف یہی تھا کہ بغیر کسی ڈرامائی صورت حال میں پہنچے، ایک قابلِ قدر ٹوٹل تشکیل دیا جائے۔





































