
عمر کوٹ:صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر میں لوگ خودکشی کر کے اپنی جانوں سے جا رہے ہیں۔
سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق 2017 میں 97 تھری مرد و خواتین نے خودکشی کے ذریعے اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ جبکہ 2018 میں یہ تعداد 71 تھی ۔
سندھ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سن 2017 اور 2018 میں 200سے زائد افراد، جن میں بچے بھی شامل تھے،خودکشی کرچکے ہیں۔ جبکہ خودکشی کی کوشش کرنے والے ساڑھے تین سو سے زائد افراد کو یا تو بچا لیا گیا یا پھر وہ اپنی زندگیوں کے خاتمے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
نفسیات اورسماجی علوم کےماہرین کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی بدترین غفلت نے تھرپارکرکو موت کی وادی میں تبدیل کردیا ہے۔ تھر کے باشندوں کو زندگی میں کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی،کیونکہ وہاں پر ہر طرح کی سہولتوں کا فقدان ہے۔
تھر کے دوردراز علاقوں میں آپ کو غربت کی بدترین سطح دیکھنے کو ملتی ہے ،وہاں نہ پینے کا صاف پانی میسر ہے نہ بجلی ہے نہ گیس ، نہروں کی صفائی کا کوئی انتظام ہے اور نہ طبی سہولتیں،اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آپ کے پاس کوئی روزگار بھی نہ ہو تو پھر زندہ رہنا اور مر جانا بے معنی ہو جاتا ہے۔




































