
ٹنڈوآدم ( رپورٹ :سلمان غوری ) گورنر سندھ عمران اسماعیل نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کو لندن میں
علاج کرانے کے بجائے واپس ملک آکر اپنے مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے کیونکہ لندن کی بازاروں اور گلیوں میں وہ جس طرح رٹیل تھراپی کرا رہے ہیں، اس سے ان کا وقار گررہا ہے،جبکہ مولانا فضل الرحمان کے پلان اے اور بی کا سلسلہ اب پلان ڈی اور ایچ میں داخل ہوچکا ہے اور بہت جلد ان کا پلان زیڈ بھی آجائے گا۔
ضلع سانگھڑ کے تعلقہ جام نواز علی میں سابق وفاقی وزیر نوابزادہ جام معشوق علی خان کی پہلی برسی کی تقریب کے دوران میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے گورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ میاں نواز شریف بیماری کی وجہ بتا کر لندن گئے ہیں مگر لندن کی بازاروں اور گلیوں میں ان کی تصاویر اور وڈیوز دیکھ کر بہت افسوس ہو رہا ہے اور ایسا لگ رہا ہے کہ لندن کی بازاروں میں ان کی رٹیل تھراپی ہو رہی ہے۔اس سے اچھا ہے کہ نواز شریف واپس ملک آکر اپنے مقدمات کا سامنا کریں۔
انہوں نے کہا کہ نواز شریف لندن میں اسی گھر میں رہائش پذیر ہیں جو ملکیت انہوں نے تاحال اپنے اثاثوں میں ظاہر تک نہیں کی۔
گورنر سندھ نے کہا کہ نواز شریف کے ایسے اعمال دیکھ کر ان پر اندھا عقیدہ رکھنے والے ووٹرز کو افسوس تو بہت ہی ہوا ہوگا اور وہ سوچ رہے ہونگے کہ نواز شریف ہمیشہ مشکل وقت میں انہیں اکیلا چھوڑ کر ملک سے باہر چلے جاتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مولانا کا شو فلاپ ہو چکا ہے اور آج تک یہ پتا نہیں چل سکا کہ وہ کیوں ڈھرنے کے لئے آئے تھے اور واپس کیوں چلے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ڈھرنے کے بعدسڑکیں بلاک کرنا ان کا پلان بی تھا مگر اب کا پلان ڈی اور ایچ مراحل میں داخل ہو چکا ہے اور تمام جلد ان کا پلان زیڈ بھی آجائے گا۔
ایک اورسوال پرگورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد ٹڈی دل سے بچاؤ کے لئے اسپرے کرانا اور کتے کے کاٹنے سے بچاؤ کی ویکسین کا بندوبست کرنا صوبائی حکومتوں کا کام ہے مگر اس کے باوجود بھی سندھ کی وزیر صحت نے ان سلسلے میں مدد کے لئے وفاق کو ایک خط بھی لکھا ہے۔
گورنر عمران اسماعیل نے بتایا کہ بہت جلد وفاقی حکومت ٹڈی دل سے بچاؤ کے لئے اسپری کرانے، کتے کے کاٹنے سے بچاؤ کی ویکسین، ایڈز اور پولیو کی بیماری سے بچاؤ کے لئے اقدامات اٹھانے کے لئے مدد فراہم کرے گی جبکہ اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت سے بھی ایک معاہدہ ہوچکا ہے۔
اس موقع پر جام معشوق علی خان کے بھائی نوابزادہ جام ذوالفقار علی خان، نواب جام کرم علی خان، پاکستان پیپلز پارٹی کے ایم پی اے جام مدد علی، پاکستان تحریک انصاف کے رہنماء جام فاروق علی خان ، جام نفیس علی ، جام نور علی خان اور دیگر بھی موجود تھے۔




































