
کراچی ( نمائندہ رنگ نو ) سندھ کے طبی شعبےکو جدیدخطوط پر استوار کرنے کے لیے عالمی معیار کی درجہ بندی متعارف کروانے کا منصوبہ ابتدائی
مراحل میں ہے جس کے بعد ہسپتالوں کی کارکردگی اورسہولیات کی بنیاد پر گریڈنگ کی جاسکے گی۔عطائی معالجین اورجعلی ڈاکٹرزمعاشرے کےلیےخطرہ ہیں۔ ان کے خلاف بھی بھرپور مہم جاری ہے۔
ان خیالات کا اظہارسندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کےچیف ایگزیکٹواحسن قوی صدیقی نےگزشتہ روزبیت الحکمہ آڈی ٹوریم،مدینتہ الحکمہ کراچی میں ہمدرد یونی ورسٹی ہسپتال تاج کمپلیکس اور نعمت بیگم ہمدرد یونی ورسٹی ہسپتال کو ریگولرلائسنس سرٹیفکیٹ دینےکی خصوصی تقریب میں کیا۔ تقریب کی صدارت ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد ہلال امتیاز نے کی ۔
احسن قوی صدیقی نےمزید کہا کہ اعلا معیاری ہیلتھ کیئرسےمراد مریض کی ضرورت کےمطابق اسےجدید طبی سہولیات سہل انداز میں اورمناسب قیمت پر دستیاب ہوں۔ ہمدرد پاکستان کے ہسپتالوں نے اعلیٰ معیارات قائم کرکےسندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے قواعد و ضوابط کی پاسداری و تعمیل یقینی بنائی ہے جو قابل ستائش ہے۔ یہ ادارہ عظیم پاکستانی شہید حکیم محمد سعید نے وطن عزیز کی خدمت کے لیے بنایا ہے۔ اس لیے اس سے دیگر کے مقابلے زیادہ توقع کی جاتی ہے۔ معیارات قایم رکھنا ایک مسلسل عمل ہے۔ ہمیں روز اپنا محاسبہ کرنا ہوتاہے۔ہیلتھ کیئر میں صرف ڈاکٹرز اور نرسیں ہی شامل نہیں ہوتے، بلکہ ہسپتال کے منتظمین بھی اہم اسٹیک ہولڈرزہوتے ہیں۔

ہمدرد ہسپتال کے چیف ایگزیکٹو بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر ریاض الحق نے کہا کہ آج اطمینان کا لمحہ ہے۔ ہمارے ہسپتالوں کو طبی کاوشوں کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ یہ کامیابی ہماری محنت، لگن اور انتھک کوششوں کا نتیجہ ہے۔
تقریب میں ہمدرد یونی ورسٹی کےوائس چانسلر پروفیسرڈاکٹرسید شبیب الحسن،سینٹرفارایکسیلنس کی سربراہ محترمہ احسانہ ڈاراوردیگرنےبھی شرکت کی۔ تقریب کے اختتام پر محترمہ سعدیہ راشد نے ہمدرد ہسپتالوں کے سرٹیفکیٹ وصول فرمائے اور معزز مہمانوں کو ہمدرد کی تعریفی شیلڈز عطا کیں۔





































