
سرینگر (ویب ڈیسک ،خبر ایجنسی) مقبوضہ کشمیر میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق
رکھنے والے لوگوں نے بھارتی فوج کے سابق سربراہ اور موجودہ چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت کے حالیہ بیان کی شدید مذمت کی ہے جس میں انہوں نے کشمیری نوجوانوں کیلئے نازی طرز کے عقوبت خانے قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنرل راوت نے نئی دلی میں ایک کانفرنس سے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ کشمیری نوجوانوں میں انتہا پسندی کو فروغ دیا جا رہا ہے جن کی نشاندہی کرکے انہیں انتہا پسندی ختم کرنے والے کیمپوں میں ڈالا جانا چاہیے ۔
سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر کے پولیٹیکل سائنس کے پروفیسر نور احمد بابا نے کہا کہ بھارت اب کشمیر میں تمام سیاسی اختلافات کو کچلنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جسے سیاسی طریقے سے حل کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ ایسے کیمپس قائم کرنے کی جس کا عندیہ جنرل راوت نے دیاہے۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن ساکت گوکھلے نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہے کہ انہوں نے بھارت میں تعذیب خانوں کے بارے میں سنا ہے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند تنظیموں نے بھی اپنے بیانات میں پہلے ہی کہا ہے کہ انتہا پسندی کو ختم کرنے کے نام پر کشمیری نوجوانوں کو ان تعذیب خانوں میں تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔دریں اثناءوادی کشمیر میں مسلسل 167ویں روز بھی بھارت کی طرف سے نافذ کردہ فوجی محاصرہ اور انٹرنیٹ پر پابندی بدستور جاری رہی۔





































