
سری نگر (ویب ڈیسک) آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے علاوہ دنیا بھر میں مقیم کشمیری عوام نے بھارت کے یوم آزادی پر یوم سیاہ
منایا۔ مقبوضہ کشمیر میں یوم سیاہ کے موقع پر مکمل ہڑتال رہی جبکہ آزاد کشمیر بھر میں بھارت کے خلاف احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہرے ہوئے۔
بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے بھارت کے خلاف مظاہرے اور ریلیاں نکالیں۔مقبوضہ کشمیر میں ہڑتال کے اعلان کے بعد بھارتی انتظامیہ نے غیر اعلانیہ کرفیو نافذ کر دیا۔
موبائل سروس اور انٹرنٹ سروس بھی بند کر دی گئی ہے۔۔ حریت رہنما سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے بھارت کے خلاف احتجاج کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں یوم جمہوریہ منانے کا حق نہیں رکھتا۔قابض بھارتی حکام نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے متوقع احتجاج کو روکنے کے لیے حفاظت کے نام پر انتہائی سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے ہیں۔
سری نگر سمیت دیگر تمام شہروں و علاقوں میں فوج اور دیگر سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ کے پی آئی کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے آزاد کشمیر میں یوم سیاہ کے حوالے سے احتجاجی جلسے جلوس اور مظاہرے ہوئے۔ جس میں سیاسی رہنماوں انجمن تاجران کے رہنماں، وکلا اور سول سوسائٹی کی سرکردہ شخصیات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد شرکت کی۔اسلام آباد میں حریت کانفرنس نے بھارتی ہائی کمشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا۔





































